نئی دہلی،سماج نیوز سروس: عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے مرکزی نریندر مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوج میں روکی گئی بھرتی کے عمل کو جلد از جلد دوبارہ شروع کیا جائے۔ جمعہ کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ مودی حکومت فوج میں بھرتی روک کر نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2019 سے 2022 تک تھل فوج اور فضائیہ میں تقریباً 1.30 لاکھ نوجوانوں نے امتحانات پاس کیے، لیکن آج تک انہیں تقرری نامے جاری نہیں کیے گئے۔ حکومت سے اپیل ہے کہ فوج میں بھرتی کا عمل فوری طور پر کھولا جائے اور جن نوجوانوں نے تمام مراحل مکمل کر لیے ہیں، انہیں تقرری نامے دے کر بھرتی کیا جائے۔ ساتھ ہی فوج میں سیواداری کی روایت کو ختم کیا جائے اور جوانوں کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔جمعہ کو راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ بھارتی فوج ملک کا فخر ہے اور فوج میں بھرتی ہونا ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے۔ سال 2019 سے 2022 تک تھل فوج کے لیے ملک بھر کے تقریباً 1 لاکھ 23 ہزار نوجوانوں نے جسمانی اور طبی جانچ کے مراحل مکمل کیے اور امتحانات پاس کیے۔ اسی طرح فضائیہ کے لیے تقریباً 7 ہزار نوجوان کامیاب ہوئے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج وہ نوجوان ذہنی دباؤ، مایوسی اور تکلیف کا شکار ہیں اور اپنے آخری تقرری نامے کے منتظر ہیں۔سنجے سنگھ نے کہا کہ ہریانہ، راجستھان، اتر پردیش، پنجاب اور بہار سمیت ملک کے مختلف حصوں سے نوجوان بڑی ہمت اور حوصلے کے ساتھ فوج میں شامل ہونے کے لیے تیاری کرتے ہیں۔ ان کی مائیں انہیں دودھ پلا کر صبح دوڑ کے لیے بھیجتی ہیں۔ وہ اس جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں کہ اگر صفر سے 50 ڈگری نیچے درجہ حرارت میں سیاچن میں یا 50 ڈگری گرمی میں جیسلمیر میں بھارت ماتا کی حفاظت کرنی پڑے تو وہ اپنی جان قربان کر دیں گے۔ لیکن حکومت نے اگنی ویر جیسی اسکیم لا کر بھارتی فوج اور ملک کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔اپنی تقریر کے اختتام پر سنجے سنگھ نے جونپور میں ملنے والے ایک فوجی جوان ہریندر یادو کا ذکر کیا، جس نے اپنی تکلیف اور درد کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جوان اپوزیشن اور حکمراں جماعت دونوں کے رہنماؤں کے سامنے رو پڑا۔












