واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ہر صورت میں کامیابی حاصل کر رہا ہے، چاہے ان مذاکرات کے نتائج کچھ بھی ہوں، جو تہران پر جاری فوجی اور سفارتی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ٹرمپ کے مطابق امریکہ ایران کے ساتھ انتہائی گہرے مذاکرات کر رہا ہے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اگر معاہدہ ہو بھی جائے تو انہیں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، جو واشنگٹن کی متبادل حکمتِ عملی پر اصرار کو ظاہر کرتا ہے۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اس علاقے کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنے پر کام کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے امریکی مائن سویپرز خطے میں موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا: ہم آبنائے ہرمز کو کھولیں گے چاہے ہم اسے استعمال کریں یا نہ کریں، جس کا مقصد بحری آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے ایران نے پانیوں میں چند بارودی سرنگیں بچھائی ہوں اور خبردار کیا کہ اگر کسی نے ایران کی مدد کی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ان کے مطابق اگر چین نے ایران کو اسلحہ بھیجا تو اسے بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب امریکا اور ایران کے درمیان غیر معمولی نوعیت کے مذاکرات جاری ہیں، جن کے اتوار تک جاری رہنے کا امکان ہے۔یہ پیش رفت اس جنگ کے چھ ہفتے بعد ہوئی ہے، جو 28 فروری کو ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان شروع ہوئی تھی اور جس کے بعد 8 اپریل کو پاکستان نے دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا۔دوسری جانب ایرانی پارلیمان کے اسپیکر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کسی ایسے معاہدے کے لیے تیار ہے جو اس کے حقوق کے ساتھ حقیقی معاہدہ ہو، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تہران امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا۔












