6اپریل کو بی جے پی کی یوم تاسیس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے جب اپنے پارٹی کارکنوں اور 2024کے متوقع ووٹرس کو
خطاب کیاتو اس وقت ایسا لگا جیسے کسی سیکولر ملک کا نہایت سادہ لوح لیڈر بات کر رہا ہے جس کو صرف ملک کی ترقی و عوام کی خوشحالی عزیز ہے ۔لیکن ان کی کارستانیاں کتنی بھیانک ہیں اس کی تازہ مثال اتر پردیش کے شہر مرادآباد میں اس وقت ملی جب25مارچ کو لاجپت نگر قصبہ کےمکین ذاکر حسین نے اپنے ذاتی مکان میں جب نماز تراویح کا اہتمام کیا تو بجرنگ دل کی شکایت پر 9دن میں ختم کی جانے والی نماز تراویح کو یہ کہہ کر روک دیا کہ چونکہ یہاں پہلے سے تراویح کی نماز نہیں ہوتی تھی اس لئے ہم یہ نئی روایت قائم نہیں ہونے دینگے ۔
یہ بات مجھے اس لئے کہنی پڑی کہ مودی جی ہمیشہ اپنی تقاریر میں یہ ذکر ضرور کرتے ہیں کہ ہمارے دور اقتدار میں سب کا ساتھ اور سب کا وکاس ہوا ہے کیونکہ سب کو ہم پر وشواس بھی ہے ۔اور وہ اپنی اس خوبی کا ذکر ابھی لگاتار کرینگے کیونکہ اب لگاتار چناؤ ہے پہلے کئی اسمبلیوں کا اور پھر خود مودی جی کا۔
اب اس بات میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں رہ گئی کہ بی جے پی 2024کے عام انتخاب کے چیلنجز سے واقف ہو گئی ہے ۔اسے یہ بھی اندازہ ہو چکا ہے کہ کانگریس اس بار اسے اس کی زبان میں جواب دینے کےنلئے تیار ہے اور دھیرے دھیرے ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیاں کانگریس کے ساتھ جمع ہو رہی ہیں ۔ بی جے پی کے لئے یہ محاذ کس قدر خطرناک ہے کہ نہایت ہوشیاری سے مودی جی نے کانگریس پر حملہ کرنے کے لئے اپنی فوج کو پیچھے کر لیا ہے اور کانگریس کے ان بھگوڑوں کو آگے کر دیا ہے جنہوں نے پوری عمر کانگریس کے ساتھ اقتدار کے مزے لئے ہیں لیکن اقتدار کے جاتے ہی وہ بی جے پی کے ساتھ صرف اقتدار کی لالچ میں چلے گئے ہیں ۔
ان دو تین دنوں میں غلام نبی آزاد ہوں یا جیوتی راجے سندھیا جس طرح سے براہ راست راہل گاندھی پر حملہ آور ہوئے ہیں وہ اس کا ثبوت ہے کہ مودی اینڈ کمپنی اب اپنےدیسی جرنیلوں کو دو قدم پیچھے ہٹا کر درآمد شدہ حواریوں سے حملہ کروا رہی ہے بغیر یہ سوچے ہوئے کہ جیوتی راجے سندھیا ہوں یا غلام نبی آزاد جتنا بھی کانگریس کے خلاف بولینگے اتناہی کانگریس سے عام لوگوں کی ہمدردی میں اضافہ ہوگا ،کیونکہ ان دونوں کے ساتھ کانگریس سے بھاگ بی جے پی کی پناہ میں جانے والے تمام لیڈروں کے بارے میں عوام کی صاف رائے ہے کہ وہ سارے کے سارے بی جے پی کے ساتھ اس لئے گئے ہیں تاکہ سی بی آئی یا ای ڈی کے کے چھاپوں سے بچے رہیں ۔
