
پوری کائنات کا نظام عدل پر قائم ہے ۔اسی لیے اس میں توازن ہے ۔جہاں کہیں انسان نے فطرت سے چھیڑ چھاڑ کرکے ندیوں ،دریائوں کا رخ موڑ دیا ہے یا پہاڑوں کو دھماکوں سے اڑاکر وہاں غیر فطری طور پر بستیاں بسالی ہیں وہیں یہ نظام فطرت عدم توازن کا شکار ہواہے ۔اس کے باجود اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت چونکہ اس کے غضب پر حاوی ہے اس لیے کائنات کے نظام قدرت میں بڑی حد تک امن و سکون ہے ۔سورج وقت پر نکل رہا ہے ،موسم اپنے وقت پر کروٹ لے رہے ہیں ،دن کے بعد رات آرہی ہے ،وغیرہ وغیرہ ۔اس کا مطلب ہے کہ امن و سکون عدل اور توازن سے وابستہ ہے۔جب کسی سماج میں عدل متاثر ہوتا ہے تو بے چینی اور بدامنی پیدا ہوتی ہے ۔روز ازل سے قوموں کے عروج و زوال اور اقتدار کا آنا جانا اسی اصول سے وابستہ ہے ۔جب جب کسی نے عدل کا خون کیا ہے ،ظلم میں اضافہ کیا ہے تب تب اللہ تعالیٰ نے خود اس کا تختہ پلٹ دیا ہے ۔مگر انسان تاریخ سے سبق نہیں لیتا ۔اس کو ذرا سی قوت ملتی ہے تو پھولے نہیں سماتا اور ظلم پر اتر آتا ہے ۔اس وقت بھی ساری دنیا میں جہاں جہاں بدامنی اور بے چینی ہے ،بیشتر مقامات پر حکمرانوں کی تاناشاہی اور ظلم و زیادتی کے سبب ہے ۔ظاہر ہے ہمارا ملک بھی اس سے اچھوتا نہیں ہے ۔
گزشتہ دنوں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ۔جس میں کاونڑ یاتری ایک کار میں بیٹھے ہوئے شخص کو بری طرح زدو کوب کررہے ہیں ۔اس شخص کے ہلکی داڑھی ہے اور اس نے ٹوپی لگارکھی ہے ۔اس پر الزام ہے کہ اس کی کار سے ایک کاونڑ کو زک پہنچی ہے ۔میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ کار چلاتے وقت ایسا ضرور ہوا ہوگا ۔لیکن کیا اس کا رد عمل یہ ہے کہ ہم کار کو توڑ پھوڑ دیں اور انسان پر لاٹھی ڈنڈے برسائیں ۔کیا یہی خدا کے راستے میں نکلنے اور گنگا کے درشن کرنے کا پیغام ہے ۔ایک خبر یہ بھی ہے کہ کار میں بیٹھا ہوا شخص بی جے پی کا ہی لیڈر تھا۔لیکن کاونڑیوں نے اس کی ٹوپی اور اس کے ساتھ بیٹھی برقع پوش خاتون سے یہ سمجھ لیا کہ یہ مسلمان ہے ۔تمام سرکاری اعلانات کے باوجود ڈی جے بج رہے ہیں ،ایک ویڈیو آئی جس میں تین کروڑ روپے کا ڈی جے ہے ،جو بجتا ہے تو کئی کلومیٹر تک زمین ہلنے لگتی ہے۔شراب پی کر ہڑ دنگ مچایا جارہا ہے ،راستے بند کردئے گئے ہیں ،عام انسانوں کو سفر کرنے میں دشواریاں ہورہی ہیں ،اگر راہ خدا میں نکلنے والے زائرین سے بھی انسانوں کو تکلیف پہنچے اورلوگ خوف کھانے لگیں تو پھر کس سے محفوظ رہ سکتا ہے ؟کاونڑیوں کی ان غیر قانونی سرگرمیوں کے بعد بھی ان پر پھولوں کی بارش کی جارہی ہے۔پورے کاونڑ کے دوران گوشت کی دکانیں بند کرادی گئی ہیں ۔اس حد تک تو عقل تسلیم کرلیتی کہ ان راستوں کی دکانیں بند کرادی جائیں جہاں سے یاتری گزررہے ہوں ،لیکن گلی کوچوں کی دکانیں بھی بند کرادینا کہاں کا انصاف ہے ؟کیا ہمارا یہ عمل ملک کی معیشت کو کمزورنہیں کرتا، پھر یہ صرف ان ہی ریاستوں میں کیوں ہے جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتیں ہیں اگر معاملہ دین و مذہب سے جڑا ہے تو پورے بھارت میں ایسا ہونا چاہئے ۔
ایک عرصہ سے ایک ہی مذہب کے لوگ ماب لنچنگ کا نشانہ بن رہے ہیں ۔کہیں گائے کو لے کر ماردیا جاتاہے ؟کسی کے ہاتھ میں گوشت نظر آجائے تو اس پر بلا تحقیق ہی مقدمات قائم کردیے جاتے ہیں۔کہیں زبردستی جے شری رام کے نعرے لگوائے جاتے ہیں ۔کہیں راستے میں نماز پڑھنے والوں پر مقدمات قائم ہوجاتے ہیں ۔کہیں باحجاب لڑکیوں کو کالج سے نکال دیا جاتا ہے ۔کہیں لوجہاد کے نام پر جیلوں میں ٹھونس دیا دیا جاتا ہے ،لیکن معاملہ برعکس ہو یعنی کوئی مسلمان لڑکی غیر مسلم لڑکے ساتھ بھاگ کر شادی کرلیتی ہے تو اس کے سپورٹ میں بعض تنظیمیں کھڑی ہوجاتی ہیں ،اسے لو جہاد کا نام نہیں دیا جاتا،علی الاعلان مسلمانوں کو قتل کرنے اور ان کی لڑکیوں سے شادی کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور حکومت ان کی پشت پناہی کرتی نظر آتی ہے ۔تمام سرکاری اسکیمیں جو اقلیتوں سے تعلق رکھتی ہیں ان کو یا تو بند کردیا گیا ہے یا پھر ان کے فنڈ میں کمی کردی گئی ہے ،اس پر بھی بجٹ کی مختص رقم جاری نہیں کی جاتی ۔مسلمانوں کا سروے ہوتا ہے ،ان کی پسماندگی کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے ۔لیکن ان کی ترقی کا کوئی منصوبہ بنانے کے بجائے ان کو مزید تاریکی اور پسماندگی کے غار میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔آخر یہی سب کا ساتھ اور سب کا وکاس ہے۔
یکساں سول کوڈ کے نام پر بھی صرف مسلمانوں کو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے ،گزشتہ دنوں ہمارے وزیر داخلہ نے کچھ قبائلی تنظیموں اور عیسائی ذمہ داروں سے ملاقات کے بعد یہ عندیہ دیا تھا کہ عیسائیوں اور قبائیلیوں کو اس سے الگ رکھاجاسکتا ہے ۔تعجب ہے کہ جن قوموں کا کوئی رول بھارت کی آزادی میں نہیں ہے ،نہ ملک کی تعمیر میںکوئی قابل ذکرکنٹری بیوشن ہے ان کے ساتھ تو نرمی و اپنائیت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ،وہ عیسائی جن کے اجداد نے اس ملک کو لوٹا ،ہمیں غلام بنایا ،جن کی مشنریاں آج بھی کمزور اور ناخواندہ لوگوں کو پیسے کا لالچ دے کر مذہب تبدیل کروارہی ہیں ان کے لیے تو تسلی اور دلاسا ہے ،اور وہ قوم جو یہاں کی سب سے بڑی اقلیت ہے ،جس کی قربانیاں تاریخ کے ہر صفحہ پر ہیں ،جس نے ایک پیسہ بھی ملک سے باہر نہیں بھیجا ہے ،اس کو نشانہ تضحیک و تعذیب بنایاجارہا ہے ۔یہ کھلی ہوئی ناانصافی آج کی نسل دیکھ رہی ہے۔
اس وقت بھارت کا مسلمان خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہا ہے ۔بھارت کی تعمیر میں مسلمانوں کی قربانیاں دوسری اقوام سے کہیں زیادہ ہیں۔ ان مسلم حکمرانوں کو جنھوں نے اپنی زندگیاں ملک کی توسیع و ترقی میں لگادیں اور یہیں دفن ہوگئے ، ان کو مطعون کیاجارہا ہے ۔ان کی نشانیوں کو ختم کیا جارہا ہے ۔ان کی تاریخ کو نصاب سے ہٹایا جارہا ہے ۔جب کہ آج بھی ان کی تعمیرات سے کروڑوں روپے کمائے جارہے ہیں ۔کیا یہی انصاف ہے ؟اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر اس قدر پھیلایا جارہا ہے کہ بھائی چارہ کم ہوتا جارہا ہے ۔اب پرتاپ سنگھ بھی اگر ٹوپی لگالے تو اس کے لیے جان بچانا مشکل ہورہا ہے ۔کیا کسی ملک کی ترقی اس صورت حال میں ممکن ہے ؟ آپ او آئی سی کے سکریٹری جنرل کو بلا کر بیرونی دنیا کو مطمئن کرسکتے ہیں،آپ عرب ممالک کی مساجد کا دورہ کرکے دنیا کو بے وقوف بنا سکتے ہیں ،لیکن ملک کی مساجد پر سوال کھڑے کرکے عوام کو کس طرح مطمئن کریں گے ؟ ملک کی عوام تو براہ راست آپ کو دیکھ رہی ہے ۔
بھارتی مسلمان اس وقت صرف حکومت کے عتاب کا شکار ہی نہیں ہیں بلکہ خود اپنے رہنمائوں کی جفائوں کا بھی شکار ہیں ۔ہمارے رہنما پس پردہ فاشسٹوں کے ساتھ دوستیاں نبھا رہے ہیں،ملی تنظیمیں ملت کے سرمائے پر داد عیش دے رہی ہیں ،ملی اور مذہبی رہنمائوں کے اسباب تعیش میں اضافہ ہورہا ہے ،جب کہ ملت کی غربت اور پسماندگی میں کوئی کمی نہیں ہورہی ہے ۔
حکومت کا کام سماج میں عدل و انصاف کا قیام ہے ۔ماضی کے حکمرانوں کا حساب موجودہ عوام سے لینا ظلم کی فہرست میں شمار ہوتا ہے ۔اس ملک کے مسلمانوں کا کوئی نسلی اور نسبی تعلق ماضی کے مسلم حکمرانوں سے نہیں ہے ۔ان کے کسی عمل کے لیے نہ وہ ذمہ دار ہیں نہ جواب دہ ۔پھر وقفہ وقفہ سے ان کے نام پر انھیں کیوں ستایا جارہا ہے ؟اگر کوئی شخص بھارت کے کسی سابق حکمران کی قبر پر فاتحہ پڑھنے بھی چلاجائے تو میڈیا اس پر سوالوںکی بوچھار کردیتی ہے ،کیا دستور میں موجود مذہبی آزادی اسی کا نام ہے ؟
موجودہ حکومتیں عوام کی منتخب حکومتیں ہیں ،ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں ،ملک کی سالمیت ،ایکتا اور اکھنڈتا کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ بھی اس کے فرائض میں شامل ہے ۔اچھی غذا ،تعلیم ،روزگار کے مواقع اور احترام ہر شہری کا بنیادی حق ہے جو اسے ہر حال میں ملنا چاہئے ۔مذہبی آزادی دستور کا حصہ ہے ،لیکن یہ آزادی کسی کونہیں ہے کہ وہ زبردستی اپنے مذہبی نظریات کو کسی پر تھوپنے کی کوشش کرے ۔مسلمان بحیثیت مجموعی امن پسند ہیں ۔ان کا دین کسی کو تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا ،وہ دوسروں کے جذبات اور مذہبی شعائر کا احترام کرتے ہیں ،اس کے باوجودان کے ساتھ مستقل عداوت کا رشتہ رکھنا ،ان کے شعائر کا مذاق اڑانا،ان کے ذرائع معاش کو مٹانے کی سازشیں کرنا،ان کے ساتھ تعصب اور ناانصافی کرناچاہے وہ حکومت کی سطح پر ہو اکثریت کی طرف سے ،ظلم ہے ۔اگرچہ گزشتہ نو سال کے عرصہ میں ملک میں کوئی بھیانک فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا،جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے ،لیکن اکثریت کے ذریعہ انفرادی طور پرایک طبقہ کوجس طرح زدو کوب کیا جارہا ہے اور مسلم خواتین کو آزادی دینے کے نام پر جس طرح کی قانون سازی کی جارہے نیز مسلمانوں کے ساتھ جس قسم کا نفرت آمیز رویہ اختیار کیا جارہا ہے اس کے نقصانات بھی کسی بڑے فساد سے کم نہیںہیں ۔آج کی نئی نسل تک سوشل میڈیا کے ذریعہ سب کچھ پہنچ رہا ہے ،جس سے اس کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا ہورہا ہے ۔نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں ،ان کے اندر احساس محرومی یا غیریت کا احساس خود ملک کا بڑا نقصان ہے ۔
عبدالغفار صدیقی












