نئی دہلی، جس نے اس دنیا میں ہمیں بھیجا ہے اسی کی عبادت ہواور اسی سے دعا کرنی چاہئے کیونکہ سبھی کا مالک واحد اللہ ہے مگر گمراہی کے جال میں پھنس کر بے جان مورتیوں ، پتھروں، پیڑوں ، جانوروں و دیگر اشیاؤں کی پوجا کی جاتی ہے ۔ پہلے زمانہ میںشراب نوشی ،امانت میں خیانت ،حق تلفی عام و جہالت کا اندھیرا تھا اور لڑکیوں کی پیدائش کو بھی عیوب سمجھ کر انہیںماردی جاتی تھیں لیکن حضور اقدس ﷺ کی بعیث کے بعد لڑکیوں کا جو وقارو مقام اسلام میں بلندہوا کسی اور مذہب میں نہیں ہے اورشراب بھی حرام قراردے دی گئی ،امانت میں خیانت ، حق تلفی کی اسلام میں ممانعت ہے ۔ان خیالات کا اظہار مولانا محمد مزمل قاسمی (استاد حدیث دارالعلوم دیوبند)نے بابر پور اسمبلی حلقہ کے تحت سبھاش محلہ میں دارالعلوم فاروقیہ کے منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وہ اس جلسہ میں بحیثیت مہمان خصوصی تھے جس کی صدارت قاری ممتاز احمد(بانی و مہتمم)،سرپرستی حاجی محمد ناصر اور نظامت مولانا محمد شعیب قاسمی (ناظم اعلیٰ دارالعلوم فاروقیہ)نے کی جبکہ آغاز حافظ محمد طلحہ کی تلاوت اور مفتی طارق جمیل قنوجی کے نعتیہ کلام سے ہوا۔اس موقع پر دارالعلوم فاروقیہ سے فارغ4حفاظ اور 25لڑکیوں کو علما کرام کے ہاتھوں توصیفی اسناد سے نوازہ گیا جس سے طلبہ وطالبات نے محنت و لگن سے مزید تعلیم کی حصولیابی کا عزم کیا۔چاروں حفاظ کو ایک ایک سائیکل بطور انعام دی گئی اور ایک بیٹھک میں قرآن شریف کی تکمیل کرنیوالے حافظ محمد طلحہ کو 11000ہزار روپے نقد دیے گئے جبکہ قرآن حفظ کرنیوالی سبھی 25لڑکیاں بھی انعام سے نوازی گئیں۔مولانا محمد مزمل قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو عمل زمانے جاہلیت میں ہوتا رہا افسوس ہے کہ و ہ موجوہ دور میں بھی ہورہا ہے لیکن اس وقت برملا ہوتا تھا اور آج پس پردہ ہورہا ہے جس میں مسلم معاشرہ بھی کثرت سے ملوث ہے جس سے بچنے کا واحد راستہ مسلمانوں کیلئے قرآنی تعلیمات پر عمل اورنبوی طریقہ ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جن بچیوں نے قرآن شریف کا حفظ مکمل کیا ہے یہ مدرسہ کی شاندار کارکردگی و مقبولیت کی علامت ہے ، ایک لڑکی کوتعلیم و تربیت سے آراستہ کرناپورے خاندان کو تعلیم یافتہ بنانے کے مترادف ہے کیونکہ تعلیم یافتہ لڑکی جس گھر میں بھی رہی گی اس گھر سے جہالت کی تاریکی کا خاتمہ ہوگا ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس مدرسہ کے طئبا و طالبات کا تعلیم و تربیت کا معیار دیکھ کردل باغ باغ ہوگیا اور کہنے پر مجبو ہونا پڑرہا ہے کہ مسلمانوں کو چائے کہ وہ اس مدرسہ کی ترویج و ترقی کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ یہ مدرسہ دارالعلوم فاروقیہ ایک مثالی ادارہ بن کر سبھاش محلہ کا نام روشن کرے۔آخر میں مدرسہ کے بانی و مہتم اور ناظم اعلیٰ نے لڑکیوں اور لڑکوں کی دینی و عصری تعلیم کے تعلق سے منصوبوں کا اعلان کیا جس سے علما کرام اور مقامی لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا اور مولانا مسعود احمدقاسمی کی رقت آمیز دعا پر جلسہ کا اختتا م پذیر ہوا ۔اس موقع پرمفتی ابو صباح قاسمی،اقرار غوری ، حاجی نصیر احمد ، محمد سلیم، محمد نثار، نعیم ملک ، محمد سلیم حیات، حاجی محمد اکرام و حسین قریشی کے علاوہ بڑی تعداد میں فرزندان توحید موجود تھے۔