اور ان موقعہ پرست نیتاؤں کے بارے میں یہ رائے ملک کے عام لوگوں کی ہے لہذا ان کے ذریعہ کئے گئے حملوں سے کانگریس کا یا راہل کا کچھ بھی بگڑنے والا نہیں ہے ۔مودی جی کی اس عام انتخاب میں ایک مجبوری یہ بھی ہےنکہ وہ کانگریس پر براہ راست حملہ کرتے وقت بھی محتاط رہنا چاہتے ہیں کیونکہ اب کانگریس کی کمان کھڑگے سنبھال رہے ہیں اور وہ معروف دلت لیڈر ہیں ۔ساتھ ہی اس ریاستبسے ہیں جہاں اسمبلی انتخاب اپنے آخری مرحلے میں ہے ۔اب مودی جی کے پاس راہل گاندھی پر حملہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ،یہ جانتے ہوئے بھی کہ راہل گاندھی پر ان کے ہر حملے کا رشتہ اڈانی پر راہل گاندھی کے براہ راست حملے سے جوڑا جائے گا ۔
اور یہی وہ گتھی ہے جس کو بی جے پی سلجھانے سے قاصر ہے اور ہر روز اسے اقتدار سے دور ہونے کا احساس کرا رہی ہے ۔راہل گاندھی جسے بی جے پی مسلسل ٹارگیٹ کرتی رہی ہے اب دھیرے دھیرے ایک ایسا جن بن چکا ہے جو بی جے پی کے اعصاب پر سوار ہے ۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایک ایسی پارٹی کا بار بار ذکر کیا جائے جس کے بارے میں بی جے پی کے سپہ سالار امت شاہ یہ کہہ چکےنہیں کہ کانگریس کا خاتمہ اس طرح ہو چکا ہےنکہ اب دور بین سے دیکھنے پر بھی کہیں کانگریسی نظرننہیں آتے ۔
کانگریس سے خوف کا ہی نتیجہ ہے کہ 2024کے انتخابی حکمت عملی میں بی جے پی نے مسلمانوں کو بھی ورغلانے کا پلان بنایا ہے ۔اپنے خطاب میں مودی جی کا یہ کہنا کہ پورے ملک کے لوگ ہمارے ساتھ ہیں لیکن ہمارا کام ہے کہ ہم ہر طبقہ کے پاس جاکر ان سے حمایت کی گذارش کریں ۔در اصل پسماندہ مسلمانوں میں اپنی پیٹھ بنانے کا یہ وہی پلان ہے جس کےتحت بی جے پی اب مسلمانوں میں بھی مودی متر بنا رہی ہے ۔اور خانقاہوں اور مزارات سے عقیدت رکھنے والوں کو اپنے پالے میں لانے کی جی توڑ کوشش کر رہی ہے ۔اور یہ سب کچھ اس خوف کا نتیجہ ہے کہ بی جے کو 2019میں ملےجملہ ووٹوں میں بھی کمی ہونا یقینی ہے ۔پانچ کیلو اناج لینے والوں کو بھی اندازہ ہو چکا ہےکہ انہیں پانچ کیلو اناج دے کر یہ سرکار ان کی اور ان کے بچوں کا پورا مستقبل تباہ کرنے کے درپئے ہے ۔بی جے پی سمجھ چکی ہے کہ مہاراشٹرا ،بہار ،بنگال اور مدھیہ پردیش سمیت پورے ہندی پٹی میں اتر پردیش کے علاوہ کہیں بھی اسے 2019والا ریزلٹ نہیں ملنے والا ہے ۔خود اتر پردیش میں کم از کم پمدرہ سیٹوں کا نقصان اسے ہو سکتا ہے ۔لہذا مودی جی اپنے خطاب میں بظاہر یہ لاپروائی دکھا رہے ہیں کہ ان کا کامیاب ہونا طئے ہےلیکن اندر سے پوری بی جے پی اور آر ایس ایس پوری طرح ہلی ہوئی ہے اور سراسیمہ ہے۔
شعیب رضا فاطمی












