ارریہ :- ( مشتاق احمد صدیقی ) پلاسٹک سے بنی اشیاء نہ صرف ہماری ہوا، مٹی اور پانی کو آلودہ کر رہی ہیں، بلکہ وہ ہماری غذائی اشیاء کو بھی آلودہ کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ بات صرف یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ پلاسٹک اور اس کی مصنوعات کرہ ارض کے ماحولیاتی نظام کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ضلع کا معروف ومشہور اور سی بی ایس ای سے افیلیٹیڈ تعلیمی وتربیتی ادارہ "السبیل اکیڈمی” کسیارگاؤں ارریہ کے کیمپس میں یہاں کے طلبہ اور طالبات کے ذریعہ پلاسٹک کے نقصانات پر مبنی سائنس پروجیکٹ کے ذریعہ اس کے استعمال نہ کرنے کاپیغام پروگرام کے دوران اکیڈمی کے پرنسپل ابوذر تبسم نے کیا۔ آپ نے مزید کہا کہ

یہ مسئلہ ایک گھمبیر شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے حل کے لئے مربوط اور فعال کوششوں کی ضرورت ہے۔ حال ہی میں ورلڈ وائلڈ لائف اور آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو کیسل میں ہونے والی ایک ریسرچ میں اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق ہر آدمی ہفتے میں تقریباً پانچ گرام پلاسٹک نگل جاتا ہے، جو کہ ایک کریڈٹ کارڈ کے وزن کے برابر ہے۔ اس طرح یہ مقدار ایک مہینے میں 21 گرام اور ایک سال میں ڈھائی سو گرام تک پہنچ جاتی ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات ضروری ہو چکے ہیں، تاکہ زمین کے نظام کو مزید آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے، اس لئے میں یہ بھی اعلان کرنا چاہوں گا کہ ہم عالمی تحریک ‘پلاسٹک فری جولائی’ کا حصہ بنیں گے جو لاکھوں لوگوں کو پلاسٹک کی آلودگی کے حل کا حصہ بننے میں مدد دےگی، کیونکہ
پلاسٹک کی آلودگی کا نقصان اور دوسری آلودگیوں کے نقصانات سے زیادہ خطرناک ہے، جس کا آج پوری دنیا سامنا کر رہی ہے۔ اس موقع پر اسی اکیڈمی کے کلاس VIII کے کچھ طلباء نے کیمپس میں پلاسٹک کے کچرے کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے کے لئے اپنے بینرز اور پوسٹرز کی نمائش بھی کیں،جن میں یہ نعرے لکھے ہوئے تھے:- "تھوڑا مشکل سہہ لیں گے، پر پلاسٹک کو نہیں جھیلیں گے۔ کام کرو جی کام کرو! پلاسٹک کا نام تمام کرو! پلاسٹک ہے پیڑا کا کارن، کرنا ہے اب اس کا نیوارن۔ پلاسٹک کو ہٹانا ہے، ہر جن کو سوستھ بنانا ہے۔ جو پلاسٹک کا اپیوگ نہیں چھوڑے گا، وہ جلد ہی دنیا کو چھوڑے گا۔ ہریالی کو پڑھانا ہے، پلاسٹک کو ہٹانا ہے۔ عالمی تحریک "پلاسٹک فری جولائی” کے تحت جن طلباء نے سب سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ان میں شمس قیصر کلاس viii، وثیق الرحمٰن کلاس viii، وسیم احمد درجہ ہشتم ، سمیہ ناصر درجہ ہشتم، ماہ رخ قیصر کلاس viii اور زیبا حسن بنت افتخار عالم درجہ ہشتم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔












