تراویح کی نماز مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے سنت مؤ کدہ ہے۔تراویح کی جماعت سنت کفایہ ہے،سنت کفایہ کا مطلب ہے کہ اگر بستی کے کچھ لوگ جماعت سے پڑھ لیں تو (جماعت کی) سنت ادا ہوجائے گی۔لیکن اگرسِرے سے جماعت ہی قائم نہیں ہوئی تو سنت چھوڑنے کا گناہ سب کے ذمے ہوگا۔
تراویح کا وقت عشاءکی فرض نماز اور دو رکعت سنت مؤ کدہ کے بعد ہے۔یعنی تراویح کی نماز اسی وقت پڑھنا درست ہے جب عشاءکی فرض نماز اور اس کے بعد دو رکعت سنت مؤ کدہ پڑھی جاچکی ہو۔ تراویح عربی لفظ ہے، اور تروِیحَہ کی جَمع ہے۔تَروِیحَہ کہتے ہیں آرام کرنے کے لیے تھوڑی دیربیٹھنا، چوں کہ یہ نماز دو دو رکعت کرکے پڑھی جاتی ہے، اور ہر چار رکعت کے بعد تَروِیحَہ ہوتا ہے، یعنی تھوڑی دیر بیٹھا جاتا ہے، اس طرح پوری تراویح میں کئی مرتبہ تَروِیحَہ ہوتا ہے،اس لیے اس نماز کا نام تراویح پڑ گیا۔
ہمارے اسلاف تراویح طویل اور بہت سکون سے پڑھتے تھے اور ہر چار رکعت کے بعد تَروِیحَہ یعنی آرام کرتے تھے۔تھوڑا دَم لے لینے کے بعد تازہ دَم ہوکر پھر مزید چاررکعت اطمینان اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ تَروِیحَہ کی حکمت یہی ہے کہ پوری تراویح تازہ دم رہتے ہوئے اور دل لگا کر قرآن سنتے ہوئے ادا کی جائے، رکوع، سجدہ ،ہر رکن اچھی طرح ادا کیا جائے۔وہ تراویح جو یَعلمُون اور تَعلَمُون اور دَوڑ بھاگ، اٹھا پَٹَک کی شکل میں ادا کی جاتی ہے وہ نماز نہیں، کھلواڑ ہے۔بے ضابطگی اور بے سلیقگی سے اچھے کام بھی خراب ہو جاتے ہیں، اس لیے کسی بھی عبادت اور عملِ خیر میں ذرا بھی بے ڈھنگا پن نہیں ہونا چاہیے۔نماز تو وقار اور سکون سے ادا کی جانے والی عبادت ہے، اس میں عجلت خواہ قرآن پڑھنے میں ہو یا رکن کی ادائیگی میں ہو، درست نہیں ہے۔تراویح میں عام طور سے لوگ تیز قرآن پڑھنے والے اور ہفتے دو ہفتے میں ختم کردینے والوں کو پسند کرتے ہیں، جب کہ حروف کاٹ کراور لَڑ بَڑا کر قرآن پڑھنے والوں کو رَد Reject کردینا چاہیے، اور درست و عمدہ قرآن پڑھنے والے کو ترجیح دینا چاہیے۔
تراویح کی نماز رمضان المبارک کی خصوصیات میں سے ہے، یہ صرف اسی مہینے میں پڑھی جاتی ہے، اسے قیامِ رمضان بھی کہا جاتا ہے۔ایک بڑی فضیلت والی نماز اور بھی ہے جسے قیامِ لَیل کہتے ہیں، اس سے مراد تہجد کی نماز ہے، یہ دونوں الگ الگ نماز ہیں۔تہجد کی نماز کا تذکرہ قرآن کریم میں ہے، جب کہ تراویح سنت سے ثابت ہے۔تہجد کی نماز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ پڑھی ہے، رمضان میں بھی اور رمضان کے علاوہ بھی، جب کہ تراویح کی نماز تین دن پڑھ کر چھوڑ دیا۔رمضان میں یہ دونوں نماز (تراویح و تہجد) اپنے اپنے وقت پر ادا کی جاتی ہیں۔قیامِ رمضان یعنی تراویح عشاءکی نماز کے بعد، اور قیامِ لَیل یعنی تہجد عموماً رات کے آخری حصے میں پڑھی جاتی ہے۔امام بخاری رحم اللہ علیہ تراویح کی نمازعشاءکے بعد باجماعت ادا فرماتے اور تہجد کی نماز سحر کے وقت تَنہا پڑھتے تھے۔قیامِ لَیل یعنی تہجد کی نماز کی رکعتیں حدیث سے دو سے بارہ رکعات تک ثابت ہیں، (آخر عمر میں حضور اکرم نے وتر کے ساتھ گیارہ رکعت ادا فرمائی ہے) جب کہ تراویح کی رکعتوں کی تعداد حدیث سے ثابت نہیں ہے۔البتہ یہ بات صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں دو سال تین تین رات مسجد میں جماعت سے نماز پڑھائی ہے، لیکن ان حدیثوں میں رکعات کی تعداد کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل سے تراویح کی نماز تو ثابت ہے، لیکن رکعتوں کی کوئی متعین تعداد ثابت نہیں ہے کہ آپ نے اتنی رکعتیں ہی پڑھی ہیں، نہ اس سے کم پڑھی ہیں اور نہ اس سے زائد پڑھی ہیں۔بعض حضرات اس بابت جو احادیث پیش کرتے ہیں وہ تہجد کی نماز سے متعلق ہیں، تراویح کی نماز سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
تراویح کی نماز باقاعدہ باجماعت پڑھنے کا نظام خلیفہؒ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں شروع ہوا۔اس نظام میں تراویح کی بیس رکعتیں اجماعِ صحابہ سے ثابت ہیں۔کسی مسئلے میں صحابہ کرام کا اتفاق یہ بھی شرعی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے۔علومِ شریعت کے ماہرین اور قرآن و حدیث میں پوری زندگی غور وخوض کرنے والے علماءو محدثین، حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام مالک، حضرت امام احمد، حضرت امام شافعی اور جمہور علماءرحمھم اللہ کے نزدیک تراویح کی نماز بیس رکعت ہی ہے۔
