واشنگٹن (ہ س)۔اسرائیلی ٹی وی "چینل 12” کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان جمعرات کے روز ایران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر ایک سخت نوعیت کی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔ یہ بات اس سے قبل کیے گئے دعوے کے برخلاف ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دونوں رہنما ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے سلسلے میں مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ یہ تفصیلات اسرائیلی اخبار "ٹائمز آف اسرائیل” نے بتائیں۔رپورٹ کے مطابق اس گفتگو میں شدید اختلافات سامنے آئے۔ بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا "میں ایرانیوں کے ساتھ ایک سفارتی حل چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میں ایک اچھا معاہدہ حاصل کر سکتا ہوں۔” انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسے معاہدے میں دل چسپی رکھتے ہیں جو فریقین کے مفاد میں ہو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس گفتگو کا لہجہ ان سابقہ بیانات سے مختلف تھا جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی تفہیم پر اپنی گفتگو کا اختتام کیا تھا۔یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی وزیر داخلہ کرسٹی نوئم نے فوکس نیوز” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "صدر ٹرمپ نے مجھے خاص طور پر یہاں اس لیے بھیجا ہے کہ میں وزیراعظم سے مذاکرات کی پیش رفت اور اتحاد برقرار رکھنے کی اہمیت پر بات کر سکوں تاکہ یہ عمل درست طور پر آگے بڑھے۔” نوئم نے اس ملاقات کو "انتہائی صاف گو” قرار دیا، جو ممکنہ طور پر موجودہ تناؤ کی طرف اشارہ ہے۔نیتن یاہو نے گزشتہ روز بیت المقدس میں نوئم کا استقبال کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ایک مختصر بیان میں بتایا گیا کہ امریکی سفیر مائیک ہکابی بھی اس ملاقات میں نوئم کے ہمراہ تھے۔یہ تمام واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے وفود نے گزشتہ ہفتے روم میں مذاکرات کے پانچویں دور کا اختتام کیا، اور کچھ محدود پیش رفت کی علامات سامنے آئیں۔ٹرمپ نے پیر کے روز عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اور کہا کہ آئندہ "دو دنوں میں” کوئی اعلان سامنے آ سکتا ہے۔ ٹرمپ اس حوالے سے عمانی ثالثی سے زیادہ پر امید دکھائی دیے، جنھوں نے جمعہ کو کہا تھا کہ دونوں ملکوں نے روم میں مذاکرات کے پانچویں دور میں "جزوی مگر غیر فیصلہ کن” پیش رفت کی ہے۔ٹرمپ نے نیو جرسی کے شمالی علاقے میں اپنے گولف کلب سے روانگی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "ہماری ایران کے ساتھ بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ میں آپ کو اگلے دو دنوں میں اچھی خبر دوں گا یا بری، لیکن مجھے لگتا ہے کہ شاید اچھی خبر دوں۔”انھوں نے مزید کہا ہم نے واقعی میں کچھ ٹھوس، سنجیدہ پیش رفت کی ہے” اور بتایا کہ یہ گفتگو ہفتہ اور اتوار کو ہوئی۔ٹرمپ نے کہا "دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ایران کے حوالے سے ہمیں کوئی اچھی خبر مل سکتی ہے۔”ان مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور وزارت خارجہ کے پالیسی پلاننگ ڈائریکٹر مائیکل اینٹن نے کی۔ دونوں ممالک اس بات پر بات چیت کر رہے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کو کس طرح محدود کیا جائے اور اس کے بدلے میں امریکہ کی جانب سے تہران پر عائد بعض اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں۔یہ بات چیت رواں برس اپریل میں شروع ہوئی تھی اور سلطنت عمان کی ثالثی میں جاری ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان اْس وقت سے اب تک کا سب سے اعلیٰ سطحی رابطہ ہے، جب امریکہ نے صدر ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی تھی۔












