نئی دہلی، مدرسہ زینت القرآن ویلکم سیلم پور دہلی کی انجمن اصلاح اللسان کا سالانہ اختتامی پروگرام منعقد ہوا ، جس کی صدارت مدرسہ کے مہتمم الحاج محمد سلیم رحمانی نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا محمد اسعد حسینی القاسمی نے انجام دیئے پروگرام کا آغاز مدرسہ کے استاذ قاری مہربان کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔پروگرام میں علاقے کے مؤ قر علمائے کرام وائمہ کرام و سر کردہ حضرات نے بطورِ خاص شرکت فرمائی نیز پروگرام میں مدرسہ کے تمام طلبہ نے حصہ لیا اور حمد و نعت و ترانہ کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی تقاریر پیش کیں حکم کے طور پر حضرت مولانا خورشید امام وخطیب عثمانیہ مسجد لکڑی مارکیٹ اور مفتی محمد ریحان قاسمی امام وخطیب معراج مسجد جنتا کالونی متعین تھے جنہوں نے تمام طلبہ کی تقاریر سننے کے بعد غیر جانب دارانہ طور پر فیصلہ کرتے ہوئے حافظ محمد نوید کو اول اور حافظ محمد ابوذر کو دوم اور محمد کیف کو سوم قرار دیا علاوہ ازیں نعتیہ مسابقہ میں اول پوزیشن عبد الرحمٰن آصف نے اور دوم پوزیشن عبد الرحمٰن گلزار نے اور سوم پوزیشن ثمیر نے حاصل کی ان تمام کو مدرسہ کی طرف سے انعامات سے نوازا گیا ۔نیز مہتمم نے بھی خصوصی طور پر اپنی جیب خاص سے پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو ہد یہ نقد انعام سے نوازا بعدہ ڈاکٹر مولانا محمد زاہد قاسمی جو مدرسہ کے مایہ ناز اساتذہ میں سے ایک ہیں انہوں نے مختصر مگر جامع انداز میں مذکورہ مدرسہ کے مو جودہ احوال و کوائف بہترین انداز میں پیش کیا، پروگرام کے مہمان خصوصی خیر خواہ ملت مفتی عبد الرازق مظا ہری ناظم اعلیٰ جمیعت علماءصوبہ دہلی کے بیان سے قبل جمعیتہ کے ضلع کے ناظم مولانا جمیل اختر قاسمی نے ڈاکٹر نواز دیوبندی کے عالمی شہرت یافتہ کلام "السلام،السلام "کو اپنے خوبصورت لب و لہجے میں پیش کرکے سامعین کو عش عش کرنے پر مجبور کردیا بعد ازاں مفتی عبد الرازق نے اپنے قیمتی خطاب میں فرمایا کہ میری سعادت مندی ہیکہ میں اس قیمتی مجلس میں شریک ہوا یہ میری اور آپ کی سعادت مندی ہے کیونکہ روئے زمین پر اس سے زیادہ عمدہ قیمتی بابرکت مجلس نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ خالق کائنات کے سب سے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر نازل ہونے والی کتاب قرآن کریم کی دعائیہ مجلس ہے ہمیں اس پر فخر ہے کہ اللّٰہ نے ہمیں حفاظ قرآن کی فہرست میں شامل فرمایا ہے اللّٰہ تعالٰی کا ایک نام حافظ بھی ہے اور اللّٰہ تعالٰی نے یہ مبارک نام حضرت انسان کو قرآن کریم اپنے سینوں میں محفوظ کرنے کی وجہ سے عطا فرمایا ہے یہی وجہ ہے کہ ساری کائنات میں قرآن کریم کو اپنے سینوں میں محفوظ کرنے والی جماعت کو حفاظ کی جماعت کہا جاتا ہے اسلئے ہمیں علماء اور حفاظ کی قدر کرنی چاہئے کیونکہ ان سے بعض رکھنا عناد اور دشمنی رکھنا اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنا ہے ان سے محبت رکھنا ان کی زیارت کرنا ان کا تعاون کرنا ایمان کی علامت اور پہچان ہے لہذا ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی ہے کہ ہم اپنے بچوں کوڈاکٹر ،انجینئر ،پروفیسر ،ماسٹر ،بنانے سے قبل ایک اچھا اور سچا انسان بنائیں تاکہ معاشرے سے بے دینی دور ہو آج ہم اس مجلس سے یہ طے کرکے اٹھیں کہ کچھ بھی ہو جائے کہ ہم پیٹ پر پتھر باندھ لیں گے مگر اپنے بچوں کو تعلیم ضرور دلائیں گے اور حضرت کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا بعدہ مہتمم الحاج محمد سلیم رحمانی نے آنے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔اور مجلس میں قرب وجوار کے ائمہ اور علماءمیں سے قاری اکرام اللّٰہ قاری عبد اللہ مولانا زاہد قاسمی شریک تھے ان کے علاوہ عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور حفاظ کرام اور مدرسہ کے اساتذہ اور انتظامیہ کو اپنی دعاؤں سے نوازا۔












