ممبئی : 11/جولائی ، موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو سروکار نہیں لیکن بعض ہستیاں ایسی ہیں جن کی رحلت سے پوری قوم و ملت کا خسارہ واقع ہوتا ہے ، ایسی ہی دلائل و براہین کے دنیا کی باکمال شخصیت یعنی حضرت مولانا سید طاہر حسین گیاوی ؒ کا انتقال 10 جولائی کو تقریباً 12 بجے دوپہر میں ہوگیا ہے ، اسی مناسبت سے تعزیتی اظہار ممبئی کے علماء نے کیا ہے جو کل ہند تحریک فلاح ملت سے جوڑے ہوئے ہیں ۔
چناچہ حضرت مولانا مفتی شرف الدین صاحب قاسمی (امام و خطیب مسجد انوار و ایڈیٹر ماہانہ الماس گوونڈی ) نے اس طرح اظہارِ الم پیش کیا ہے "حق کی آواز کا بے باک نقیب ترجمان اہل سنت والجماعت باطل نظریات کے خلاف شمشیر برہنہ ، اثبات حق وصداقت کی روشن علامت ،متکلم اسلام ، اور ترجمان افکار دیوبند مولانا طاہر گیاوی صاحب کی رحلت ملت اسلامیہ ہند کے لئے ایک عظیم سانحہ ہے ۔علمی ،فکری، اور نظریاتی سطح پر مولانا رحمت اللہ علیہ کی جو وقیع اور وسیع خدمات ہیں ، اور علمی تبحر، بلند آہنگ خطاب اور حق و باطل کے درمیان معرکوں میں فتح و ظفر اور احقاق حق کا جس قدر وقیع کارنامہ آپ نے انجام دیا ہے اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی، اللہ تعالی مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کی قبر کو انوار سے معمور فرمائے آمین” ۔
حضرت مولانا عطاء اللہ قاسمی حنفی (امام وخطیب مسجد رحمت عالم گوونڈی) نے اپنے رنج کو یوں پیش کیا ہے "افلاک رورہے ہیں
زمیں بھی اداس ہے
آنسو بہارہی ہے فضا
تیری موت پر ، دلائل و براہین کی دنیا کا بے تاج بادشاہ، حنفیت و دیوبندیت کی دہائیوں تک تن تنہا ترجمانی کرنے والے عظیم مناظر،خطابت و بیان کے شیر ببر استاذ العلماء متکلم اسلام حضرت مولانا محمد طاہر حسین صاحب گیاویؒ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں ، عظیم صلاحیتوں کے اس عظیم انسان نے اپنے بے مثال حافظے، بر محل قادر الکلامی اور احقاق حق میں اس شان سے اپنا لوہا منوایا تھا کہ سر زمینِ ہند کے چپے چپے میں اس کی خطابت کی گونج اور اس کے نام کی بازگشت سنائی دیتی تھی ، اللہ تعالیٰ حضرت کی خدمات کا بہترین صلہ عطا فرمائے اور بعد والوں کو حضرت کے علوم سے استفادے کی توفیق دے آمین” ۔
مولانا امان اللہ ذوالفقار احمد نوری(خادم الإحسان اسلامک دعوہ سینٹر، ومتعلم جامعہ تبوک سعودی عرب) نے اپنا تعزیتی پیغام میں کہا کہ ” گیاوی ؒ ایک روشن چراغ کے مانند تھے جس سے زمانے کو روشنی ملتی تھی ، وہ ایک نامور عالم دین عظیم صلاحيتوں کے حامل، اور اپنے اثر رسوخ کا لوہا منوانے والے۔دینی ملی ادبی اخلاقی حلقوں میں کافی قدر ومنزلت کی نگاہوں سے دیکھے جانے والے، لاکھوں مسلمانوں کے دل کی دھڑکن مایہ ناز علمی شخصيت تھے۔ طویل علالت کے بعد حضرت مولانا سید طاہر حسین ابن سید سلطان احمد گیاوی بہ رضائے الٰہی سے داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے ، دعاء گو ہوں کہ حضرت والا کی بے لوث دینی ملّی خدمات کو رب قدیر قبول فرمائے اور مقام اعلٰی علیین میں جگہ عنایت فرماکر جنت الفردوس عطا فرمائے ۔رب کریم غریق رحمت فرمائے اور اہل وعیال کو صبر جمیل ونعم البدل عطا فرمائے آمین” ۔
مولانا طفیل ندوی (جنرل سیکرٹری امام الہند فاؤنڈیشن ممبئی) نے کچھ اس طرح اظہارِ رنج پیش کیا ہے کہ ” مناظراسلام حضرت مولاناسید محمد طاہرحسین صاحب گیاویؒ کا انتقال یہ اہل مدارس وعلماٸے کرام کیلٸے بہت افسوس کامقام ہے کہ علمی دلاٸل کابحربیکراں ہمارےدرمیان سے رخصت ہوگیا حضرت مولانا اپنی علمی خطابت سے ان چیزوں کی جو خرافات وبدعات کےرسومات میں عوام الناس میں راٸج تھی اسےقرآن وحدیث کی روشنی میں واضح کیا حضرت کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ادھرادھرگفتگو سےکنارہ کش ہوکرقرآن و احادیث سےدلاٸل پیش کرتےیہ حضرت کی ایک بڑی خدمات تھی اللہ تعالی نےجو ذہن کاملکہ دیاتھا اس کامکمل استعمال کیا ابھی چند سال سےحضرت کی طبیعت ناسازتھی اورکٸی مرتبہ آپریشن کےمراحل سےبھی گذرنا پڑا مگر اب اللہ رب العزت کی طرف سے وقت متعینہ کی تکمیل ہوچکی تھی اوراسی تکمیل کیساتھ حضرت اس دارفانی سے داربقاکی طرف رخصت فرماگئے ، اللہ رب العزت حضرت کی تمام علمی خدمات کوقبول فرماکر جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرماٸے آمین” ۔
مولوی محمد عامل ذاکر ندوی (خادم کل ہند تحریک فلاح ملت) نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا گیاوی ؒ سے اس وقت پہلی ملاقات ہوئی جب میں مدرسہ منھاج السنہ مالونی ملاڈ میں زیرِ تعلیم تھا اس وقت ناظرہ قرآن مجید پڑھ رہا تھا ، اس قبل گیاوی ؒ کے متعلق بہت سے دلچسپ و تاریخی واقعات بھی سن رکھے تھے ، اسی زمانہ میں حضرت ؒ کی خدمت اور قریب سے گفت و شنید کا موقع بھی ملا ، بہت سی دعاؤں سے بھی حضرت نے نوازا ،اگر میں کہوں کہ حضرت والا کی شخصیت ایسی تھی جو بدعات و خرافات اور بے جاں رسومات کے خاتمے کے تئیں ہمیشہ کوشاں رہتی تھی تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا ، اسی موضوع پر مشتمل گیاوی ؒ کی درجن کے قریب کتابیں ہیں جو اہل علم کے لئے فائدہ مند اور دین حق کے متلاشی کےلئے قیمتی اثاثہ کے مانند ہے ، آپ ؒ حنفیت و دیوبندیت کی جیتی جاگتی تصویر اور قاطع شرک و بدعت اور حامی قرآن و سنت تھے ۔ اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو قبول و عام فرمائے آمین












