بھاگل پور، پریس ریلیز: امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ، وحدت امت اور اجتماعیت کی دعوت کے ساتھ مسلمانوں کی دینی ملی اور تعلیمی قیادت کا فریضہ گزشتہ ایک صدی سے انجام دے رہی ہے،ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر امارت شرعیہ جیسی اسلامی ،شرعی وفکری تنظیم کی اہمیت و ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے ،اپنی تاریخ اور کردار کے آئینے میں امارت شرعیہ ملت کے حق میں ہمیشہ محافظ اور نگہبان ثابت ہوئی ہے، یہی وجہ ہےکہ احکام شرعی کے نفاذ کے ساتھ امت کے احوال اور تقاضوں کے پیش نظر ابتداء قیام سے آج تک امارت شرعیہ دین وایمان کے تحفظ کے ساتھ اعلی عصری تعلیم کے حصول کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے پرمسلسل زوردےرہی ہے؛ تاکہ ہماری نئی نسل اس ملک میں ایمان وعمل کے ساتھ اپنی اعلی تعلیم کے ذریعے پیش آمدہ حالات کا مقابلہ کر سکے، اورایک باوقار شہری بن کر ملک میں زندگی گزار سکے، بنیادی دینی تعلیم کے لیے ہم تمام کے ذمے ہر آبادی میں ان کے لیے مکتب کا منظم انتظام ایک ناگزیر عمل ہے، جس میں ذرہ برابر کوتاہی اور غفلت اختیار کرنا ان کی بے دینی اورگمراہی کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ ان کے دین وایمان کے سوداگر ہرطرف مستعد ہیں ،عورتیں ہماری آبادی کا فقط نصف حصہ نہیں؛ بلکہ پوری نسل کے اعلی ایمانی اقدار و اسلامی روایات کی حفاظت کی ضامن ہیں،ایسےمیں اسلامی ضابطے کے ساتھ تمام مسلم آبادیوں میں ان کی دینی تعلیم اورتربیتی اجتماعات کا نظم مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داریوں میں شامل ہے، مذکورہ باتیں اس وفد کے قائد اور امارت شرعیہ کے معاون ناظم جناب مولانا احمدحسین قاسمی مدنی نے ضلع بھاگلپورمیں 23/جنوری سے جاری دعوتی و اصلاحی دورۂ وفد کے اختتامی پروگرام31/جنوری کو دریاپور اور خیرا کے عام مسلمانوں کے درمیان اپنے صدارتی خطاب میں کہیں ۔اس موقع پر مزیدانہوں نے وقف ترمیمی قانون 2025 کے نقصان دہ پہلوؤں کو واضح کرتےہوئےلوگوں کو اپنی مساجد، مدارس، مکاتب، عید گاہ اور قبرستان جیسے موقوفہ دینی مقامات کے تحفظ کی جانب متوجہ کیا اورامارت شرعیہ کی تاریخ و خدمات اور حالیہ عزائم پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔وہیں اس موقع پر دورۂ وفد میں شریک جناب مولانا مفتی محمد عقیل اختر قاسمی معاون مفتی دارالافتاء امارت شرعیہ اورجناب مولانا عبد الحیی زاہد قاسمی استاذ دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ نے مشترکہ طور پر اپنے خطابات میں اصلاح معاشرہ کے مختلف موضوعات پر پوری تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتے ہوئے اظہار خیال کیا کہ جوا، شراب نوشی، عورتوں کا اجتماعی سودی لین دین ،باہمی اختلافات وتعصبات،حق تلفی ،طلاق کا بے جا استعمال، وراثت میں بیٹیوں کو محروم کرنا ، ناجائز مقدمات،تلک، جہیز اوربارات جیسےحرام کاموں اورغیر اسلامی رسم و رواج سے بچنا مسلمانوں پر فرض اور لازم ہے۔قابل ذکر ہے کہ حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ امیر شریعت بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ پھلواری شریف پٹنہ کی ہدایت پر اورحضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ کی فکرمندی سےضلع بھاگل پور کے درج ذیل مسلم آبادیوں میں دعوتی و اصلاحی پروگرام منعقد ہوئے؛ جن میں گرہوتہیہ ،پتھنہ، چکدریا، مولانا سجادنگر امارت کالونی،ڈہرپور،بدلوچک، کوروڈیہ،میر نچک،استو،گوراڈیہ ،سنہولی ،جگدیشپور، سمریا، سلیم پور، کھیری باندھ، رحمانی گنج کجریلی، راجپور سبور،شاہ کنڈ،جواکھر، ابراہیم پور،پورینی،دلغوری سلطان گنج ،دریا پور، اور خیراکےنام قابل ذکر ہیں ۔واضح رہے کہ ضلع بھاگل پور کے مسلم علاقوں میں امارت شرعیہ کے اس دعوتی پروگرام کے مثبت اثرات نظر آئے اور لوگوں نے امارت شرعیہ کے وفد کا ہر جگہ خوش دلی کے ساتھ استقبال کیا اور امارت شرعیہ کے پیغامات کو پوری توجہ سے سنا اور عمل کے لیے اپنی بستیوں کو آمادہ کیا۔ قابل ذکر ہے کہ ان تمام پروگراموں میں بھاگلپور کے حضرات علماء، ائمہ مساجد،منتظمین مدارس اور دانشوران طبقے نے پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا، تمام اجلاس کی ابتداء جناب مولانا نقی امام مظاہری صاحب مبلغ امارت شرعیہ سے ہوئی جبکہ نظامت کے فرائض امارت شرعیہ کے مبلغ جناب مولانا محمد مفتی مجاہداللہ قاسمی نے انجام دیے، ان اجلاس کی ترتیب اور نظم و نسق میں جناب مفتی محمد مجاہد اللہ قاسمی اورجناب مولانا محمد سرفراز صاحب قاسمی مبلغ امارت شرعیہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔شرکا وفد میں جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی معاون ناظم امارت شرعیہ ،جناب مولانا عبدالحئی زاہد قاسمی استاذ دارالعلوم اسلامیہ، جناب مولانا مفتی محمد عقیل اختر قاسمی دارالافتاء امارت شرعیہ کے علاوہ جناب مولانا نقی امام مظاہری مبلغ امارت شرعیہ شامل رہے۔بھاگل پور کے ہر مقام پر مقامی علمائے کرام، ائمہ مساجد اور دانشوران سمیت مسلمانوں کے ایک جم غفیر نے امارت شرعیہ کےان پروگراموں میں شرکت کی۔












