ڈھاکہ:بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے نو منتخب اراکین پارلیمان نے پارٹی چیئرمین طارق رحمان کو بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت کا قائد منتخب کر لیا ہے۔صدر محمد شہاب الدین منگل کی سہ پہر طارق رحمان سے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے دیگر اراکین سے عہدے کا حلف لیا۔آج بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے نومنتخب پارلیمانی گروپ کے اجلاس میں ساٹھ سالہ طارق رحمان پارٹی لیڈر منتخب ہو گئے۔ گزشتہ ہفتے کے عام انتخابات میں بی این پی نے دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی۔ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت، بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی، دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔آج صبح کے وقت نومنتخب اراکینِ پارلیمان نے ڈھاکہ میں پارلیمنٹ کی عمارت میں حلف اٹھایا۔ چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے ان سے بنگلہ دیش سے وفاداری کا حلف لیا۔رحمان 17 کروڑ آبادی والے ملک کی قیادت نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت سے سنبھالیں گے۔ یہ منتقلی 18 ماہ کے عبوری دور کا اختتام ہے، جو اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس تحریک کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور ان کے 15 سالہ دورِ حکومت کا خاتمہ ہوا۔طارق رحمان نے مہینوں جاری رہنے والے ہنگاموں کے بعد استحکام بحال کرنے اور ترقی کو دوبارہ زندہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ ان ہنگاموں نے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے گارمنٹ برآمد کنندہ اس ملک میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کر دیا تھا۔انہوں نے تمام جماعتوں سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ برسوں کی تلخ ’دشمنی کی وجہ سے تقسیم شدہ ملک میں‘ اتحاد قائم کریں۔












