برلن، (یو این آئی) جرمنی کے صدر فرینک والٹر اسٹین مائر نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ موجودہ عالمی نظام اور جمہوریت کو نقصان پہنچا رہا ہے اور دنیا کو اس بات سے بچانا ہوگا کہ طاقت ور ممالک اپنے مفادات کے لیے عالمی نظام کو لٹیروں کے غول میں تبدیل کردیں۔ برلن میں بدھ کے روز منعقدہ ایک سمپوزیم میں خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر فرینک والٹر اسٹین مائر نے کہا کہ عالمی قوانین اور اتحاد کو نظر انداز کیا گیا تو دنیا ایک ایسی جگہ بن جائے گی جہاں طاقت ور ممالک کم زور ریاستوں کو اپنی مرضی کے تابع کر لیں گے۔ جرمن صدر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ موجودہ عالمی نظام کو ایک لٹیروں کے غول بننے سے بچائے، جہاں بے اصول عناصر کمزور ممالک کا استحصال کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا امریکہ وہ ملک ہے جس نے عالمی نظام کی تشکیل اور مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن اب وہی ملک بنیادی اقدار کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ امریکہ کا موجودہ رویہ ایک اور بڑے تاریخی بحران کی نشان دہی کرتا ہے۔ فرینک والٹر نے کہا معاملہ صرف قوانین کی خلاف ورزی یا عالمی نظام کی کمزوری پر شکایت تک محدود نہیں رہا، بلکہ نقصان بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ آج عالمی جمہوریت کو ایسے خطرات لاحق ہیں جیسے اس سے پہلے کبھی نہیں تھے۔ صدر اسٹین مائر نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ عالمی جمہوریت کو تاریخ میں پہلی بار اس درجے کے خطرے کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا ہمارے سب سے اہم شراکت دار، امریکہ، کی جانب سے اقدار کا انہدام ہو رہا ہے، حالاں کہ اسی امریکہ نے اس عالمی نظام کی تشکیل میں مدد کی تھی۔ جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 76 فی صد جرمن شہریوں کا ماننا ہے کہ امریکہ جرمنی کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار نہیں رہا۔ یہ شرح جون 2025 کے مقابلے میں 3 فی صد پوائنٹس زیادہ ہے۔ صرف 15 فی صد افراد امریکہ پر اعتماد کرتے ہیں، جو اس جاری سروے میں اب تک کی کم ترین سطح ہے۔ اس کے برعکس، تقریباً تین چوتھائی جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ وہ فرانس اور برطانیہ پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، 69 فی صد افراد یورپ کی سلامتی کے بارے میں فکرمند ہیں اور ان کا خیال ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک امریکہ کے تحفظ پر انحصار نہیں کر سکتے۔












