بنگلور ،پریس ریلیز،ہماراسماج: نماز جمعہ سے قبل ممتاز عالم دین حضرت مولانا محمد جمال الدین صاحب صدیقی رشادی مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم الدین گنگانگر بنگلور32نے خطبہ جمعہ میں ہندوستان میں یکساں سیول کوڈ کا نفاذ کے موضوع پر بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہمارا ملک ہندوستان جہاں صدیوں سے اسلام ہے، صدیوں سے مسلمان اپنی تمام اسلامی اور مذہبی تشخصات اور امتیازات کیساتھ آباد ہیں، جس ملک میں صدیوں مسلمانوں نے حکومت کی ہے، مسلم بادشاہوں، مسلم حکمرانوں کا دور حکومت ایک روشن باب ہے، ملک کی تاریخ میں مسلم بادشاہوں کا دور حکومت سنہرے حروفوں سے لکھا ہوا ہے، جب انگریز ملک میں آے اور انھوں نے اپنی عیاری اور شاطر دماغی سے اقتدار پر قبضہ کرلیا، ملک انگریزوں کا غلام ہوگیا، ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی کی خاطر سب سے زیادہ قربانیاں مسلمانوں نے دی ہیں، آزادی کی خاطر لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان قربان کیا ہے، ہزاروں علماء کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا، تاریخ تحریک آزادی ہند میں سب کچھ موجود ہے، طویل جدو جہد قربانیوں اور شہادتوں کے بعد ملک1947 میںآزاد ہوا، بد قسمتی آزادی کے بعد ملک تقسیم بھی ہوگیا، اب آزاد ہندوستان میں حکومت چلانے کیلے، امن و امان قائم رکھنے کیلئے، نظم و ضبط برقرار رکھنے کیلے، ملک میں مختلف مذاہب کے لوگوں اور مختلف قبائل کے حقوق کے تحفظ کیلے ماہر قانون، صاحب علم و بصیرت، دانشوروں، انسانیت نواز احباب پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، ان سب نے مل کر ملک کا آئین اور دستور بنایا26جنوری1950ء کو قانون ساز اسمبلی نے اس کو منظورکیا، مولانا نے دوران خطاب فرمایا دستور ہند کے رہنما اصولوں کے تحت دفعہ 44میں کہا گیاہے، حکومت پورے ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کرے گی، ایسا نہیں ہے حکومت پورے ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذکرے گی، اس کا مطلب یہ تھا نکاح، طلاق، خلع، وراثت، تبنیت اور دیگر عائلی قوانین بلاتفریق مذہب و ملت ملک کے تمام شہریوں، باشندوں کیلے یکساں ایک ہی ہوں گے، یہ ایسا مسئلہ تھا ایسا دستوری فیصلہ تھا جو ملک کے مسلمانوں کیلے کسی صورت میں کبھی بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا تھا، ملک بھر میں مسلمانوںنے اس کے خلاف احتجاج کیا حکمرانوں تک اپنا موقف پہنچایا، مسلمان یکساں سیول کوڈ کا نفاذ ملک میں اسلام میں مداخلت سمجھتا ہے، اسلامی قانون میں مداخلت سمجھتا ہے، شریعت مطہرہ میں مداخلت سمجھتا ہے، اس زمانے میں ہی دستور ساز اسمبلی میں یہ اعلان کیا گیا اور مسلمانوں کو حکومت کی طرف سے اطمینان دلایا گیا ملک میں مسلم پرسنل لاء میں اسلامی قانون میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کی جاے گی، حکومت کی یقین دہانی کے باوجود ملک میں حکومت کی طرف سے یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کیلے اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن کھبی کامیابی نہیں ملی، 1963میں حکومت کی طرف سے ایک کمیشن مقرر کیے جانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا، جس کا مقصد ملک میں مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی پر غور فکر اور اس کے لئے عملی راہوں کی تلاش تھی، لیکن مسلمانوں کی شدید مخالفت کی وجہ سے یہ کمیشن مقرر نہیں کیا جاسکا، 1972 میں پھر اسی پالیسی کو دہرایا گیا ملک کی پارلیمنٹ میں متبنّٰی بل(منہ بولا بیٹا ، لے پالک) پاس کیا گیا، مسلمانوں کی پھر شدید مخالفت کے بعد مسلمانوں کو اس بل سے الگ رکھا گیا مسلمان اس بل پر نہیں اپنے اسلامی قانون پر عمل کریں گے، اس کے بعد ہی ملک میں ہمارے اکابر علماء کرام، ماہر قانون، دانشوران نے اٰل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو قائم کیا جو الحمدﷲ اس ملک میں اسلام اور اسلامی قوانین کے تحفظ کیلے برابر قابل قدر اقدامات کر رہا ہے، مولانا نے دوران خطاب فرمایا حالیہ دنوں ملک کی دو ریاست اتراکھنڈ اور گجرات کی قانون ساز اسمبلی میں جس نام نہاد یونیفارم سیول کوڈ، یو سی سی، یکساں شہری قانون بل منظورکیا گیا ہے، یہ شریعت مطہرہ اور مسلمانوں کے عائلی قانون اور معاملات میں کھلی مداخلت ہے، ملک کے مسلمانوں کو یہ قانون کسی صورت میں منظور نہیں ہے، ملک کے مسلمانوں کا اتراکھنڈا ور گجرات کی قانون ساز اسمبلی سے یہ مطالبہ ہے اس شہری قانون کو فوری طور پر روک دیا جائے، موجودہ حالات میں یہ نہ ضروری ہے اور نہ ہی مناسب ہے اس کا نفاذ تو شہر یوں کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی کے بالکل خلاف ہے۔












