نئی دہلی :مہرولی لدا سرائے میں واقع مسجد سہیل والی میں محکمہ آثارقدیمہ (اے ایس آئی)کی جانب سے آج اچانک کارروائی کی گئی جس کو دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ قائم کی گئی منیجنگ کمیٹی نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ دہلی وقف بورڈ مینیجنگ کمیٹی مہرولی لدا سرائے کے سکریٹری ذاکر حسین نے بتایا کہ آج دوپہر اے ایس آئی آفیسر جس کا نام بھاردواج بتایا جاتا ہے وہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ مسجد میں داخل ہوااور دیکھتے ہی دیکھتے انہوںنے مذہبی کتابوںسمیت چٹائی اور دیگر سازوسامان پھینکنا شروع کردیا اس دوران تقریباً وہ 15سے 20لوگ تھے جواپنے آپ کو محکمہ آثار قدیمہ کے اہلکار بتارہے تھے ۔ ذاکر حسین کا کہنا ہے کہ انٹیک ایک ٹرسٹ ہے جو دہلی حکومت کے ماتحت کام کرتا ہے اس نے مہرولی لدا سرائے میں واقع تقریباً تمام مساجد کے خلاف ایک مہم چھیڑ ی ہوئی ہے اور وہ ان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے جس کی شکایت ہم نے 2019میں دہلی وقف بورڈ چیئرمین امانت اللہ خاں سے کی تھی دہلی وقف بورڈ نے منیجنگ کمیٹی آف دہلی وقف بورڈ لدا سرائے مہرولی کے نام سے تشکیل دی اسی دوران دسمبر 2019میں اس ٹرسٹ کے خلاف 14دسمبر 2019کو ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی جو ابھی بھی زیر سماعت ہے انٹیک کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹس کے خلاف دہلی وقف بورڈ اور میجنگ کمیٹی دونوں نے ہائی کورٹ کا رخ کیا دہلی ہائی کورٹ نے دہلی وقف بورڈ کو پارٹی مانتے ہوئے 23دسمبر 2022کو سنوائی کی جس میں ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلہ دیاگیا کہ مذہبی مقامات نہیں ہٹائے جائیں گے اور کسی بھی مسجد میں کوئی انہدامی کارروائی نہ کی جائے اور ایسا ہی ہوا مسجدوںکو کوئی پریشانی نہیں ہوئی لیکن آج دیپک بھاردواج جس نے خود کواے ایس آئی کا آفیسر بتایا ہے وہ 15سے 20اہلکاروں کے ساتھ بغیر کسی آرڈر یا نوٹس کے مسجد میں داخل ہوا مذہبی کتابوں سمیت مسجد کے دیگر سازوسامان کو مسجد سے باہر پھینک دیا اور مسجد میں تالا لگادیا۔سکریٹری ذاکر حسین نے بتایا کہ ہم نے 100نمبر پر کال کی اس دوران دہلی وقف بورڈ کو بھی اطلاع دے دی گئی دہلی وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر محمد محفوظ اوران کی ٹیم موقع پر پہنچی اور انہوںنے مسجد کا تمام سازوسامان اندر رکھوایا وہاں تعینات اہلکار سے دہلی وقف بورڈ کا سائن بورڈ بھی کھڑا کروایاجس کواے ایس آئی والوںنے گرا دیا تھا۔ سہیل والی مسجد کے امام مولانا مبارک نے بتایا کہ دہلی وقف بورڈ کی مستعدی کی وجہ سے عصر اور مغرب کی نماز باجماعت مسجد میں ادا کی گئی جس کے بعدمینیجنگ کمیٹی آف دہلی وقف بورڈ نے اے ایس آئی کے خلاف مقامی پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرادی ہے۔ واضح رہے مسجد سہیل والی جسکا مقدمہ ہائی کورٹ میں چل رہا ہے اس کی 21 دسمبر 2023 کو فیصلہ آنا ہے کو آج دہلی حکومت کے ادارہ INTAC نے دہلی حکومت کے اے ایس آئی (محکمہ آثار قدیمہ) اور دہلی پولس کی مدد سے مسجد پر قبضہ کر لیا اور مسجد کا سارہ سامان دہلی پولس کے ذریعہ باہر پھکوادیامسجد میں کئی دہائیوں سے پنچ وقتہ نماز ہو رہی تھی۔












