نئی دہلی، (یو این آئی) ہندوستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے اہم میچ میں زمبابوے کو 72 رن سے شکست دے کر ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک ‘ورچوئل کوارٹر فائنل کے لیے راہ ہموار کر لی ہے۔ اس میچ میں ابھیشیک شرما اور ہاردک پانڈیا کی نصف سنچریوں نے ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسٹار اسپورٹس کے پروگرام ‘امول کرکٹ لائیو پر بات کرتے ہوئے عظیم بلے باز سنیل گواسکر نے پلیئنگ الیون میں ہندوستانی تبدیلیوں کی تعریف کی اور ویسٹ انڈیز کی خطرناک بلے بازی کے خلاف خبردار بھی کیا۔گواسکر نے زمبابوے کے خلاف ہندوستان کی واپسی کی ستائش کرتے ہوئے کہا، "جنوبی افریقہ سے ملی شکست کے بعد ہندوستان نے زبردست واپسی کی ہے۔ اس ہار نے کھلاڑیوں کو دباؤ میں ڈال دیا تھا ، لیکن انہوں نے اس کا مثبت استعمال کیا۔”انہوں نے مزید کہا کہ پلیئنگ الیون میں کی گئی تبدیلیاں کارگر ثابت ہوئیں۔ سنجو سیمسن نے اگرچہ بڑی اننگز نہیں کھیلی لیکن انہوں نے 24 رن کی برق رفتار اننگز سے ٹیم کو وہ آغاز فراہم کیا جس کی کمی محسوس کی جا رہی تھی۔ گواسکر کے مطابق، پاور پلے میں 10 رن فی اوور کی رفتار نے میچ کا رخ طے کر دیا تھا۔سنجو سیمسن کی کلاس کے بارے میں گواسکر نے کہا، "سنجو نے بیک فٹ پر جو چھکا لگایا، وہ ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے ٹیم کے مفاد میں خطرہ مول لیا اور آؤٹ ہوئے، لیکن وہ ٹیم کو ایک بہترین پلیٹ فارم دے چکے تھے۔” ابھیشیک شرما کی 55 رن کی اننگز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھیشیک نے اپنے ناقدین کو خاموش کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بار زیادہ سمجھداری سے بلے بازی کی اور ضرورت پڑنے پر گیند کو ڈیفنڈ بھی کیا، جو ان کے سیکھنے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ویسٹ انڈیز کے چیلنج پر بات کرتے ہوئے گواسکر نے متنبہ کیا کہ ہندوستان انہیں کمزور تصور کرنے کی غلطی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا، "ویسٹ انڈیز کے بلے باز پہلی ہی گیند سے ہٹ مارنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کا گیند کو ‘احترام دینے کا طریقہ اسے باؤنڈری سے باہر بھیجنا ہے۔ ہندوستان کو ان کے خلاف ایک ٹھوس اور بہتر حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔” انہوں نے واضح کیا کہ اتوار کا میچ یہ فیصلہ کرے گا کہ ہندوستان سیمی فائنل میں جائے گا یا اسے 2028 کے ورلڈ کپ کا انتظار کرنا پڑے گا۔جنوبی افریقہ سے ملی شکست سے ہندوستان کا سبق اور ویسٹ انڈیز کے خلاف آگے کے چیلنج پر گواسکر نے کہا:”جیسا کہ کہا جاتا ہے، اگر چیزیں ٹوٹی نہیں ہیں تو انہیں ٹھیک کیوں کریں؟ لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف ہندوستان پوری طرح ٹوٹ گیا تھا۔ انہیں احساس ہوا کہ انہیں ٹاپ پر دائیں اور بائیں ہاتھ (رائٹ-لیفٹ) کے کمبی نیشن کی ضرورت ہے۔ پچھلے میچ سے سیکھنا بہت ضروری تھا۔ اب ویسٹ انڈیز ایک بالکل الگ چیلنج ہے۔ ان کے بلے باز ٹاپ فارم میں ہیں اور ان کے گیند باز اچھا کر رہے ہیں۔ وہ مخالف ٹیم کی غلطیوں کی سزا دیتے ہیں اور صحیح وقت پر حملہ کرتے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کی بلے بازی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کو ایک اچھے پلان کی ضرورت ہوگی۔ ان کے بلے باز پہلی گیند سے ہی شاٹ کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ جارحانہ انداز میں کھیلنا پسند کرتے ہیں اس لئے ہندوستان کو ہوشیاری سے کھیلنا ہوگا، منصوبے بنانے ہوں گے، اور ویسٹ انڈیز کو ایسے طریقے سے شکست دینی ہوگی جس کی انہوں نے امید نہ کی ہو۔ اتوار کا میچ یقینی طور پر ایک شاندار مقابلہ ہونے والا ہے۔”