تراویح کی نماز کے بارے میں احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک زندگی میں دوسال رمضان المبارک میں باجماعت مسجد میں نماز پڑھائی ہے۔دونوں سال تین تین رات ہی پڑھائی ہے۔ایک سال مسلسل تین رات، دوسرے سال ایک ایک رات ناغہ کرکے رمضان المبارک کی تئیسویں، پچیسویں اور ستائیسویں شب کو پڑھائی ہے۔اس طرح آپ نے دوسال میں صرف چھ راتوں میں یہ نماز ادا فرمائی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں مسجد میں الگ الگ ٹولیوں میں بٹ کر تراویح کی نماز پڑھتے تھے، یہی نظام، اول خلیفہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اور دوم خلیفہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے عہد کے شروع میں چلتا رہا ہے، پھرحضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہی با جماعت تراویح پڑھنے کا نظام شروع ہوا۔روایت ہے :
”عبدالرحمن بن عبد القاری بیان کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کی ایک رات میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہم راہ مسجد کی طرف جا نکلا اور دیکھا کہ لوگ مختلف ٹولیوں میں نماز (تراویح) پڑھ رہے ہیں، کوئی اکیلا پڑھ رہا ہے، اور کچھ ایک ساتھ پڑھ رہے ہیں۔اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں ان سب کو ایک قاری پر جمع کردوں تو بہتر ہوگا۔پھر اس رائے کو پختہ کرکے ان سب کو حضرت ابَی بن کَعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے جمع کردیا (کہ ان کے پیچھے نماز تراویح پڑھا کریں)پھر میں ایک دوسری رات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا تو سب لوگ اپنے قاری کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، (یہ دیکھ کر)حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بہت اچھی بدعت ہے۔(اور فرمایا کہ رات کے) جس حصے میں یہ سو جاتے ہیں وہ اس حصے سے افضل ہے جس میں یہ کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ہیں، مراد رات کا آخری حصہ تھا۔(راوی کہتے ہیں کہ) لوگ رات کے اول حصے میں عبادت کیا کرتے تھے۔(بخاری شریف)۔ اس طرح عہد صحابہ سے آج تک پورے رمضان میں باجماعت تراویح کا نظام قائم ہے۔اور عالم اسلام کے اکثر حصوں میں بیس رکعت تراویح کا ہی نظام چل رہا ہے۔
تراویح کا یہ اجتماعی نظام اپنے دامن میں بیش بہا بَرکات و ثَمرات کو سَمیٹے ہوئے ہے۔اس نظام کے طفیل لوگ رمضان المبارک کی راتوں میں عبادت کرلیتے ہیں۔تراویح کی وجہ سے فرض نمازوں کا اہتمام بڑھ جاتا ہے۔دیر رات تک اللہ کے گھر میں رکنے کی سعادت حاصل ہوتی ہے، اور پورا قرآن سننے کا سنہرا موقع مل جاتا ہے۔
تراویح کا یہ نظام قرآن کریم کے حفظ کا ایک محَرِّک بن گیا ہے، اس نظام کی وجہ سے ہر مسلم بستی میں حافظِ قرآن کی ضرورت پیش آتی ہے، اور مسلمانوں نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جس شوق اور اِنہماک کا مظاہرہ کیا ہے، انسانی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔عہدِنَبَوی سے لے کر آج تک اتنی کثیر تعداد میں حُفّاظ کا موجود ہونا اس امت کی خصوصیت ہے۔مسلمانوں کے نظامِ تعلیم میں حفظ و قرآت کے شعبوں کو خصوصی حیثیت حاصل ہے، ان شعبوں سے حُفّاظ اور قرّاءتیار ہوکر نکلتے رہتے ہیں۔تراویح کے نظام کی وجہ سے حُفّاظ کرام قرآن کریم کا دَور کرتے رہتے ہیں اور رمضان کے قریب یہ شغف بڑھ جاتا ہے۔رمضان کا مہینہ قرآن کا مہینہ ہے، تراویح کے نظام کی وجہ سے یہ روحانی نظارہ کھلی آنکھوں نظر آتا ہے۔محلے کی چھوٹی چھوٹی مسجدوں میں ایک ختم، بڑی مساجد میں کءختم ہونے کے ساتھ، گھروں، بلڈنگوں، فلیٹوں اور فیکٹریوں میں بھی تراویح میں قرآن پڑھا اور سنا جاتا ہے۔مساجد سے لے کر گھروں تک قرآن کا نور پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہوتا ہے۔یہ تراویح کی برکتیں ہیں۔ان برکتوں کو جو جتنا زیادہ حاصل کرلے اس کی خوش نصیبی کا کیا پوچھنا۔












