دمشق :شام کے وزیرِ خارجہ اسد الشیبانی نے کہا ہے کہ وہ بدھ کو ترکیہ کے اولین سرکاری دورے پر جائیں گے۔عبوری وزیرِ خارجہ اسد الشیبانی نے منگل کے روز کہا، "ہم کل ترکیہ کے پہلے سرکاری دورے پر نئی حکومت کی نمائندگی کریں گے جس نے 14 سالوں سے شامی عوام کو نہیں چھوڑا ہے۔”ترکیہ نے 2011 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد الاسد کی افواج سے لڑنے والے مسلح گروہوں کی حمایت کی۔ یہ خانہ جنگی حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال سے شروع ہوئی۔شام کا شمالی ہمسایہ تقریباً تیس لاکھ شامی باشندوں کا گھر ہے جو تنازعہ شروع ہونے کے بعد اپنے ملک سے فرار ہو کر ترکی آ گئے تھے اور الاسد کی معزولی سے امید پیدا ہو گئی ہے کہ ان میں سے کئی لوگ واپس چلے جائیں گے۔
شام کی بجلی کی اتھارٹی کے سربراہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کے بعد ترکیہ بجلی کی فراہمی میں اضافے کے لیے ایک پاور شپ بھیجے گا۔شمالی شام میں ترکیہ نے 2016 کے بعد سے شامی کرد افواج کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں جن پر وہ "دہشت گرد” ہونے کا الزام لگاتا ہے۔برطانیہ میں قائم جنگی مانیٹر سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق فضائی حملوں کی مدد کے ساتھ ترکیہ کے حمایت یافتہ گروپوں اور کردوں کے زیرِ قیادت افواج کے درمیان لڑائیوں میں حالیہ مہینوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
الشیبانی اس مہینے کے آغاز سے ہی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن کا دورہ کر چکے ہیں۔اس کے علاوہ اٹلی، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ بھی دمشق کا دورہ کر چکے ہیں۔












