نئی دہلی،(یو این آئی) وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے مضبوط اور اہل بحریہ کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستانی بحریہ اہم سمندری راستوں، چوک پوائنٹس اور قومی مفادات سے جڑے ڈیجیٹل ڈھانچوں کی حفاظت کر رہی ہے، جس سے ہندوستان ایک ذمہ دار سمندری طاقت کے طور پر اپنی پہچان بنا رہا ہے۔پروجیکٹ 17 اے کیٹیگری کے چوتھے جدید ترین مقامی جنگی جہاز آئی این ایس تاراگری کو جمعہ کے روز آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں مسٹر سنگھ کی موجودگی میں ہندوستانی بحریہ میں شامل کیا گیا۔ جدید بحری جہاز سازی کا بہترین نمونہ یہ نیا اسٹیلتھ فریگیٹ، جس کا وزن تقریباً 6,670 ٹن ہے، وارشپ ڈیزائن بیورو نے ڈیزائن کیا ہے اور اسے مژگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ نے بہت چھوٹی،چھوٹی اور درمیانہ صنعتوں (ایم ایس ایم ای ) کے تعاون سے کثیر المقاصد مشنوں کے لیے تیار کیا ہے۔ یہ جدید اسٹیلتھٹیکنالوجی کا حامل ہے، جس کی وجہ سے ریڈار پر اس کی موجودگی کا پتہ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور اسے چیلنجنگ حالات میں دشمن پر برتری حاصل ہوتی ہے۔ 75 فیصد سے زیادہ مقامی ساز و سامان سے لیس اور ریکارڈ وقت میں تیار کیا گیا آئی این ایس تاراگیری ہندوستان کی جہاز سازی کی صلاحیت اور مضبوط پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی مثال ہے۔وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں آئی این ایس تاراگری کو محض ایک جنگی جہاز نہیں بلکہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیت، خود انحصاری اور بااختیار بحری طاقت کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "یہ جہاز تیز رفتار سے کام کرنے اور طویل عرصے تک سمندر میں تعینات رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں ایسے سسٹم نصب ہیں جو دشمن کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں، اپنی حفاظت یقینی بناتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری جواب دے سکتے ہیں۔ اس میں جدید ریڈار، سونار اور برہموس جیسی میزائل ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سطح سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل بھی نصب ہیں، جو اس کی طاقت میں اضافہ کرتے ہیں۔ شدید جنگ سے لے کر سمندری سکیورٹی، بحری قزاقی کے خلاف مہم، ساحلی نگرانی اور انسانی ہمدردی کے مشنوں تک، یہ ہر کردار میں مکمل طور پر اہل ہے۔”وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ہندوستان کی ساحلی پٹی 11,000 کلومیٹر سے زیادہ ہے اور جو ملک تین اطراف سے سمندر سے گھرا ہو، وہ اپنی ترقی کو سمندر سے الگ نہیں دیکھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تقریباً 95 فیصد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے اور توانائی کی حفاظت کا انحصار بھی سمندر پر ہے، اس لیے ایک مضبوط اور باصلاحیت بحریہ کی تعمیر کوئی انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔سمندری شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ہندوستانی بحریہ بحر ہند کے خطے میں چوبیس گھنٹے اپنی موجودگی برقرار رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا، سمندر کے وسیع علاقے میں کئی حساس مقامات ہیں، جہاں ہماری بحریہ اشیاء کی بلا تعطل نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل متحرک رہتی ہے۔ جب بھی تناؤ بڑھتا ہے، ہندوستانی بحریہ تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کی حفاظت کو یقینی بناتی ہے۔ یہ نہ صرف ہندوستان کے قومی مفادات کا تحفظ کر رہی ہے، بلکہ دنیا بھر میں اپنے شہریوں اور تجارتی راستوں کی حفاظت کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ یہی صلاحیت ہندوستان کو ایک ذمہ دار اور بااختیار سمندری طاقت بناتی ہے۔”وزیر دفاع نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل دور میں دنیا کا زیادہ تر ڈیٹا سمندر کے نیچے بچھی ہوئی انٹرنیٹ کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے اور ان میں کسی بھی قسم کا نقصان عالمی نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے سمندری سکیورٹی کو روایتی نقطہ نظر سے آگے بڑھ کر وسیع اور مستقبل پر مبنی فریم ورک میں دیکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، ہمیں صرف اپنے ساحلوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اہم سمندری راستوں، تنگ گزرگاہوں اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی حفاظت کو بھی یقینی بنانا چاہیے، جو ہمارے قومی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہندوستانی بحریہ ان تمام کوششوں میں سرگرم ہے۔ آئی این ایس تاراگیری جیسے جدید جہازوں کی تعمیر اور تعیناتی پورے خطے میں امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔”مسٹر سنگھ نے کہا کہ جب بھی کوئی بحران آتا ہے، چاہے وہ لوگوں کو نکالنے کی مہم ہو یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد، بھارتی بحریہ ہمیشہ صفِ اول میں کھڑی رہتی ہے اور آئی این ایس تاراگری ہماری بحریہ کی طاقت، اقدار اور عزم کو مزید مضبوط کرے گا۔”حکومت کے اس عزم کو دہراتے ہوئے کہ ہندوستانی بحریہ کو دنیا کی مضبوط ترین بحریہ میں شامل کیا جائے گا، وزیر دفاع نے کہا، "آج ہم صرف اپنی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ عالمی سپلائی چین میں بھی اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ ڈیزائن سے لے کر آخری تعیناتی تک، ہر مرحلے میں ہندوستان کی شرکت شامل ہے۔ آئی این ایس تاراگری اسی وژن کی علامت ہے۔”پچھلی دہائی میں ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں اور صنعت کے لیے ایسا ماحول تیار کیا ہے جو اختراع ، مینوفیکچرنگ اور برآمدات کو فروغ دیتا ہے۔ موجودہ غیر یقینی دور میں دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔












