• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 25, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

پسماندہ افراد کو اپنے برابر لانے کی جدو جہد کیجیے

جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے،اللہ اس کی حاجت پوری کرتا ہے

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 19, 2023
0 0
A A
پسماندہ افراد کو اپنے برابر لانے کی جدو جہد کیجیے
Share on FacebookShare on Twitter

سراج الدین ندوی
سماج میں بہت سے لوگ معاشی حیثیت سے پچھڑے ہوئے ہیں۔کچھ لوگوں کو سماج میںذات برداری کے نام پر نیچ اور حقیر سمجھتاجاتاہے (اسلام کی نظر میں ایسا سمجھنا گناہ ہے )۔ کچھ لوگ سماج میں باعزت ہوتے ہیں مگر اندر خانہ ٹوٹے ہوئے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔ وہ خود داری کی بنا پر اپنی ضرورتیں بھی لوگوں کے سامنے نہیں رکھ پاتے۔ بعض افراد اتنے لاچاراوربے بس ہوتے ہیں کہ وہ دوسروںکے سامنے اپنی ضرورت رکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ سماج کے یہ تمام ضرورت مند اور لاچار ومجبور ہماری توجہ اور ہمدردی کے مستحق ہیں۔قرآن پاک نے ایسے ضرورت مندوں کا ہمارے مال میں حق بتایا ہے۔ان(مسلمانوں) کے مالوں میں حق ہے مانگنے والے اور محروم کا۔“
یہاں مانگنے والے سے پیشہ ور بھکاری مراد نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو اپنی حقیقی ضرورت آپ کے سامنے رکھتے ہیں اور بحالتِ مجبوری زبان کھولتے ہیں۔ ایسے جولوگ آپ کے سامنے اپنی ضرورت رکھیں اور آپ محسوس کریں کہ وہ واقعی ضرورت مند ہےں تو ان کی مدد کیجئے یا کسی دوسرے سے امدادکرائیے اوراگر کچھ بھی نہ کرسکتے ہوں تو نہایت پیار ومحبت سے معذرت کرلیجئے اور کوئی اچھی بات کہہ کر اجر وثواب حاصل کیجئے۔کوئی بھی شخص اگر آپ کے سامنے دست سوال دراز کرے تو اس کو حقارت سے نہ دیکھئے اور نہ ہی اسے برا بھلا کہئے اور نہ ڈانٹ ڈپٹ کیجئے ۔قرآن نے ہمیں حکم دیاہے،”ضرورت مند جب اپنی ضرورت کے بارے میں سوال کرے تو اسے جھڑکو مت۔“شریف آدمی نہایت مجبوری میں اپنی ضرورت کا اظہار دوسروں کے سامنے کرتا ہے۔ یاد رکھئے کہ آج اگر کوئی ضرورت مند ولاچار ہے تو کل وہ خوش حال بن سکتا ہے اور جو آج خوش حال ہے وہ کل مفلس وگدا بن سکتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ خدا سے ڈرتے رہیے۔ ضرورت مندوں ،پسماندہ لوگوں اورمصیبت زدہ افراد کے دکھ درد میں ان کے کام آتے رہیے۔اللہ کی نظر میں مجبور وبے کس اور مصیبت زدہ مسکین کی بڑی وقعت ہے۔ ان کی مدد کرکے اپنے خدا کی خوشنودی اور اس کے رحم وکرم کا مستحق بنئے۔حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا، تو دیکھا کہ داخل ہونے والے عموماً مساکین ہیں۔(مسلم)کسی پریشان حال ،مجبور اور ضرورت مند کی مدد کرنے کو اللہ نے اپنی مدد کرنے کے برابرقرار دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:”اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا۔“(سورہ محمد:۷) جو شخص غریبوں ،پسماندہ لوگوںاور ضرورت مندوںکے کام آتا ہے اللہ تعالیٰ ان کے کام آتا ہے۔ ان کے بگڑے ہوئے کام بناتا ہے۔ ان کی پریشانیاں دور کرتا ہے۔ آنحضور ﷺنے ارشادفرمایا:
”جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا رہتا ہے ، اللہ اس کی حاجت پوری کرتا رہتاہے اور جو کوئی مسلمان کی مصیبت کو دور کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کی مصبیتوں میں سے کسی بھی مصیبت کو اس سے دور کرے گا۔“ (بخاری ومسلم)اللہ کے رسول نے نہ صرف مسلمانوںکو یہ حکم دیا کہ وہ غریبوں اور ضرورت مندوں کے کام آئیں بلکہ خود اس پر سب سے بڑھ کر عمل کیا۔ سیرت میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔
جب آپ دنیا سے رخصت ہوگئے تو حضرت ابو بکرؓ نے دیکھا کہ ایک بچی رورہی ہے۔آپ نے پوچھا: ”بیٹی! کیوں رورہی ہو؟“ بچی نے جواب دیا :” اللہ کے رسول تو اس دنیا سے رخصت ہوگئے اب ہماری بکری کون دوہا کرے گا؟“ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: ”روؤ مت!تمہاری بکریاں میں دوہا کروںگا“۔صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین بھی ضرورت مندوں کی تلاش میں رہتے اور ان کی خدمت کرتے، ان کی ضرورتیںپوری کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے۔
ایک بار حضرت عمرؓ کو معلوم ہو اکہ ایک بڑھیا بے سہارا ہے، آپﷺ تو خدمتِ خلق کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہی تھے۔ روزانہ علی الصباح بڑھیا کے گھر جاتے ، جھاڑو لگاتے، پانی بھر کر رکھ دیتے۔ ضرورت کی چیزیں رکھ آتے۔ چند دن کے بعد آپﷺ کو احساس ہوا کہ کوئی شخص مجھ سے پہلے ہی آکر بڑھیا کے تمام کام کرجاتا ہے۔آپﷺ پتہ لگانے کے لیے ایسے وقت بڑھیا کے گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے جب کہ کافی رات باقی تھی۔ ابھی ہر طرف سناٹا تھا اور رات کی تاریکی چھائی ہوئی تھی کہ ایک شخص آیا۔اس نے بڑھیا کے گھر میںجھاڑو لگائی۔ پانی بھرا اور ضرورت کا سامان رکھ کر جانے لگا۔ حضرت عمرؓ تاریکی کی وجہ سے پہچان نہ پائے۔ جب دروازہ سے نکلے تو آگے بڑھ کر دامن پکڑ لیا دیکھا تو خلیفۂ وقت حضرت ابوبکرؓ ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ تو کسی یتیم اور مسکین کے بغیر کھانا نہیںکھاتے تھے۔جب کھانے کا وقت ہوتا تو مدینہ کی گلیوںمیں نکل پڑتے تاکہ کسی مسکین ،یتیم یاضرورت مند کو تلاش کرکے اپنے ساتھ لائیں اور اس کے ساتھ کھانا کھائیں۔خلیفہ ثانی حضرت عمرؓکے تعلق سے تو تاریخ نے اپنے اندر ایسے بہت سے واقعات محفوظ کررکھے ہیں۔آپ اکثرراتو ں کو مدینہ سے باہر نکل پڑتے ، دور دراز کی آبادیوں اور صحرا وریگستان میں گشت کرتے تاکہ لوگوں کے حالات معلوم کریں، لوگوں کی مصیبت وتکلیف اور ضرورت وپریشانی جاننے کی کوشش کرتے اور پھر ان کی ضرورتیں رفع فرماتے۔ ان کا صرف ایک واقعہ یہاں نقل کیا جارہا ہے۔
”ایک دن کی بات ہے۔آپ گشت لگانے نکلے۔ گھومتے پھرتے دور نکل گئے۔ واپسی میں ایک جھونپڑی پر نظر پڑی۔ دیکھا کہ ایک عورت چولہا جلائے بیٹھی ہے۔ چولہے پہ ہانڈی چڑھی ہوئی ہے اور اس کے بچے رورہے ہیں۔ عورت انہیں بہلارہی ہے مگر وہ کسی طرح خاموش نہیں ہوتے۔ بچوں کو روتا بلکتا دیکھ کر حضرت عمرؓ کا دل بھر آیا، قریب گئے۔ دیر تک دیکھتے رہے مگر ان کی سمجھ میںنہ آیاکہ ماجرا کیا ہے؟ آخر عورت کے پاس جاکر بچوں کے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے بتایاکہ یہ بچے بھوک کے مارے بلک رہے ہیں۔”انہیں کھانا کیوں نہیں دیتیں؟“ حضرت عمرؓ نے پوچھا:”میں اتنی دیر سے کھڑا دیکھ رہا ہوں، تمہاری ہانڈی چڑھی ہے ۔آخر یہ کب تیار ہوگی؟“”ہانڈی میں کچھ ہے ہی نہیں۔“ عورت نے جواب دیا:” بچوں کو بہلانے کے لیے صرف پانی چڑھادیاہے، چاہتی ہوں کہ کسی طرح انہیں نیند آجائے اور یہ سوجائیں۔
حضرت عمرؓ نے دیکھا تو واقعی ہانڈی میں صرف پانی اور کچھ کنکریاں تھیں۔ ا س کی وجہ یہ تھی کہ کچھ کھانے کو نہیں تھا۔ بچے بھوک سے بے حال ہورہے تھے۔ ان کی تسلی کے لیے عورت نے چولہا جلاکر ہانڈی میں پانی اور کنکریاں ڈا ل دی تھیںتاکہ بچے سمجھیں کہ کھانا پک رہا ہے، کچھ دیر میں نیندآجائے گی اور یہ سوجائیںگے پھر کسی نہ کسی طرح رات کٹ جائے گی۔ عورت بیچاری بیوہ تھی۔گھر میں کمانے والا کوئی نہ تھا اور نہ ہی اب تک وظیفہ بیت المال سے مقرر ہواتھا۔
