• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, مارچ 24, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

بلیک میلر اصول اور روٹی کا نوالہ

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 24, 2026
0 0
A A
بلیک میلر اصول اور روٹی کا نوالہ
Share on FacebookShare on Twitter

انسانی معاشرے کی بقا اور اس کے ارتقائی سفر میں اخلاقیات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہی تہذیبیں پائیدار رہیں جنہوں نے عدل، صداقت اور دیانت کو اپنا شعار بنایا۔ تاہم عصرِ حاضر میں، بالخصوص ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس برق رفتار دور میں، انسانی رویوں میں ایک عجیب قسم کا بگاڑ پیدا ہو چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں اردو ادب، صحافت اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جو نازیبا، رکیک اور سراسر مفاد پرستی پر مبنی پوسٹس دیکھنے کو ملی ہیں، وہ نہ صرف دل خراش ہیں بلکہ اس بات کا پتا دیتی ہیں کہ ہم ایک ایسے معاشرتی المیے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں "اصول” اور "نوالہ” کے درمیان تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ تحریر دراصل اسی نفسیاتی اور سماجی کشمکش کا احاطہ کرتی ہے جو ایک طرف بلیک میلر کی پست ذہنیت اور دوسری طرف حلال رزق اور عزتِ نفس کی پاکیزگی کے گرد گھومتی ہے۔ بلیک میلنگ محض ایک فرد کا دوسرے فرد کو ہراساں کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا ناسور ہے جو پورے سماجی ڈھانچے کے اعتماد کو چاٹ جاتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی دوسرے کی کمزوری، اس کے کسی پوشیدہ راز یا اس کی کسی مجبوری کو اپنی ڈھال بناتا ہے اور اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ درحقیقت انسانیت کے مرتبے سے گر جاتا ہے۔ یہ "بلیک میلر اصول” وہ زہریلا طرزِ فکر ہے جو مروت، لحاظ اور باہمی احترام جیسے جذبوں کا خون کر دیتا ہے۔ انسانی تعلقات کی بنیاد باہمی اعتماد پر ہوتی ہے، لیکن بلیک میلر اس اعتماد کا فائدہ اٹھا کر اسے ایک تجارتی سودے میں بدل دیتا ہے۔ وہ سامنے والے کو ذہنی اذیت کی اس نہج پر لے جاتا ہے جہاں اسے اپنا دفاع کرنا ناممکن محسوس ہونے لگتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس مکروہ عمل کو مزید مہمیز دی ہے، جہاں کسی کی پگڑی اچھالنا یا کسی کے کردار پر کیچڑ اچھالنا اب محض ایک کلک کی دوری پر ہے۔ یہاں "اظہارِ رائے کی آزادی” کے لبادے میں اکثر "کردار کشی کی مہم” چلائی جاتی ہے، جس کا مقصد محض ذاتی عناد کی تسکین یا مادی مفادات کا حصول ہوتا ہے۔ یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم کس طرح ایک ایسی مادہ پرست دنیا میں ڈھل چکے ہیں جہاں دوسروں کے آنسوؤں سے اپنی تجوریاں بھرنا یا دوسروں کی بدنامی سے اپنی شہرت کے مینار تعمیر کرنا ایک فن سمجھا جانے لگا ہے۔ اس کے برعکس جب ہم "روٹی کا نوالہ” کے تصور پر غور کرتے ہیں تو یہ محض پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عظیم استعارہ بن کر ابھرتا ہے۔ یہ استعارہ ہے حلال رزق کا، کڑی محنت کا اور اس قناعت کا جو انسان کو شہنشاہوں سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ انسانی فطرت میں یہ بات ودیعت کی گئی ہے کہ وہ اپنی کوشش سے حاصل کی گئی شے میں سکون پاتا ہے۔ اسلام اور دنیا کے تمام بڑے مذاہب نے محنت کی عظمت کو تسلیم کیا ہے۔ "روٹی کا نوالہ” جب عزتِ نفس کے پسینے سے تر ہو کر حلق سے اترتا ہے تو وہ روح کو جلا بخشتا ہے، لیکن یہی نوالہ جب بلیک میلنگ، جھوٹ، خوشامد یا کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر حاصل کیا جائے تو یہ معدے میں پہنچ کر آگ کے انگارے بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک ایسا طبقہ پروان چڑھ چکا ہے جو محنت کے طویل راستے کے بجائے شارٹ کٹ پر یقین رکھتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو "بلیک میلر اصول” کو اپنی حکمتِ عملی بناتے ہیں۔ یہ افراد پہلے کسی بااثر شخصیت یا کسی ادارے کے گرد گھیرا ڈالتے ہیں، ان کی خوشامد کرتے ہیں، ان کے تلوے چاٹتے ہیں اور ان کے لیے طرح طرح کی سہولیات اور ضیافتوں کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ ان کے قریب ہو کر ان کی کمزوریاں جان سکیں یا ان کے اعتماد کا حصہ بن سکیں۔ یہ "پہلے کھلاؤ اور پھر دباؤ” کی پالیسی نہایت خطرناک ہے۔ جیسے ہی یہ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ اب ان کے پاس سامنے والے کی کوئی ایسی خبر یا کمزوری آ گئی ہے جسے بازار میں بیچا جا سکتا ہے یا جس کے ذریعے اسے جھکایا جا سکتا ہے، تو یہ فورا اپنا رنگ بدل لیتے ہیں۔ یہاں سے وہ سفر شروع ہوتا ہے جہاں اخلاقیات دم توڑ دیتی ہیں اور درندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے دوستی یا تعلق کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، ان کا اصل خدا صرف ان کا مفاد ہوتا ہے۔ جب تک انہیں "روٹی کا ٹکڑا” ڈالا جاتا رہتا ہے، یہ دم ہلاتے رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی مفاد کا یہ سلسلہ رکتا ہے یا ان کی ناجائز فرمائشیں پوری کرنے سے انکار کیا جاتا ہے، یہ کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک شریف انسان اور ایک ابنِ وقت بلیک میلر کے درمیان لکیر کھینچی جاتی ہے۔ معاشرتی سطح پر اس مسئلے کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بلیک میلنگ کی جڑیں احساسِ کمتری اور حد سے بڑھی ہوئی حرص میں پیوست ہیں۔ ایک بلیک میلر ذہنی طور پر مفلوج ہوتا ہے، اسے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں ہوتا، اس لیے وہ دوسروں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ کسی کو بدنام کر کے خود معتبر بن جائے گا، حالانکہ تاریخ کا سبق اس کے بالکل الٹ ہے۔ جھوٹ اور فریب کے بادل چاہے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، سچائی کا سورج انہیں چیر کر باہر نکل ہی آتا ہے۔ جو لوگ آج سوشل میڈیا پر کسی کے خلاف مہم چلا کر خود کو فاتح سمجھ رہے ہیں، انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وقت کا ترازو نہایت عادل ہے۔ جو گڑھا وہ دوسروں کے لیے کھودتے ہیں، بالآخر وہی ان کا مقبرہ ثابت ہوتا ہے۔ انسانی وقار وہ جوہر ہے جو کسی کے چھیننے سے نہیں چھنتا، بشرطیکہ انسان خود اسے داؤ پر نہ لگائے۔ "روٹی کا نوالہ” کمانے کے لیے جب انسان اپنی انا کا سودا کرتا ہے تو وہ درحقیقت اپنی انسانیت کا جنازہ نکال رہا ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ بھی اس مرض میں مبتلا ہو رہا ہے۔ اردو ادب جیسے مہذب شعبے میں، جہاں شائستگی اور تہذیب کا درس دیا جاتا ہے، وہاں بھی اگر مفاد پرستی کی بنیاد پر گروہ بندیاں ہوں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اخلاقیات کی حدود پامال کی جائیں، تو پھر عام آدمی سے کیا گلہ کیا جائے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے، اور جو رزق بلیک میلنگ یا کسی کو دکھ پہنچا کر حاصل کیا جائے، اس میں برکت نہیں بلکہ نحوست ہوتی ہے۔ وہ نوالہ جو کسی کی آنکھ میں آنسو لا کر حاصل کیا گیا ہو، وہ کبھی بھی سکونِ قلب کا باعث نہیں بن سکتا۔ ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان "بلیک میلر اصولوں” کی حوصلہ شکنی کریں۔ ہمیں ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں کسی کی مجبوری کا مذاق نہ اڑایا جائے اور نہ ہی کسی کی ذاتی زندگی کو عوامی بحث کا موضوع بنایا جائے۔ اگر کوئی شخص غلطی کرتا ہے تو اس کی اصلاح کا راستہ موجود ہے، نہ کہ اسے بلیک میل کر کے اس سے فوائد سمیٹے جائیں۔ دوسری طرف، جو لوگ اس طرح کے دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، انہیں بھی ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بلیک میلر کی سب سے بڑی طاقت سامنے والے کا خوف ہوتا ہے۔ جس دن خوف ختم ہو جاتا ہے، بلیک میلر کا وجود ریت کی دیوار کی طرح ڈھہ جاتا ہے۔ ہمیں اپنے اندر یہ یقین پیدا کرنا ہوگا کہ عزت اور ذلت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور کوئی انسان کسی کا رزق چھیننے یا اسے مستقل بدنام کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حق اور سچ کی راہ پر چلنے والوں کو وقتی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن انجامِ کار کامیابی انہی کے قدم چومتی ہے۔ "روٹی کا نوالہ” اگرچہ چھوٹا ہو، اگرچہ وہ سادہ ہو، لیکن اگر وہ دیانت کے ساتھ کمایا گیا ہے تو وہ اس عظیم الشان ضیافت سے بہتر ہے جو ضمیر کی فروخت کے عوض حاصل کی گئی ہو۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہی سکھانا ہوگا کہ محنت میں عظمت ہے اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے یا کسی کو مجبور کر کے فائدہ اٹھانے سے بہتر ہے کہ انسان فاقہ کر لے لیکن اپنی خودداری پر حرف نہ آنے دے۔ موجودہ دور کے سماجی انتشار کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے مادی ترقی کو ہی کامیابی کا واحد معیار سمجھ لیا ہے۔ جب کامیابی کا معیار صرف دولت اور طاقت ہو جائے تو پھر "بلیک میلر اصول” خود بخود جنم لیتے ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ راتوں رات امیر بن جائیں، چاہے اس کے لیے انہیں کسی کی زندگی برباد کرنی پڑے یا اپنے اخلاق کی نیلامی کرنی پڑے۔ یہ طرزِ فکر ایک ایسی کھائی کی طرف لے جا رہا ہے جہاں سے واپسی بہت مشکل ہے۔ سوشل میڈیا پر جو طوفانِ بدتمیزی برپا ہے، وہ دراصل اسی ذہنی پستی کا شاخسانہ ہے۔ لوگ لائکس، شیئرز اور چند ٹکوں کی خاطر انسانیت کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قلم اور کی بورڈ کی طاقت ایک امانت ہے، اسے کسی کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا خیانت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ دوبارہ امن اور محبت کا گہوارہ بنے، تو ہمیں انفرادی سطح پر اپنی اصلاح کرنی ہوگی۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے رزق کو کسی کی آہوں سے آلودہ نہیں کریں گے۔
ہمیں یہ باور کرنا ہوگا کہ "روٹی کا نوالہ” صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہمارے کردار کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ کیا ہم اسے حلال طریقے سے حاصل کر رہے ہیں یا ہم کسی بلیک میلر کی طرح دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں؟ تہذیبِ انسانی کے ارتقا میں ان لوگوں کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے جنہوں نے مشکل حالات میں بھی اپنے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔ انہوں نے بھوک پیاس برداشت کر لی لیکن کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا اور نہ ہی کسی کو ناجائز طریقے سے دبایا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے دنیا میں آج بھی نیکی کا تصور باقی ہے۔ بلیک میلر تو ہر دور میں رہے ہیں، وہ کبھی کسی پوشیدہ راز کی صورت میں حملہ آور ہوتے ہیں تو کبھی کسی جھوٹی تہمت کی صورت میں، لیکن ان کا انجام ہمیشہ عبرت ناک رہا ہے۔ وہ وقتی طور پر تو شاید جیت جائیں، لیکن تاریخ کے کچرا دان میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، وہ شخص جو اپنی محنت پر یقین رکھتا ہے اور اللہ پر توکل کرتا ہے، وہ ایک ایسی ڈھال میں ہوتا ہے جسے کوئی بلیک میلر نہیں توڑ سکتا۔ ہماری اخلاقی قدریں ہمیں سکھاتی ہیں کہ دوسروں کے پردے رکھو تاکہ اللہ تمہارے پردے رکھے۔ لیکن بلیک میلر کا کام ہی دوسروں کے پردے چاک کرنا ہوتا ہے۔ یہ عمل درحقیقت اپنے ہی وقار کو چاک کرنے کے برابر ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ان حالات پر نوحہ گری کرنا نہیں ہے بلکہ ایک بیداری پیدا کرنا ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ بننا چاہتے ہیں جہاں ہر شخص دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور اسے بلیک میل کرنے کی تاک میں بیٹھا ہو؟ یا ہم ایک ایسا معاشرہ بننا چاہتے ہیں جہاں ہر نوالہ محبت اور دیانت کی خوشبو سے مہک رہا ہو؟ جواب واضح ہے، لیکن اس پر عمل کرنا کٹھن ہے۔ اس کے لیے ہمیں اپنی خواہشات کو قابو میں کرنا ہوگا اور قناعت کی دولت کو اپنانا ہوگا۔ حرص و طمع کا یہ جن جو ہمارے اندر پل رہا ہے، اسے مارنا ہوگا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ بلیک میلنگ سے حاصل کی گئی دولت یا شہرت اس ریت کے گھروندے کی مانند ہے جو پہلی ہی لہر سے مٹ جاتا ہے۔ جبکہ دیانت اور اصولوں پر مبنی زندگی وہ مضبوط چٹان ہے جسے وقت کا کوئی سیلاب نہیں ہلا سکتا۔ ہمیں اپنی تحریروں، اپنی گفتگو اور اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم بلیک میلر اصولوں کے پیروکار نہیں بلکہ اس نوالے کے طلبگار ہیں جو عزت کے ساتھ دسترخوان پر آئے۔ حالیہ دنوں میں اردو کے نام پر جو کچھ ہوا، وہ ہم سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ زبان اور ادب تو جوڑنے کا نام ہے، توڑنے کا نہیں۔ اگر ہم اپنی زبان کو دوسروں کی تذلیل کے لیے استعمال کریں گے تو ہم زبان کی خدمت نہیں بلکہ اس کی توہین کر رہے ہوں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان عناصر کا بائیکاٹ کریں جو بلیک میلنگ کو اپنا پیشہ بنا چکے ہیں۔ ایسے لوگوں کو معاشرے میں وہ مقام نہ دیا جائے جس کے وہ خواہاں ہیں، بلکہ انہیں ان کے اصل روپ میں بے نقاب کیا جائے تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ انسانی معاشرہ تب ہی ترقی کرتا ہے جب اس میں انصاف کا بول بالا ہو اور جب طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے اخلاقی اصول برابر ہوں۔ بلیک میلر دراصل ایک بزدل انسان ہوتا ہے جو چھپ کر وار کرتا ہے، ہمیں اس بزدلی کے خلاف ایک دیوار بننا ہوگا۔ آخر میں، یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ زندگی ایک مسلسل امتحان ہے۔ اس امتحان میں کامیابی صرف ان کی ہے جن کا دامن صاف اور جن کا ضمیر مطمئن ہے۔ "روٹی کا نوالہ” اگرچہ محض ایک مادی شے نظر آتا ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی ہوئی نیت اور محنت اسے ایک مقدس فریضہ بنا دیتی ہے۔ جبکہ بلیک میلر کے تمام "اصول” صرف دھوکہ اور سراب ہیں۔ ہمیں انتخاب کرنا ہے کہ ہم کس راستے کے مسافر بننا چاہتے ہیں۔ وہ راستہ جو ذلت اور رسوائی کی طرف جاتا ہے یا وہ راستہ جو سکون، اطمینان اور ابدی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر ہم آج اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کر لیں اور اخلاقیات کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیں، تو نہ صرف ہم خود کو بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی ایک بہتر اور پاکیزہ معاشرہ دے سکیں گے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم کسی کا حق نہیں ماریں گے، کسی کی مجبوری کا فائدہ نہیں اٹھائیں گے اور ہمیشہ محنت و دیانت کے اصولوں پر کاربند رہیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک معتبر فرد اور ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں۔ حق کی جیت ہمیشہ ہوتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم حق کا ساتھ دینے کی جرات پیدا کریں۔ بلیک میلنگ کا اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، سچائی کا ایک ننھا سا چراغ اسے مٹانے کے لیے کافی ہے۔ ہم سب کو مل کر اس چراغ کی لو کو تیز کرنا ہوگا تاکہ معاشرے سے مفاد پرستی، بلیک میلنگ اور اخلاقی پستی کے بادل چھٹ سکیں اور ہر انسان عزت و وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے۔ انسانی نفسیات کا یہ پہلو بھی نہایت دلچسپ ہے کہ وہ جس چیز کی طرف راغب ہوتا ہے، اسے اپنے لیے جائز قرار دینے کے لیے حیلے بہانے تراشتا ہے۔ بلیک میلر بھی اپنے مکروہ عمل کو اکثر "انصاف” یا "حق کی آواز” کا نام دیتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک مصلح کے روپ میں پیش کرتا ہے، حالانکہ اس کے اندر چھپا ہوا مفاد پرست شیطان اسے مسلسل اکسا رہا ہوتا ہے۔ یہ دوغلا پن اس کے کردار کو مزید گھناؤنا بنا دیتا ہے۔ ہمیں ایسے دوغلے پن سے بچنا ہوگا اور اپنے اندر کی آواز کو پہچاننا ہوگا۔ کیا ہمارا ضمیر اس بات پر مطمئن ہے کہ ہم دوسروں کی زندگیوں میں زہر گھول کر اپنی خوشیوں کے محل تعمیر کریں؟ یقیناً نہیں۔ انسانی فطرت نیکی کی طرف مائل ہوتی ہے، بس اسے تھوڑی سی توجہ اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم روزانہ اپنا محاسبہ کریں کہ آج ہم نے جو "روٹی کا نوالہ” کھایا، وہ کس حد تک شفاف تھا، تو ہماری زندگیوں میں ایک مثبت انقلاب آ سکتا ہے۔ یہ دنیا عارضی ہے، یہاں کی شہرت اور دولت یہیں رہ جائے گی، جو چیز ساتھ جائے گی وہ ہمارا کردار اور ہمارے اعمال ہیں۔ اس لیے، آئیے اس عارضی فائدے کے لیے اپنی دائمی زندگی کو برباد نہ کریں۔ بلیک میلر اصولوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور محنت، دیانت اور انسانیت کے اصولوں کو اپنائیں، کیونکہ اسی میں فرد کی فلاح اور معاشرے کی بقا ہے۔ جب انسان اپنی انا کو قابو کر لیتا ہے اور دوسروں کے لیے خیر کا باعث بنتا ہے، تو کائنات کی تمام طاقتیں اس کی مدد کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ رزقِ حلال کی طلب اور اس کے حصول کے لیے کی جانے والی جدوجہد بذاتِ خود ایک عبادت ہے، اور اس عبادت کا ثمر وہی پاتا ہے جو خلوصِ نیت کے ساتھ اس راستے پر قدم بڑھاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم معاشرے میں ایسے رول ماڈل پیش کریں جنہوں نے فقر و فاقہ تو قبول کیا لیکن کبھی کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا اور نہ ہی کبھی کسی کو نقصان پہنچا کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو انسانیت کا اصل فخر ہیں اور انہی کے نقشِ قدم پر چل کر ہم ایک پُر امن اور خوشحال معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    بہار میں صوفیائے کرام اور حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری فردوسی

    بہار میں صوفیائے کرام اور حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری فردوسی

    مارچ 24, 2026
    بلیک میلر اصول اور روٹی کا نوالہ

    بلیک میلر اصول اور روٹی کا نوالہ

    مارچ 24, 2026
    ترقی یافتہ بھارت کیلئے آمدنی بڑھانے کی ضرورت

    ترقی یافتہ بھارت کیلئے آمدنی بڑھانے کی ضرورت

    مارچ 24, 2026
    بحران کا شکار ہاؤسنگ پروجیکٹس کو شرائط  پوری ہونے پر ہی مدد ملے گی: سیتارمن

    بحران کا شکار ہاؤسنگ پروجیکٹس کو شرائط پوری ہونے پر ہی مدد ملے گی: سیتارمن

    مارچ 24, 2026
    بہار میں صوفیائے کرام اور حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری فردوسی

    بہار میں صوفیائے کرام اور حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری فردوسی

    مارچ 24, 2026
    بلیک میلر اصول اور روٹی کا نوالہ

    بلیک میلر اصول اور روٹی کا نوالہ

    مارچ 24, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist