منہاج احمد
نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر راجندر پال گوتم نے ایک بار پھر متنازعہ بیان دیا ہے۔ اس بار انہوں نے دہلی اسمبلی میں شری رام چرت مانس کا نام لیے بغیر بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔ خواتین کی حفاظت کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ شری رام چرت مانس کے چار چوپائے کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں خواتین کو ہراساں کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان میں جس کتاب کی کچھ لوگ پوجا کرتے ہیں، اس پر ماضی میں کافی چرچا ہوا ہے اور اس پر کافی شور و غوغا بھی ہوا ہے۔راجندر پال گوتم نے کہا کہ یہ کتاب کہتی ہے کہ ’ڈھول گوار سدرا پشو نری، سکل تارنا کے ادھیکاری‘۔ انہوں نے اس کتاب کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اس کتاب سے اس چوپائے کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ دہلی حکومت کے سابق وزیر راجندر پال گوتم نے دہلی اسمبلی میں خواتین کی حفاظت کے معاملے پر بحث کے دوران یہ بیان دیا۔ ایسی کتاب کی پوجا کرنے کو کہا جاتا ہے، جس میں ڈھول پیٹنے اور مارنے کی بات ہو، ناخواندہ، سدرا پسو اور عورت کو ایک زمرے میں رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ کتاب کسی انسان کو انسان نہ سمجھنے کی بات کرتی ہے، ہمیں ایسی کتابوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کتاب سے ایسی چیزوں کو فوری طور پر حذف کیا جائے۔ راجندر پال گوتم نے کہا کہ یہ خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق معاملہ ہے۔ اس کتاب میں خواتین کے کردار کے بارے میں برے الفاظ لکھے گئے ہیں۔راجندر پال گوتم کا کہنا تھا کہ مرد خواہ کتنی ہی خواتین سے رشتہ بنائے، وہ جتنی چاہے شادیاں کرسکتا ہے، لیکن اس پر بات نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے ایل جی کے گھر کے پاس آئی پی کالج ہے۔ یہاں لڑکیوں کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور لےفٹننٹ گورنر خاموش بیٹھا ہے۔ وہ فوری طور پر اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔












