ممتاز عالم رضوی
نئی دہلی :عام انتخابات 2024؍میں انڈیااتحاد کس نظریہ کے تحت میدان میں اترے گی ابھی یہ طے نہیں ہو سکا۔آئیڈیا آف انڈیا کے تحت مہاتما گاندھی ، پنڈت جواہر لعل نہرو اور مولانا آزاد کی بات کرنے والی کانگریس پارٹی کافی کنفیوز ہو گئی ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد میں سب سے بڑی رکاوٹ اس وقت کانگریس کا سافٹ ہندوتوا ہے ۔کانگریس انڈیا اتحاد کو کمل ناتھ کے راستہ پر لے جانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس میں شامل کئی پارٹیوں کو یہ پسند نہیں ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایودھیا میں تعمیر ہو رہے رام مندر کے ساتھ ساتھ وارانسی کی گیانواپی مسجد اور متھرا کی شاہی عید گاہ کو جس طرح سے بی جے پی کیش کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور ہندوتوا کے ایجنڈے کو اٹھا رہی ہے اس سے کانگریس میں گھبراہٹ ہے چنانچہ کانگریس کا ایک طبقہ سافٹ ہندوتوا کی وکالت کر رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق یہ وہی طبقہ ہے جس نے کمل ناتھ کو مدھیہ پردیش میں سافٹ ہندوتوا کی راہ دکھائی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب اشوکا ہوٹل میں انڈیا اتحاد کی میٹنگ ہوئی تھی تو وہاں بھی سافٹ ہندوتوا کو لے کر بات چیت ہوئی تھی اور کانگریس کا جھکائو سافٹ ہندوتوا کی طرف تھا جس سے کچھ اپوزیشن پارٹیاں حیران و پریشان تھیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر کانگریس اور اپوزیشن اپنے سیکولر ایجنڈے پر قائم نہیں رہے گی تو اس کا ناکام ہو نا طے ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب رائے دہندگان کو ہندتوا ہی منتخب کرنا ہوگا تو پھر وہ بی جے پی کو ہی منتخب کریں گے ، کانگریس کو نہیں کیونکہ بی جےپی سو فیصد ہندوتوا کو فروخت کر رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈیا اتحاد میں جو اختلاف پیدا ہو رہا ہے اور الگ الگ بیانات آ رہے ہیں اس کی وجہ یہی ہے ۔کانگریس طے نہیں کر پا رہی ہے کہ وہ عام انتخابات سیکولرزم کی بنیاد پر لڑے گی یا سافٹ ہندوتوا کی بنیاد پر ۔اگر کانگریس سافٹ ہندوتوا کے ساتھ میدان میں اترتی ہے تو اس کے ساتھ کون کون ہوگا یہ کہہ پانا مشکل ہے۔کانگریس کے اس رویہ سے سب سے زیادہ پریشان سائوتھ کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر سے شامل نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو ہے۔ نیشنل کانفرنس کے قومی صدراور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ اور پی ڈی پی کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو بھی کانگریس کا رویہ پسند نہیں آ رہا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس کو سیکولر زم کے نظریہ پر قائم رہتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے تبھی اس کو کامیابی مل سکتی ہے ورنہ مرکز میں پھر بی جے پی کی حکومت قائم ہو جائے گی۔واضح رہے کہ انڈیا اتحاد کو دسمبر کے آخر تک سیٹوں کی تقسیم کرنی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ الیکشن کو اب بہت دن باقی نہیں ہیں۔جب پارٹیوں میں سیٹوں کی تقسیم ہوگی ،اس کے بعد پارٹیاں بھی اپنے طور پر پارٹی میں امیدواروں کا اعلان کریں گی۔انڈیا اتحاد کا پی ایم امیدوار کون ہوگا ،اس پر جس قسم کی سیاست شروع ہو ئی تھی اس پر جے ڈی یو کے روح رواں اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے فی الحال لگام لگا دی ہے اور بی جے پی کے منہ کو بند کر دیا ہے لیکن نارتھ انڈیا سے مضبوط چہرے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کیونکہ اصل مقابلہ نارتھ میں ہی ہے ۔












