(سید مجاہد حسین)
راجیو گاندھی کے قتل کے سبھی مجرموں کو گر چہ رہائی کا پر وانہ مل چکا ہو اور وہ جیل سے باہر آگئے ہوں لیکن ان کی رہائی نا تو خود کانگریس پارٹی کے گلے سے نیچے اتر رہی ہے اور نا ہی مرکزی حکومت اس رہائی کو قبول کرنے تیار ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کرتے ہوئے عرضداشت داخل کی ہے ۔مرکز نے اپنی اپیل میں کہاہے کہ اتنے اہم معاملے میں عدالت نے اس کا موقف نہیں سنا اور نا ہی اتنے حساس معاملے میںسبھی مجرموں کی رہائی کے خلاف حقائق عدالت کے سامنے رکھے گئے۔مرکز کی اپیل پر سپریم کورٹ کا قدم کیاہوگا ،ایا اپیل کو قبول جائیگا ،یا مسترد کیا جائے اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ،البتہ اس پر کانگریس کا سخت رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے ،وہیں اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ایسے سنگین معاملے میںمرکزی حکومت ابتک کیوں سوتی رہی اور اس نے عدالت میں بر وقت اپنا موقف کیوں پیش نہیں کیا؟ ۔بہر کیف ایک جانب مودی حکومت اس وقت نیند سے جاگی ہے جب سبھی چھ مجرموں کو عام معافی دیتے ہوئے عدالت نے رہا کر دیا ہے تووہیں وہ اب کانگریس کے نشانے پر ہے ۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مانیکم ٹیگورکا الزام ہے کہ مرکز اور اس کے وکلاء نے بغیر کسی خلوص کے اس کیس کو نمٹا دیا اور نظرثانی کی عرضی طلب کرکے سستی سیاست میں ملوث ہیں۔ اب ان کا کہنا ہے کہ وہ نظرثانی کی درخواست کے لیے جا رہے ہیں!۔ یہ ایک ڈرامہ ہے اور گھوڑا باہر ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ مرکز ایسا کر رہا ہے اور یہ سستی سیاست ہے، ’’کانگریس ایم پی مانیکم ٹیگور نے مزید کہا، ’مرکزی حکومت، خاص طور پر اے جی نٹراج جو اس کیس سے نمٹ رہے تھے، عدالت میں نہیں تھے۔ جب جج نے مرکز کی نمائندگی کے بارے میں پوچھا تو عدالت کو بتایا گیا کہ اے جی سفر کر رہے ہیں۔ یہ وہ غیر معمولی نوعیت تھی جس کے ساتھ مرکز اس کیس کو نمٹا رہا تھا۔‘،لیکن بی جے پی کو کانگریس کا اعتراض ہضم نہیں ہو رہا ہے اور وہ معاملے کی نوعیت سے رو گردانی اور پارٹی کا دفاع کرتے ہوئے کانگریس پر حملہ آور ہے!۔ادھر دوسری جانب بی جے پی کے ترجمان نارائنن تھروپتی دعویٰ کررہے ہیں کہ عدالت نے مرکز سے مشورہ کیے بغیر مجرموں کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا ہے جبکہ کانگریس اپنے ہی لیڈر کی موت پر سیاست کررہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کو بولنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے کیونکہ وہ ڈی ایم کے کے ساتھ اپنا اتحاد جاری رکھے ہوئے ہے۔عدالت کو مرکز کی بات سننی چاہیے تھی۔ ملک بدر کرنے کا حق مرکز کے پاس ہے اور سرکاری پٹیشن میں بھی یہی کہا گیا ہے۔بہر کیف ،یہ ہمارے ملک کی بد قسمتی ہے کہ پہلے تو کوتاہی برتی جاتی ہے اور پھر اس پر سیاست شروع ہو جاتی ہے ،جبکہ اصل ایشو پیچھے رہ جاتا ہے ۔شاید راجیو کے قاتلوں کو معافی دے کر انہیں رہا کرنے کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ عدالت میں مرکز کی جانب سے سنجید گی سے ٹھوس پیروی اگر کی جاتی تو عدالت اس کی دلیل کو ضرور سنتی اور فیصلہ سنا تے ہوئے اس کو سامنے رکھتی ،اب اس سے کیا سمجھا جائے جب حکومت کے وکیل اہم پیشیوں پر کورٹ میں حاضر ہونے سے بچتے رہے اور سفر ور دیگر مصروفیت کا حوالہ دے کر عدم سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا !۔ لہذا اب اس کا فائدہ کیا جب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے ؟۔مرکز کا پیرارلیون کی رہائی سے نومبر 11 کے دیگر مجرموں کی رہائی کا موازنہ کرنے کا خیال اب کیوں آیا ،اس پر پہلے کوئی اعتراض کیوں داخل نہیں کیا گیا،دیگر معاملوں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا ؟یہ سوال اہم ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ سری لنکا کے چار شہریوں کا کیا ہوگا جنہیں ملک بدر کیا جانا ہے ،اور غیر ملکی حکومت کو سونپا جاناہے ؟۔ظاہر ہے کہ مرکز کے ڈھول مول رویہ کی وجہ سے اب جیل سے باہر آئے راجیو گاندھی قتل میں ملوث رہے لوگوں کا سینہ پھلانا عجب نہیں ،نلنی بھی اب اپنے ماضی پر پردہ ڈالتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ کہ’’ انہیں دہشت گرد نہ کہا جائے بلکہ انہیں متاثر (شکار) کہا جائے‘‘ ۔ظاہر ہے جب حکومت کی طرف سے راجیو گاندھی قتل معاملے میں لاپروائی برتی گئی تو آج ملک کے وزیر اعظم کے قتل میں ملوث افراد بے شرمی سے یہی سب کہیں گے!۔ اس میں شک نہیں کہ وزیر اعظم مودی دہشت گردی اور اس کا ساتھ دینے والوںکے خلاف اکثر آواز اٹھاتے رہے ہیں ،لیکن راجیو گاندھی قتل کیس میںمجرموں کے خلاف ان کی حکومت نے غیر ذمہ داری کا رول کیسے ادا کیا ، یہ بڑے تعجب کی بات ہے!۔












