لاہور، (یو این آئی ) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم کی حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ناقص فارم نے مداحوں کو اس حد تک مایوس کر دیا ہے کہ اب یہ غصہ کرکٹ گراؤنڈز سے نکل کر مذہبی پروگراموں تک پہنچ گیا ہے۔ ایک حالیہ واقعے میں، جہاں پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے خلاف اہم مقابلے کی تیاری کر رہی ہے، وہیں ایک لائیو کالر نے بابر اعظم کو ٹیم سے نکلوانے کے لیے ‘روحانی مدد طلب کر لی۔نجی ٹی وی چینل پر جاری رمضان ٹرانسمیشن کے دوران ایک سائل نے معروف مذہبی اسکالر مولانا آزاد جمیل سے رابطہ کیا اور عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا وظیفہ ہے جس سے بابر اعظم ٹیم سے باہر ہو جائیں؟ اس غیر متوقع سوال نے جہاں اسٹوڈیو میں موجود لوگوں کو حیران کیا، وہیں مولانا نے اس کا انتہائی مدلل اور حکیمانہ جواب دیا۔مولانا آزاد جمیل نے اس موقع پر کھلاڑیوں کو ان کی قومی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔مولانا نے نصیحت کی کہ کامیابی کے لیے صرف دعائیں کافی نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا، پہلے اونٹ باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو۔” یعنی میدان میں کارکردگی دکھانا پہلی شرط ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میدان میں گھبرا جانا زیب نہیں دیتا۔واضح رہے کہ بابر اعظم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں اپنی دھیمی بیٹنگ اور تکنیکی خامیوں کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف کل ہونے والا ‘سپر ایٹ کا مقابلہ نہ صرف ٹیم کے لیے بلکہ بابر اعظم کے اپنے کیریئر کے لیے بھی بقا کی جنگ بن چکا ہے۔












