حیدرآباد ، پریس ریلیز،ہمارا سماج:بروز سنیچر، 7 فروری 2026 کو مرکزالمعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی جو محسن ملت حضرت مولانا بدرالدین اجمل قاسمی صاحب کے ذریعہ 1994 میں قائم کیا گیا تھا، کا اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد نہایت وقار اور شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس موقع پر ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والی نامور علمی، تعلیمی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی، جس سے پروگرام کے وقار میں نمایاں اضافہ ہوا۔مرکزالمعارف، ممبئی میں علماء کرام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے انگریزی زبان و ادب میں دو سالہ ڈپلومہ کورس گزشتہ بتیس سالوں سے جاری ہے، جس کا مقصد علماء کے دائرۂ خدمات کو وسعت دے کر انہیں ملک و ملت کی بہتر خدمت کے قابل بنانا ہے۔ امسال اس دو سالہ کورس کے طلبہ نے اپنی تعلیمی مدت کامیابی کے ساتھ مکمل کی، اور یہ ان کا الوداعی پروگرام تھا۔ اس موقع پر فارغینِ کورس نے اپنی تعلیمی اور فکری صلاحیتوں کے نمونے پیش کیے اور دورانِ تعلیم حاصل ہونے والی کامیابیوں کا عملی مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں مرکزالمعارف کی جانب سے انہیں اسناد، میڈلز اور قیمتی و یادگار انعامات سے نوازا گیا۔مرکز المعارف، ممبئی میں مکتب کا چھ سالہ منظم تعلیمی نظام بھی قائم ہے۔ پروگرام میں مکتب کے ننھے طلبہ نے بھی بھرپور شرکت کرتے ہوئے مختلف تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔تقریب کی نظامت مرکزالمعارف کے لیکچررز مفتی جسیم الدین قاسمی اور مولانا سلمان عالم قاسمی اور مرکز المعارف مسجد کے امام و خطیب مولانا محمد شاہد قاسمی نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ جلسے کا آغاز مکتب کے بچوں کے پروگرام سے ہوا، جس کے بعد مرکز المعارف کے ڈپلومہ ان انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر کورس سے فارغین علماء نے اپنے پروگرام پیش کیے۔مرکزالمعارف کے دو سالہ تعلیمی دورانیے کے آخری سال میں منعقدہ تینوں امتحانات کے مجموعی نتائج میں قیام الدین انصاری قاسمی نے پہلی، محمد ارشد انصاری قاسمی نے دوسری اور محمد اسعد قاسمی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ان تینوں کامیاب طلبہ کو اسناد اور میڈلز کے ساتھ ڈاکٹر عیسیٰ ندوی کی جانب سے عمدہ لیپ ٹاپ بطورِ انعام پیش کیے گئے۔مرکزالمعارف میں نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ خارجی سرگرمیوں پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو خصوصی ایوارڈز دیے گئے۔ سال کے بہترین مقرر کا ایوارڈ توثیق الرحمن لشکر، بہترین قلمکار کا ایوارڈ محمد حسنین ربانی، سماجی کارکن کا ایوارڈ شہزاد ندوی، روحانی شخصیت کا ایوارڈ محمد اخلاق قاسمی، خوش مزاج و شخصیت کا ایوارڈ شفیق الاسلام قاسمی، کلاس میں سب سے زیادہ حاضری کا ایوارڈ محمد اسعد قاسمی، کھیلوں میں متحرک اور دلچسپی کا ایوارڈ محمد الطاف حسین، جبکہ پورے سال صفائی کے نظم کو برقرار رکھنے کا ایوارڈ عبدالماجد قاسمی کو دیا گیا۔پروگرام کے اختتام پر معزز مہمانوں نے اپنے قیمتی تاثرات کا اظہار کیا اور مرکزالمعارف کی تعلیمی و تربیتی خدمات کو سراہتے ہوئے مفید اور گراں قدر مشوروں سے نوازا۔مرکزالمعارف کے ڈائریکٹر مولانا برہان الدین قاسمی نے فارغ ہونے والے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن خوشیوں، غموں، احساس ذمہ داری کا مجموعہ ہے؛ خوشی آپ کی کامیابی کی اور غم آپ کی جدائی کا اور احساس اس ذمہ داری کا جو اب آپ کے کندھوں پر آچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے آپ امت کی امانت اور سرمایہ ہیں اور اسی حیثیت سے آپ کو امت کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے فارغین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: "یہ میرے آخری کلمات ہیں—ایمان، اخلاق اور امانت کا ہمیشہ خیال رکھنا، اور کبھی ان پر سودا مت کرنا، ورنہ کل قیامت کے دن ہم دامن گیر ہوں گے۔” پروگرام کے مہمانِ خصوصی، کلکتہ سے تشریف لانے والے، مولانا ابوطالب رحمانی، رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، نے اپنے خطاب میں قرآن اور فلاح کے باہمی تعلق پر زور دیا۔ انہوں نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مالٹا کی جیل میں امتِ مسلمہ کے زوال پر غور کرتے ہوئے اس کا بنیادی سبب قرآن سے دوری قرار دیا تھا، اور اس دوری کی جڑ علم کو دین اور دنیا میں تقسیم کر دینا ہے۔ مولانا رحمانی نے مزید کہا کہ انگریزی زبان سے نفرت اور بیزاری دراصل ایک قسم کا ذہنی تشدد ہے، جس کا مرکز المعارف نے کامیابی کے ساتھ خاتمہ کیا اور اس میدان میں ایک سنگِ میل قائم کیا ہے۔ فارغین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے ہندوستان میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی مستقبل کے لیے مستقل منصوبہ بندی، مشاورت اور سنجیدہ فکرمندی کی اشد ضرورت ہے۔ ساتھ ہی محاسبہ بھی ہونا چاہیے کہ ہم نے اب تک کیا حاصل کیا، کیا باقی ہے، اور آئندہ چند برسوں میں ہم خود کو کہاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ورسوا حلقے کے ایم ایل اے جناب ہارون رشید خان نے طلبہ کو فراغت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے بعد اصل مرحلہ عملی زندگی کا ہوتا ہے، جہاں علم کے ساتھ ذمہ داریوں کا شعور بھی ضروری ہے۔ انہوں نے فارغین کو تلقین کی کہ وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں اور اپنی صلاحیتوں کو قوم و ملک کی خدمت میں لگائیں۔