دردوغم کی یہ داستان سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ آپؓ نے درد بھرے لہجے میں کہا:”مائی! خلیفہ کو تم نے اطلاع کیوں نہ دی؟“
عورت بولی:”میرے او رعمرؓ کے درمیان خدا فیصلہ کرے گا۔میں عورت ذات کس سے کہتی پھروں۔ اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی رعایا کی خبر گیری کرے۔ اگروہ اپنا فرض پورانہیں کرسکتاتھا تو وہ خلیفہ کیو ں ہوگیا؟“حضرت عمرؓ پر جیسے بجلی گرگئی ہو۔ یہ سن کر وہ فوراً بھاگے ہوئے بیت المال پہنچے۔ آٹا، گوشت، گھی اور کھجوریں اپنی پیٹھ پر لاد کر چلنے لگے تو آپ کے غلام نے کہا:’اے امیر المومنین! آپ کیوںتکلیف کررہے ہیں؟ لائیے میں پہنچا دوں۔“حضرت عمرؓ نے کہا:”نہیں ! جب قیامت میں تم میرا بوجھ نہیں اٹھاسکتے تو آج میں تم سے کیوں اٹھواؤں۔“
یہ کہہ کر آپ سارا سامان خود لاد کر اس عورت کے پاس پہنچے۔ خود بیٹھ کر آگ پھونکی۔ کھانا تیار کرنے پر بچوں کو پیٹ بھر کر کھلایا۔ بچے ہنسی خوشی سوگئے۔چلتے وقت عورت نے کہا:”خلیفہ بننے کے لائق تم ہو نہ کہ عمرؓ۔“حضرت عمرؓ بولے:”مائی! معاف کرنا، عمر میں ہی ہوں، مجھ سے واقعی غلطی ہوئی کہ اب تک تمہاری خبر نہ لی۔“اس کے بعد حضرت عمرؓ نے بیت المال سے عورت اور بچوں کا وظیفہ مقرر کردیا۔بہرحال غریب وپریشان حال آدمی سے تعلق قائم کیجئے۔اس کے دکھ درد بانٹئے، اس سے یارانہ جوڑیے۔ اس کے گھر آئیے جائیے اور اسے پہلے گھربلائیے۔ اس کے ساتھ کھائیے اور اسے اپنے ساتھ کھلائیے تاکہ خدا کی توفیق آپ کے شاملِ حال ہوسکے۔حضرت ابودردائؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدا ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ مجھے اپنے غریب اور کمزور لوگوںمیں تلاش کرو کیوں کہ تمہارے کمزور غریب لوگوں ہی کی وجہ سے تمہیں روزی دی جاتی ہے اور(دشمنوں کے مقابلہ میں) تمہاری مددکی جاتی ہے۔(ترمذی)
کسی شخص کی ضرورت پوری کرنا بڑی نیکی کاکام ہے۔ جس کام کو آپ معمولی سمجھتے ہیں اس کام کو کرنا بھی خدا کے نزدیک صدقہ ہے۔نبی کریمﷺ نے فرمایا:”بھولے بھٹکے اور کسی نابیناکو راستہ بتانا بھی صدقہ ہے۔“(ترمذی)آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تمہارا اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا تمہارے لیے صدقہ ہے۔ تمہارا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ ایسی جگہ راستہ بتانا جہاں لوگ راستہ بھول جاتے ہوں صدقہ ہے۔ جس شخص کی بصارت خراب ہو اس کی مدد کرنا تمہارے لیے صدقہ ہے، اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میںپانی دینا تمہارے لیے صدقہ ہے۔(ترمذی)

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    مارچ 25, 2026
    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    مارچ 25, 2026
    الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو  یقینی بنانے کے لیے بین ریاستی کوآرڈی نیشن کوتیز کیا

    الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے بین ریاستی کوآرڈی نیشن کوتیز کیا

    مارچ 25, 2026
    مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات طویل عرصے تک رہنے  کا خدشہ، ہر صورتحال کے لئے تیار رہنا ہوگا: نریندر مودی

    مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات طویل عرصے تک رہنے کا خدشہ، ہر صورتحال کے لئے تیار رہنا ہوگا: نریندر مودی

    مارچ 25, 2026
    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    مارچ 25, 2026
    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    مارچ 25, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist