بنگلور ،پریس ریلیز،ہماراسماج:مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ بنگلور، کرناٹک کے زیر اہتمام اور دارالعلوم دیوبند اور اس کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی کی نگرانی میں بسم اللہ مسجد، بسم اللہ نگر، بنگلور میں ایک روزہ’’ تحفظ ختم نبوتؐ تربیتی ورکشاپ‘‘ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس علمی و فکری نشست میں شہر بنگلور اور اطراف کے علاقوں سے 300 سے زائد علماء و حفاظ کرام نے بھرپور شرکت کی۔اس تربیتی ورکشاپ کی سرپرستی مجلس کے سرپرست اور صدر جمعیۃ علماء کرناٹک مفتی افتخار احمد قاسمی نے فرمائی، جبکہ مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ بنگلور کے ناظم مولانا نوشاد احمد قاسمی نے نہایت خوش اسلوبی، ترتیب اور وقار کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیے، جس کے نتیجے میں پروگرام ابتداء سے اختتام تک مربوط، منظم اور مؤثر انداز میں جاری رہا۔ورکشاپ کا بنیادی مقصد عصر حاضر میں سر اٹھانے والے مختلف فتنوں، بالخصوص فتنۂ قادیانیت، فتنۂ مہدویت، فتنۂ گوہر شاہی، فتنۂ شکیل بن حنیف اور دیگر باطل نظریات کے فکری، دعوتی اور عملی تعاقب کے طریقوں پر علماء کرام کی رہنمائی کرنا تھا۔ اس موقع پر اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ بدلتے حالات کی نزاکت اور حساسیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے علماء و خطباء کس منہج پر کام کریں اور امت مسلمہ کو کس حکیمانہ اور مؤثر اسلوب میں آگاہ کریں۔ورکشاپ میں ملک کے ممتاز، تجربہ کار اور صاحبِ بصیرت علماء نے خطابات فرمائے۔ دارالعلوم دیوبند کی نمائندگی کرتے ہوئے وہاں سے تشریف لائے مفتی محمد عارف جمیل قاسمی، استاذ دارالعلوم دیوبند نے نہایت فکر انگیز اور نصیحت آمیز کلمات ارشاد فرمائے۔ انہوں نے فرمایا کہ ختم نبوت کے میدان میں کام کرنے والوں کو غیر معمولی ہوشیاری، حالات کی گہری سمجھ اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے، کیونکہ معمولی سی غفلت بھی بڑے فکری و اعتقادی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کام میں صبر، تحمل، استقامت اور دعوتی اسلوب اختیار کرنا ناگزیر ہے، اور یہ کہ میدان میں کام کرنا ہمارا فرض ہے جبکہ نتائج اللہ کے اختیار میں ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر اخلاص کے ساتھ کام جاری رکھا جائے تو امت ان شاء اللہ ان فتنوں سے محفوظ رہے گی۔اس موقع پر مجلس کے سرپرست اور صدر جمعیۃ علماء کرناٹک مفتی افتخار احمد قاسمی نے اپنے طویل دعوتی تجربات کی روشنی میں کام کے منہج، اسلوب اور ترجیحات پر مفید رہنمائی فرمائی۔ بالخصوص انہوں نے ائمہ مساجد کو اس جانب متوجہ کیا کہ مساجد میں دروسِ قرآن کے حلقوں کو وسعت دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ عوام کے ایمان کو مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے۔معروف عالم دین مولانا خالد بیگ ندوی نے نہایت حکیمانہ، بصیرت افروز اور رہنما خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ موجودہ دور میں علماء کو منفی ردِعمل کے بجائے مثبت، تعمیری اور باوقار اسلوب اختیار کرنا چاہیے، تاکہ اس کے اثرات معاشرے اور کمیونٹی میں خیر و اصلاح کا ذریعہ بنیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ کس طرح خود کو فتنوں سے محفوظ رکھتے ہوئے دین کا کام استقلال اور استقامت کے ساتھ جاری رکھا جا سکتا ہے۔بعد ازاں دارالعلوم شاہ ولی اللہ بنگلور کے استاذ مفتی محمد اویس رشادی نے ’’الحاد اور ایکس مسلم تحریک‘‘ کے موضوع پر مدلل اور جامع خطاب فرمایا، جس میں انہوں نے الحاد کے اسباب، اس کے خطرناک نتائج اور اس کے فکری و عملی حل کو نہایت وضاحت اور مؤثر انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے اس حقیقت کی جانب بھی توجہ دلائی کہ الحاد کوئی نیا فتنہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں تاریخ کے آغاز تک پھیلی ہوئی ہیں۔اس کے بعد جامعہ مرکز العلوم بنگلور کے مہتمم مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے ’’فتنہ ٔباطلہ اور اس کا تعاقب‘‘ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام کو مطالعہ کی وسعت، فکری تیاری اور علمی گہرائی کی اہمیت کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام کا مقصد یقین کو مضبوط کرنا ہے، جبکہ فتنۂ باطلہ کا اصل ہدف شکوک و شبہات پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اسی تسلسل میں مولانا محمد اجمل قاسمی نے فتنوں کی شناخت، ان کے فکری پس منظر اور عملی مظاہر پر نہایت جامع گفتگو کی، جس کے ساتھ پیش کی گئی پریزنٹیشن شرکاء کے لیے نہایت مفید اور بصیرت افروز ثابت ہوئی۔ورکشاپ کے اختتامی مرحلے میں مجلس کے ناظم مولانا نوشاد احمد قاسمی نے کام کے عملی طریقوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نتیجہ خیز دعوتی کام وہی ہے جو میدانی سطح پر کیا جائے۔ انہوں نے علماء کو دو بنیادی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا: اوّل، امت مسلمہ میں فتنوں سے بچاؤ کے حوالے سے شعور و بیداری پیدا کرنا۔ دوم، بہترین اخلاق اور احسن اسلوب کے ساتھ فتنوں کے شکار افراد کو دعوتِ توبہ دینا۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کی یہ سادہ لوح امت اکثر لاعلمی میں فتنوں کا شکار ہو جاتی ہے۔












