واشنگٹن :امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو پیر کو سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ ان کی آمد روسی حکام کے ساتھ متوقع مذاکرات سے قبل ہوئی ہے جن کا مقصد یوکرین میں ماسکو کی تقریباً تین سال سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے فون پر بات کی اور اعلیٰ حکام کو روس-یوکرین جنگ پر مذاکرات شروع کرنے کا حکم دیا جسے ختم کرنے کا انہوں نے اپنی صدارتی مہم کے دوران بار بار عہد کیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد روبیو کی آمد ہوئی ہے۔
ریاض نے 20 جنوری کو اقتدار سنبھالنے والی ٹرمپ انتظامیہ اور ماسکو کے درمیان ابتدائی روابط میں کردار ادا کیا ہے جس سے گذشتہ ہفتے قیدیوں کے تبادلے کو محفوظ بنانے میں مدد ملی۔
امریکی اعلیٰ سفارت کار روبیو نے ہفتے کے روز اپنے روسی ہم منصب وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ فون پر بات کی۔ ایک امریکی قانون ساز اور ایک اور ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ روبیو ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز اور شرقِ اوسط کے لیے وائٹ ہاؤس کے ایلچی سٹیو وٹ کوف کے ساتھ سعودی عرب میں روسی حکام سے ملاقات کریں گے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ روس سے کس شخصیت سے ملاقات کریں گے۔
روسی اخبار کومرسنٹ نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ مذاکرات منگل کو سعودی دارالحکومت ریاض میں ہوں گے۔
یہ روسی اور امریکی حکام کے درمیان برسوں میں پہلی مرتبہ اعلیٰ سطحی ذاتی مذاکرات ہوں گے اور یہ امریکی اور روسی صدور کے درمیان ملاقات سے قبل ہوں گے۔
روبیو نے اتوار کو کہا کہ آئندہ ہفتوں اور دنوں میں اس بات کا تعین ہو جائے گا کہ آیا پوٹن امن قائم کرنے میں سنجیدہ ہیں یا نہیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی بھی اس وقت خطے میں موجود ہیں۔ اتوار کو متحدہ عرب امارات پہنچنے والے زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب اور ترکی کا بھی دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا روسی یا امریکی حکام سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور ان کا خیال ہے کہ سعودی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں یوکرین کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔
روبیو کی سعودی عرب میں ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات متوقع ہے۔ ممکنہ طور پر ٹرمپ کی حالیہ غزہ تجویز ایجنڈے میں شامل ہے۔












