صادق شروانی
نئی دہلی، دہلی وقف بورڈ چیئرمین امانت اللہ خان نے آج وقف جائیداد123کے معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایاکہ وقف کی 123 جائیدادکےلئے وقف بورڈ پر طرح طرح کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں وہ بے بندیاد ہیں،کیوںکہ کچھ لوگوںکے تونشانے پر دہلی وقف بورڈ چیئرمین امانت اللہ خان ہے اوران کا مقصد بورڈ سے مجھے ہٹانا ہے۔ اس طرح کے زیادہ ترلوگوںکو وقف کی پراپرٹی سے بھی کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ امانت اللہ خان نے بتایاکہ اس معاملے پر دہلی وقف بورڈ پہلے سے ہی عدالت میں کیس لڑ رہا ہے لیکن اب اس طرح کے نوٹس آنے کے بعد وقف بورڈ نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کردی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ دہلی ہائی کورٹ ہمارے معاملے کو لسٹڈ کرتا ہے یافوری طور سے شنوائی کی تاریخ طے کرتا ہے یہ عدالت کے فیصلے پر منحصر ہے۔ انہوںنے وقف جائیداد123کےلئے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا اور الزام عائد کرتے ہوئے 123وقف جائیداد کے تعلق سے تفصیلی تعارف بھی پیش کردیا، جس میں دعویٰ کیاگیاکہ یہ معاملہ 1911سے 1915کے درمیان کا معاملہ ہے جب ہندوستانی برٹش سرکار نے دہلی کو راجدھانی بنانے کا فیصلہ کیا اور سرکاری دفاتر سمیت سکریٹریٹ بنانے کےلئے جگہ کی نشاندگی کی گئی۔ ایک سنگل نوٹیفکیشن کے ذریعہ جو جگہیں آئیں ان میں درگاہیں، مسجدیں اور قبرستان بھی شامل تھے۔جن لوگوں کی ذاتی جگہیں اس میں گئیں تھیں انہوں نے تو معاوضہ لے لیا لیکن مسلمانوں،مسجدوں کے متولیان نے مسجدوں اور درگاہوں کا معاوضہ لینے سے انکار کردیا۔نہ صرف یہ کہ معاوضہ نہیں لیا بلکہ ان جائدادوں سے قبضہ بھی نہیں چھوڑا،نتیجتاً مسجدوں میں بدستور نمازیں ہوتی رہیں اور قبرستان میں تدفین ہوتی رہی۔1970 کی دہائی میں اس وقت کی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی نے آئی اے ایس آفیسر مظفر حسین برنی کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس کو عرف عام میں برنی کمیٹی کہا جاتا ہے۔برنی کمیٹی نے مندرجہ ذیل سفارشات مرکزی حکومت کو پیش کیں۔فہرست Cمیں 84جائدادوں کا ذکر ہے۔(29 of L&DOاینڈ 55 of DDA)برنی کمیٹی کے ذریعہ ان جائداوں کو منتقل کرنے کی سفارش نہیں کی گئی۔
1980کی دہائی میں اس وقت کی کانگریس کی مرکزی سرکار نے ان تمام 123وقف جائدادوں کو دہلی وقف بورڈ کو واپس کرنے کی بجائے ایک روپیہ کی سالانہ لیز پر دینے کا نوٹیفکیشن کردیا، یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر اندر پرست وشو ہندو پریشد کو عدالت سے اسٹے مل گیا۔ امانت اللہ خان نے کہاکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلمانوں کو یہ تمام وقف جائدادیں جس میں 90%مساجد،درگاہیں اور قبرستان ہیں مسلمانوں کو ہرجانہ کے ساتھ واپس کی جاتیں لیکن ہوا اس کے برعکس،اس وقت کی کانگریس سرکار نے سازش کے تحت یہ پوائنٹ اسمیں جوڑا کہ یہ تمام جائدادیں ایک روپیہ سالانہ کی لیز پر دہلی وقف بورڈ /مسلمانوں کو واپس کی جائیں۔ ایک روپیہ سالانہ کی لیز کی وجہ سے ہی اندر پرست وشو ہندو پریشد نے عدالت سے اسٹے حاصل کرلیا اور یہ اسٹے تقریبا 30سال چلا اور UPAکی سرکار نے اپنے آخری دور میں الیکشن کے لئے ضابطہ اخلاق نافذ ہونے سے ایک رات قبل ان تمام وقف جائدادوں کے ڈی نوٹیفائی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس کے خلاف وشو ہندو پریشد نے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے وزارت شہری ترقیات کو اس معاملہ میں فیصلہ لینے کے لئے کہا جس پر وزارت شہری ترقیات نے ون مین کمیٹی بنادی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس ون مین کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کردی تھی مگر یہ رپورٹ دہلی وقف بورڈ کے ساتھ شیئر(ساجھا)نہیں کی گئی جس کے بعد موجودہ مرکزی حکومت نے دو رکنی کمیٹی بنادی جس کے خلاف دہلی وقف بورڈ نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور یہ معاملہ ابھی تک دہلی ہائی کورٹ میں پینڈنگ ہے۔ 8-02-2023کو L&DOنے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین کے نام ایک لیٹر جاری کیا اور کہا کہ اس معاملہ سے دہلی وقف بورڈ کو دستبردار کیا جاتا ہے جبکہ اس طرح کا لیٹر جاری کرنے کا L&DOکو کئی اختیار نہیں ہے کیونکہ معاملہ ہائی کورٹ میں پینڈنگ ہے۔اس کے خلاف دہلی وقف بورڈ نے دہلی ہائی کورٹ جانے کافیصلہ کیا ہے اور اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔جہاں تک معاملہ 123وقف جائدادوں کا ہے تو ان میں سے بیشتر مساجد، قبرستان،درگاہیں ہیں اور وہ سب وقف بورڈ /مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں ان میں باقاعدہ نمازیں اور عبادات ہورہی ہیں۔دہلی وقف بورڈ کی منتظمہ کمیٹیاں وہاں کا انتظام چلارہی ہیں اور ان شاءاللہ یہ جائدادیں وقف بورڈ اور مسلمانوں کے پاس ہی رہیں گی انھیں کوئی نہیں لے سکتا۔باقی جو باتیں وقف بورڈ کے خلاف کی جارہی ہیں وہ سب پروپیگنڈہ ہے۔












