رام پو ر ، ایم ایل اے اور ایم پی کی رکنیت اگردوسال تک کے لئے منسوخ ہوجائے یا پھر سزاہوجائے تو پھر وہ سیٹ بھی خالی ہوجاتی ہے جس پر ضمنی چناؤہوناپھرقانون کے مطابق ضروری ہوتاہے۔ ایک معمولی معاملہ مرادآباد جھجلیٹ تھانہ حلقے میں2008میںدرج ہواتھا۔اس میں آٹھ لوگوںپر راستہ بند کرنے کامقدمہ درج ہوا تھا۔گزشتہ دن چھ کو بری کردیاگیا۔جب کہ اعظم خاںاورعبداللہ اعظم کو2-2سال کی سزاسنادی گئی۔ قیاس لگایاجارہاہے کہ سوار۔ٹانڈہ سیٹ پرضمنی چناؤہوگا۔ سب سے زیادہ ہلچل اب ٹکٹ کی دعویداری کولیکر بھاجپا اوراپنادل (ایس) میںمچی ہوئی ہے۔ 2022کے عام ودھان سبھاچناؤمیں بھاجپانے اپنی معاون پارٹی اپنادل سے رام پورکی سوار۔ٹانڈہ اسمبلی سیٹ پر حیدرعلی خاںکواپناامیدواربنایاتھاجن کو سماج وادی پارٹی کے امیدوارعبداللہ اعظم نے بری طرح سیاست کے میدان میںپٹخی دی تھی۔ اب چناؤہوگا ۔۔۔سماج وادی کے امیدوارکافیصلہ اعظم خاںپرمنحصرہے جب کہ کانگریس اوربہوجن سماج پارٹی یوںبھی چپکی سادھی ہوئی ہیں کہ وہ ضمنی انتخابات میں نہ دل چسپی لیتی ہیںاورنہ امیدواراتارتی ہیں۔ اب سب سے زیادہ بے چینی اپنادل (ایس)اور بھاجپاکے خیموںمیںہے۔
پہلے بھاجپاسے یہاںچاربار سابق وزیرشیوبہادرسکسینہ چار بارچناؤلڑے اور ایم ایل اے منتخب ہوچکے ہیں۔مگرگزشتہ کئی چناؤںمیںاب بھاجپاکوجیت نصیب نہیںہوپارہی ہے۔ جب سے ضمنی انتخابات کے بادل سوارٹانڈہ سیٹ پرمنڈلائے ہیںکئی دگج نیتابھی اپنی قسمت آزمانے کے لئے کوششوںمیںلگے ہوئے ہیں۔ بھاجپااور اپنادل (ایس) سے نصف نصف درجن امیدوارمیدان میںہیں۔ قوی امیدیہی ہے کہ اب معاون پارٹی اپنادل (ایس) سے امیدوارنہ اتاراجائے گابلکہ بھاجپاسے شیوبہادرسکسینہ یا پھر لکشمی سینی امیدوارہوںگی۔ایک سیاسی گھرانے میںعبداللہ کی اسمبلی رکنیت منسوخ کئے جانے کے بعدسے جشن منایاجارہاہے ۔ ماہرین سیاست کی مانیںتوان کی یہ خوشیاںکافورہوجائیںگی کیوںکہ اپنادل سے امیدوار میدان میںنہیںاتاراجائے گاجس کے لئے وہ یہ سب کررہے ہیں۔












