معاملہ اس زمانے میں حصول علم کے لئے وسائل وذرائع کی کمی کا نہیں ہے۔ تحصیل علم کے تمام تر سہولیات میسر ہیں۔ اوقات میسر ہیں۔ کتابیں میسر ہیں۔لائبریریاں بے شمار موجود ہیں۔اسکول اور کالج کا بہتات ہے۔ باصلاحیت اساتذہ موجود ہیں۔ پیسے میسر ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ طلبہ کی زندگی میں وہ علمی کمالات اور صلاحیتیں پیدا نہیں ہورہی ہیں جو ہمارے اسلاف کی زندگی میں پائی جاتی تھیں۔
وجوہات بے شمار ہوسکتے ہیں لیکن میری نگاہ میںطلبہ کی زندگی سے دوعنصر کا تیزی سے غائب ہونا ہے جس کی وجہ سے ان میں تعلیمی انحطاط بڑھتی جارہی ہے۔ اور بقیہ سارے اسباب انہیں دوعنصر سے مربوط ہیں۔حصول علم کے لئے نیک نیتی جسے اخلاص سے تعبیر کیا جاتا ہے اور شوق تعلیم نہایت ضروری ہے۔اگر طلبہ اپنے آپ کو ان دونوں خوبی سے متصف کرلیں گے تودیگر کمیوں کا ازالہ بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔لیکن جب تک طلبہ ان دونوں وصف سے اپنے آپ کو مزین نہیں کرتے اس وقت تک تحصیل علم کی ساری کاوشیں بیکار ثابت ہوں گی۔
اخلاص: علم نافع کا روح اور اساس ہے، علم کا حصول عبادت ہے اور عبادات کی قبولیت کے لئے اخلاص شرط اولین ہے۔ نیت کا معاملہ اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم اللہ سے دعاکریں تو اخلاص کی دولت نصیب ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:’’ والذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا وان اللہ لمع المحسنین‘‘(العنکبوت:۶۹)ترجمہ: ’’اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھادیں گے۔ اور یقینا اللہ تعالی نیکو کاروں کا ساتھی ہے‘‘۔
خلل یہیں سے شروع ہوتا ہے کہ طلبہ شرعی اور دینی علم کے متلاشی ہوتے ہیں مگر اصل جوہر’’ نیک نیتی‘‘ سے تہی دست ہوتے ہیں، جس ذات عالیشان کے پاس خزانہ علم ہے اسی ذات سے دوری ہوتی ہے،اور رشتہ کمزور ہوتا ہے،پھر بھلا علم کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے؟ اللہ تعالی کو خوش کئے بغیر، اس کی مدد حاصل کئے بغیر علمی یا عملی میدان میں کامیابی ممکن نہیں ہے۔
شوق ولگن: اخلاص کی طرح تحصیل علم کے لئے شوق ولگن ازبے حد ضروری ہے۔جس طالب علم کی زندگی میں اخلاص اور شوق جیسے اوصاف جمع ہوجائیں اسے اللہ کی توفیق کے بعد اپنے وقت کا امام بخاری، امام مسلم، امام مالک،امام شافعی، امام ابن تیمیہ، حافظ ابن کثیر،علامہ ابن باز،علامہ البانی اور علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہم اللہ جیسا یکتائے روزگار اور فرید دہر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے:’’وأن لیس للانسان ما سعی وأن سعیہ سوف یری ثم یجزاہ الجزاء الأوفی‘‘۔ (النجم:۳۹-۴۱)۔ترجمہ:’’اور یہ کہ ہر انسان کے لئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی۔ اور یہ کہ بے شک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی۔ پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا‘‘۔
اگرطالب علموں کی زندگی میں شوق تعلیم پیدا ہوجائے تو پھر کسی بھی تعلیمی اور تربیتی محاذ سے وہ پیچھے نہیںرہ سکتا۔ کوئی تکلیف ومصیبت حصول علم کے لئے اس کے لئے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود و اپنا مقام بنااور علم وعمل کے ثریا تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ اس کی بیشتر مثالیں اسلاف کی زندگی میں پائی جاتی ہیں ۔کیسی کیسی پریشانیوں کے باوجودانہوں نے کسب علم کیا۔علوم وفنون کے شہسوار بنے۔جن اساطین کے اسماء اوپر کی سطر میں لکھے گئے ہیں ان کی سوانح کے مطالعہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے بڑی کٹھنائیوں کے کے باوجود انہوں نے علم ومعرفت اور علمی دنیا میں انہوں نے اپنا لوہا منوایا۔یونہی ان کی شہرت علمی حلقوں میں نہیں ہوئی۔ علم کا حصول اتنا ہی آسان ہوتا تو دنیا میں کوئی جاہل نہیں بچتا۔علم قربانی کو چاہتا ہے۔ ہر قسم کی قربانی، جسم کی قربانی، وقت کی قربانی، پیسے کی قربانی، نیند اور راحت کی قربانی۔سچ ہے’’کاہل، عالم یا طالب علم نہیں بن سکتا’’لا یطلب العلم براحۃ الجسم‘‘ ۔جو قربانی دینے کے لئے تیار ہوگا وہی علم حاصل کرسکتا ہے۔اور جو لوگ تن آسانی کے خواہاں ہیں انہیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔












