نئی دہلی: کسان مخالف پالیسیوں اور ایم ایس پی و قرض معافی کو لے کر کسانوں نے ایک بار پھر تحریک شروع کر دی ہے۔ راجدھانی دہلی کے ٹیکری بارڈر پر 10 دسمبر کو نہ صرف کسانوں نے اپنی تحریک کا از سر نو آغاز کیا ہے، بلکہ ایم ایس پی نافذ کرنے اور مکمل قرض معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے ’چنڈی گڑھ کوچ‘ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ دراصل کسانوں نے ہریانہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کو دیکھتے ہوئے چنڈی گڑھ پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔ گویا کہ بجٹ اجلاس کے دوران کسان تحریک ہریانہ کی کھٹر حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتی ہے۔ہفتہ کے روز ٹیکری بارڈر پر کسان لیڈران نے ہریانہ اسمبلی کے گھیراؤ کا عزم ظاہر کیا۔












