بنکاک، (یو این آئی )مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر پیدا ہونے والے ایندھن کے بحران نے انسانیت کو عجیب و غریب اور تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ تھائی لینڈ میں ایک پٹرول پمپ پر پیش آنے والے حیران کن واقعے نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پریچا نامی ایک شخص، جو ایک مقامی مندر میں خدمات انجام دیتا ہے، ایک لاوارث شخص کی میت کو آخری رسومات (جلانے) کے لیے لے جا رہا تھا۔تھائی لینڈ کی روایات کے مطابق ایک لاش کو جلانے کے لیے تقریباً تین بڑے ڈبوں جتنا ڈیزل درکار ہوتا ہے۔ جب پریچا پٹرول پمپ پہنچا تو انتظامیہ نے ایندھن کی قلت اور حکومتی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسے مطلوبہ مقدار میں ڈیزل دینے سے صاف انکار کر دیا۔پریچا نے کئی بار منت سماجت کی لیکن جب پمپ ملازم نہ مانا تو اس نے ایک انتہائی قدم اٹھایا:پریچا اپنی گاڑی سے اترا، پیچھے رکھا تابوت کھولا اور ملازم کو اندر موجود لاش دکھا دی تاکہ وہ سمجھ سکے کہ ڈیزل کسی تفریح کے لیے نہیں بلکہ ایک انسان کی آخری رسومات کے لیے چاہیے”یہ منظر دیکھ کر پمپ ملازم اور وہاں موجود دیگر افراد ہکا بکا رہ گئے۔ صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے منیجر نے فوری مداخلت کی اور پریچا کو مطلوبہ ڈیزل فراہم کرنے کی اجازت دے دی۔اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی تھائی لینڈ کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ لوگوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔












