نئی دلی۔ 28؍ اپریل۔۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج 91 مقامات پر 100 واٹ کی صلاحیت کے کم طاقت والے ایف ایم ٹرانس میٹر چالو کئے۔ یہ ٹرانس میٹر 20 ریاستوں کے 84 ضلعوں میں نصب کئے گئے ہیں۔ اس طرح آل انڈیا ریڈو کے ساتھ ٹرانس میٹروں کے نیٹورک کی تعداد بڑھ کر 524 سے 615 ہوگئی ہیں۔ اضافی ٹرانس میٹروں سے ملک کی 73.5 فیصد آبادی کو اے آئی آر کی کوریج حاصل ہوگی۔بایاں بازو کے انتہا پسندی والے علاقوں اور ملک کے آزومند ضلعوں اور سرحدی علاقوں کو ان ٹرانس میٹروں کے نصب کے لئے ترجیح دی گئی ہے۔ ایف ایم ریسیور سے لیس موبائل فون کی آسان دستیابی اور صاف آواز کی کوالٹی نے ملک میں ایف ایم ریڈو کی سروس کی مانگ میں اضافہ کردیا ہے۔ اس مانگ کو پورا کرنے کے لئے اور ادارے کی صلاحیت سازی کو بڑھانے کے ایک اہم قدم کے طور پر حکومت نے ملک میں مزید 63 ایف ایم ٹرانس میٹرس نصب کرنے کی مزید منظوری دے دی ہے۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اس غیر معمولی لمحے کے موقع پر آل انڈیا ریڈیو کو مبارکباد دی ہے۔ان ٹرانس میٹرس میں اضافہ کی اہمیت کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج آل انڈیا ریڈیو ایف ایم بننے کی سمت میں آل انڈیا ریڈیو کے ذریعہ ایف ایم خدمات کی توسیع میں ایک اہم قدم ہے۔ انھوں نے کہا کہ آل انڈیا ریڈیو کی جانب سے 91 ایف ایم ٹرانس میٹرس کا آغاز ملک کے دو کروڑ لوگوں اور 85 ضلعوں کے لئے ایک تحفے کی طرح ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی کو عام کرنے کے لئے مسلسل کام کررہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ کسی بھی ہندوستانی کواس موقع کی محرومی کا احساس نہیں کرنا چاہئے۔بشرطیکہ ہندوستان کو اپنی مکمل صلاحیتوں کے ساتھ ابھرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی وقابل رسائی اورسستا بنانا اس کے لئے اہم ہے۔ انھوں نے تمام گاؤوں کے لئے آپٹیکل فائبر اور سب سے سستے ڈیٹا لاگت کا ذکر کرکے اس کی وضاحت کی جس سے معلومات کی رسائی آسان ہوگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس نے گاؤوں میں ڈیجیٹل صنعت کاری کو ایک نئی پیش رفت دی ہے۔ اسی طرح یوپی آئی نے بینکنگ خدمات کی رسائی کے لئے چھوٹے کاروباریوں اور خوانچہ فروشوں کی مدد کی ہے۔وزیر اعظم نے ریڈیو کے ساتھ اپنی جنریشن کے جذباتی رابطہ کا ذکر کیا وزیر اعظم نے کہا کہ میرے لئے خوشی میں اضافہ ہوا ہے کہ میں نے ایک ہوس کی طرح ریڈیو کے ساتھ تعلقات بنائے ہیں۔ وزیر اعظم نے من کی بات کی 100ویں قسط کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ ہم وطنوں کے ساتھ جذباتی رابطہ کا یہ طریقہ اور نوعیت صرف ریڈیو کے ذریعہ ہی ممکن تھی۔ اس کے ذریعہ میں ملک کی طاقت سے منسلک رہا اور ہم وطنوں میں فرض کی مجموعی طاقت سے منسلک رہا۔ انھوں نے سوچھ بھارت ، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اور ہر گھر ترنگا جیسے اقدامات میں اس پروگرام کے رول کی مثالیں دے کر اس نقطہ نظر کا ذکر کیا جو من کی بات کے ذریعہ عوام کی تحریک بن گئی ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اس طرح میں آل انڈیا ریڈیو کی ٹیم کا ایک حصہ ہوں۔وزیر اعظم نے کہا کہ 91 ایف ایم ٹرانس میٹر کا افتتاح حکومت کی ان پالیسیوں کو آگے لے جائیگا جس میں کہ محروم لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو اب تک اس سہولت سے محروم رہے ہیں۔ وہ لوگ جو خود کو دور کھڑا محسوس کرتے ہیں انھیں اب بڑے سطح پر جوڑنے کا موقع حاصل ہوگا۔ ایف ایم ٹرانس میٹر کے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے بروقت اہم معلومات ریلے کرنے کا ذکر کیا، انھوں نے کمیونٹی کی صلاحیت سازی کی کوششوں ، زرعی طورطریقوں سے متعلق موسم کے بارے میں تازہ معلومات، کسانوں کے لئے خوراک اور سبزیوں کی قیمتوں کے بارے میں معلومات، زراعت میں کیمکلس کے استعمال کے ذریعہ ہوئے نقصان کے بارے میں تبادلہ خیال ،زراعت کے لئے جدید مشینری کی پولنگ ، خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں کو مارکیٹ کے نئے طور طریقوں کے بارے میں مطلع کرنا اور قدرتی آفات کے دوران پوری کمیونٹی کی مدد کرنےکے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے بارے میں بھی ذکر کیا۔ انھوں نے ایف ایم کی معلوماتی قدر کا بھی ذکر کیا۔












