نئی دہلی،30اکتوبر،سماج نیوز سروس:دہلی حکومت کے محکمہ وجیلینس نے ایک آرڈر جاری کرکے وقف بورڈ کے 70سے زائد تربیت یافتہ ملازمین کو فورا ان کی ملازمت سے سبکدوش کرنے کا آرڈر جاری کیا ہے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلوندر یادو کے دستخط سے یہ لیٹر 13اکتوبر کو جاری کیا گیا ہے جس میں 19اگست2023کی ایک شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے دہلی حکومت کی منظوری لئے بغیروقف بورڈ میں کانٹریکٹ پر ملازمین کی بھرتی کی جو کہ غیر قانونی ہے جسے فوری طور پر رد کرنے اور امانت اللہ خان کے خلاف کارروائی کرنے کرنے کی ضرورت ہے۔وقف بورڈ کے چیف ایگزیکیٹیو افسر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آگے کوئی غیر قانونی کام نہ ہو۔غور طلب ہے کہ 2019میں وقف بورڈ میں چیئرمین رہتے امانت اللہ خان نے بورڈ کے روز مرہ کے کام کاج اور وقف جائدادوں کے سروے و دیگر کام کے لئے 100کے قریب ملازمین کو بھرتی کیا تھا جس میں سے کچھ ملازمین کا کانٹریکٹ ختم ہوگیا اور باقی ملازمین ابھی تک دفتر وقف بورڈ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں مگرمحکمہ وجیلینس کی جانب سے جاری اس لیٹر کے بعد اب یہ یقینی ہوگیا ہے کہ کانٹریکٹ پر رکھے گئے ملازمین کو ایک دو دن میں باہر کا راستہ دکھا دیا جائے۔تفصیل کے مطابق اس وقت وقف بورڈ میں کل 100کے قریب عملہ کام کر رہاہے جس میں لیگل اسٹاف سے لیکرانجینئر اور فیلڈ اسٹاف بھی شامل ہے۔ان 100ملازمین میں کل 28ملازمین ایسے ہیں جو پرانے ہیں اور مستقل ہیں جبکہ باقی ملازمین کانٹریکٹ پر ہیں ۔وقف کے معاملات کی جانکاری رکھنے والے بعض سماجی کارکنان نے بتایا کہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان مستقل 28ملازمین میں سے اکثریت کی فہرست نچلے درجہ کے ملازمین کی ہے جن میں صرف 2یو ڈی سی ہیں،6ڈرائیور ہیں،4چپراسی ہیں،5ایم ٹی ایس ہیں اور باقی ایل ڈی سی ہیں۔ان مستقل ملازمین میں نا کوئی انجینئر ہے،نا سرویئر،نا اکاونٹنٹ،اور نا وکیل اور نا کوئی آفیسر رینک کا ملازم۔ ایسے میں کیسے وقف بورڈ کے سارے امور انجام پائیں گے یہ سمجھ سے باہر ہے۔ذرائع کے مطابق وقف بورڈ میں پہلے 80اسٹاف کی ضرورت تھی جو اب بڑھکر 120ہوگئی ہے جسے دیکھتے ہوئے کانٹریکٹ پر ملازمین کی بھرتی کی گئی تھی اور اس کے لئے باقاعدہ دہلی حکومت کی کابینہ کی منظوری بھی لی گئی تھی حالانکہ وقف بورڈ میں کل 64منظور شدہ پوسٹ ہیں جنھیں بورڈ کے روز مرہ کے کام کاج نمٹانے کے لئے بھرنا ضروری ہے اور ضرورت کو دیکھتے ہوئے باقی پوسٹس کی منظوری بھی ہونی ضروری تھی تاہم ایسا نا ہوکر جو ملازمین کانٹریکٹ پر ہیں اور تربیت یافتہ ہیں اوروقف بورڈ میں انہوں نے سارا کام سنبھالا ہوا ہے کیونکہ گزشتہ 5سال کی مدت میں انہوں نے کام کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے اب انھیں ہی نکالا جارہاہے۔وقف کے بعض جانکاروں نے بتایاکہ دراصل ان سب معاملات کے پیچھے ملی اداروں کو برباد کرنے کی ایک بڑی سازش کار فرماہے جس کے لئے کچھ اردو نام والی کالی بھیڑوں کو پیچھے لگایا گیا ہے جو ایجنسیوں میں جھوٹی شکایات کرکے وقف بورڈ کو پوری طرح سے مفلوج کرنا چاہتے ہیں تاکہ اوقاف کی زمینوں خاص کرہزاروں کروڑ کی 123وقف جائدادوںپر قبضے ہوجائیں اور انھیں ہڑپ کرلیا جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ وہی کالی بھیڑیں ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر گزشتہ دو سال سے وقف بورڈ کو مفلوج بناکر رکھا ہوا ہے اور اب اسٹاف کو نکال کر بورڈ کو پوری طرح سے حکومت کے رحم وکرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں۔غور طلب ہے کہ یہ وہی اسٹاف ہے جسے سال میں کبھی کبھار تنخواہ ملتی ہے اور اب گزشتہ 6ماہ سے عدالت کے حکم کے باوجود انھیں تنخواہ نہیں دی گئی ہے اس کے باوجود یہ ملازمین محنت اور ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں ۔وقف امور کے جانکاروں کا کہنا ہے کہ بورڈ کی تشکیل نو کا صرف ایک سوشہ چھوڑا گیا ہے اور امید نہیں ہے کہ آنے والے دنوں میں جلدی بورڈ کی تشکیل عمل میں آجائے بلکہ اسٹاف کو نکالنے کے بعد وقف جائدادوں پر قبضے میں تیزی آجائے گی جو وقف مخالفین کا اصل مقصد ہے۔












