(سید مجاہد حسین)
کسی ریاست میںمجرموں کو سزا دینا عدالت کا کام ہوتا ہے اگر ثبوتوں اور گواہیوں کی بنیاد پر ملزم کو جیل ہو تی ہے تو اس قیدی کو اپنی سزا کی مدت پوری کرنی ضروری ہوتی ہے ۔اس کے ساتھ رعایت کا کوئی خانہ نہیں رہ جاتا الا یہ کہ مجرم فیصلے کیخلا ف اونچی عدالت سے رجوع کرے ،اور وہاں سے کوئی راحت مل جائے!۔لیکن اس کا کیا کیا جائے جب قتل اور زنا کے مجرموں کو سخت سزا کا اعلا ن کیا جاچکا ہو اوروہ سزا پوری ہونے سے پہلے ہی رہا کردیئے جائیں!جس کے بعد مظلوم اور متاثرین آہ و بکا کرتے رہ جائیں یا نا میدی کا دامن ہی تھام لیں!۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حکومتوں کے ایسے فیصلے عدالتی انصاف میں بڑا روڑا ثابت ہو رہے ہیں۔اسے سسٹم کی خرابی کہئے یا حالات کی ستم ظریفی کہ بعض معاملے ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں بڑی مچھلیاں صاف بچ نکلتی ہیں اور چھوٹی مچھلیاں جال میں پھنس جاتی ہیں ،یہ ارباب اقتدار کی سمجھ بوجھ کہی جائے یا ایک دھاندلی اور اختیارات کا بے جا استعمال ،کہ صاحب اقتدار کو قانون کی گرفت سے بچانے کے لئے تمام طرح کی بدنامی جھیلنے تیار ہو جاتے ہیں لیکن اپنے آقائوں پر آنچ نہیں آنے دینا چاہتے!۔ پچھلے دنوں کچھ معاملے نظر سے ایسے گزرے کہ ان پر ماتم نا کریں تو اور کیا کریں ۔بد عنوانی یا کرپشن کی ایسی راہ نہ صرف سینکڑوںلوگوں کی جانیں لے لیتی ہے بلکہ حادثہ کے اصل ذمہ داروں کو بخوبی بچانے میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔ گجرات میں موربی حادثہ میں ابھی ان لوگوں کو انصاف کیا ملے گا جن کی جانیں چلی گئیں ،فی الوقت آواز ان کو سامنے لانے کیلئے اٹھ رہی ہے جو اس حادثہ کے اصل ذمہ دار سمجھے جارہے ہیں ،دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان کے خلاف سخت قدم اٹھانے میں کوئی سنجیدگی بھی نہیں دکھائی جارہی۔اس معاملے میں گجرات ہائی کورٹ کی سنجید گی قابل تحسین ہے کہ اس نے از خود نوٹس لیا تاکہ ڈیڑھ سو معصوموں کی موت کے ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جاسکے اور متاثرین کو انصاف دلایا جاسکے ۔ عدالت کا حیرانی کے ساتھ ایک ہی سوال رہتاہے کہ اس حادثہ کے بعد درج ایف آئی آر میں کسی بڑے افسر کا نام کیوں نہیں یا اس پل کا ٹھیکہ بغیر ضابطہ پر عمل کئے کیسے دے دیا گیا،کوئی ٹینڈر وغیرہ کیوں نہیں جاری کیا گیا !۔بتادیں کہ اس حادثہ میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ لوگوں کی جانیں چلی گئیں تھیں جنمیں چالیس کے قریب معصوم بچے تھے ،لیکن اس حادثہ کے زخم ابھی بھلے ہی تاز ہ ہوں ،ایسالگتا ہے کہ اس کے ثبوت زیادہ دیر باقی نہ رہ سکیں یا ان کو مٹا دیا جائے!۔بھلا صاحب اقتدار کے کرپشن ،دھاندلی اوراختیارات کی بھونڈی سیاست کے ہوتے اس کے سوا اور کیا امید رکھی جائے !۔سوچا جاسکتاہے کہ جہاں زنا اور قتل کے مجرموں کے ساتھ عام معافی کا برتائو کر کے انہیں جیل سے رہا کیا جارہا ہو وہاں ڈیڑھ سو لوگوں کی موت کیلئے اصل قصور واروں کو بے نقاب کرنا اور مظلوم کو انصاف دلاپانا کیا اتنا آسان ہوگا ؟۔ بلقیس بانو کے کیس میں جیل میں بند جن گیارہ افراد کو سزائیں ہوئیں تھیں ،ان بھی کی رہائی پر ریاستی حکومت کا ڈھٹائی سے اپنی دلیل میں کہنا کہ قیدیوں کے اچھے سلوک کو دیکھتے ہوئے ان کی سزا میںمعافی کا فیصلہ کیا گیا ،سوال یہ ہے کہ یہ متاثرین کے ساتھ ناانصافینہیں تو اور کیا ہے ؟،اس طرح نہ جانے کتنے قیدی ہیں جن کا جیل انتظامیہ کے ساتھ سلوک تعریف کے زمرے میں آتا ہے ،پھر بھی وہ رہائی سے محروم رہ جاتے ہیں !۔حال ہی میں راجیو گاندھی کے قاتلوں کے ساتھ بھی کچھ یہی ہوا،کہ جب انہیں جیل سے قبل از وقت رہا کر دیا گیا،اس کے خلاف بھی چو طرفہ آوازیں اٹھ رہی ہیں۔کانگریس نے بھی اس رہائی کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔تین چار دن میں پارٹی اپنی پٹیشن فائل کردے گی۔ وہ پہلے ہی اس رہا ئی کو نا قابل قبول ٹھہرا چکی ہے ۔تعجب کی بات ہے ،اگر متاثرین کے ساتھ انصاف کرنے کا طریقہ یہی رہا توکیالوگوں کا عدلیہ پر بھروسہ قائم کرنا آسان ہو گا؟۔عجب نہیں کہ مجرموں کے ساتھ نرمی کا سلوک ان کو خوف زدہ کرے اور وہ قانون کا سہارا لینے سے بے چین ہو اٹھیں!۔ اس طرح کے اقدامات سے سیاست کی بو آتی ہے ،جو سماج میں نابرابری کا احسا س پیدا کرنے کا کام کرتی ہے۔اسے ظالم کی طرفداری نہ کہا جائے تو اور کیا نام دیں؟












