نئی دہلی (یو این آئی) امریکہ اور ویسٹ انڈیز کی میزبانی میں ہونے والے ٹی-20 ورلڈ کپ میں پچوں کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اس بار اب تک کھیلے گئے لیگ میچوں میں بلے کے بجائے گیند کا جلوہ نظر آرہا ہے اور گیندباز میچ کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
اب تک کھیلے گئے 21 لیگ میچوں میں گیندبازں نے اس طرح غلبہ حاصل کیا ہے کہ کوئی بھی بلے باز سنچری تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ چاہے وہ کمزور ٹیم کے خلاف میچ ہو یا مضبوط ٹیم کے خلاف۔
سب سے زیادہ وکٹیں لینے کے معاملے میں افغانستان کے بولر فضل الحق فاروقی دو میچوں میں نو وکٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ جنوبی افریقہ کے اینریک نورکھیا تین میچوں میں نو رن فی اوور کی اوسط سے آٹھ وکٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے عقیل حسین دو میچوں میں سات رن کی اوسط سے چھ وکٹیں لے کر تیسرے نمبر پر ہیں، افغانستان کے راشد خان دو میچوں میں آٹھ رن کی اوسط سے چھ وکٹیں لے کر چوتھے نمبر پر ہیں۔ عمان کے مہران خان تین میچوں میں آٹھ رن فی اوور کی اوسط سے چھ وکٹوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔
ہندوستان کے اسٹار گیند باز جسپریت بمراہ دو میچوں میں 8.40 کی اوسط سے چھ وکٹیں لے کر چھٹے نمبر پر ہیں۔ جنوبی افریقہ کے اوٹینیل بارٹ مین تین میچوں میں 14.40 کی اوسط سے پانچ وکٹوں کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہیں۔ سری لنکا کے نووان تھشارا اور نیدرلینڈ کے لوگن وین وِک دو میچوں میں 8.40 کی اوسط سے پانچ وکٹوں کے ساتھ مشترکہ آٹھویں اور نویں نمبر پر ہیں۔ یوگانڈا کے برائن مسابا تین میچوں میں 14.40 کی اوسط سے پانچ وکٹوں کے ساتھ دسویں نمبر پر ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر سات گیندبازوں نے سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا کارنامہ انجام دیا ہے جن میں سے چار بولرز کا تعلق ایشیا سے ہے۔ سال 2007 اور 2009 میں پاکستان کے عمر گل، سال 2021 اور 2022 میں سری لنکا کے وینندو ہسرنگا وہ دو گیند باز ہیں جنہوں نے اس مقابلے میں دو مرتبہ سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 جون سے شروع ہو چکا ہے اور اس کا فائنل 29 جون کو کینسنگٹن اوول میں کھیلا جائے گا۔












