نئی دہلی: منی پور میں جاری تشدد پر قابو پانے کی کوششیں لگاتار ہو رہی ہیں۔ اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ منی پور میں پیدا تشدد کی آگ اب دہلی پہنچ گئی ہے۔ راجدھانی دہلی میں موجود دہلی یونیورسٹی کے نارتھ کیمپس میں رہنے والے کی اور میتئی طبقہ کے طلبا کے درمیان تصادم کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس تعلق سے 6 مئی کو ککی طلبا نے ایف آئی آر درج نہ ہونے پر مورس نگر تھانہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پولیس کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ حالات قابو میں ہیں اور فکر کی کوئی بات نہیں۔اس تعلق سے ’ہندوستان ٹائمز‘ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے نارتھ کیمپس علاقے میں رہنے والے ککی طلبا کے ایک گروپ نے میتئی گروپ پر 5 مئی کی شب ان پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ جمعہ کو ککی طلبا نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے اس حملے کو لے کر مورس نگر تھانہ میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے شکایت درج کرنے سے منع کر دیا۔رپورٹ کے مطابق پولیس نے طلبا کے احتجاجی مظاہرہ کے بعد کارروائی شروع کر دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔ پولیس نے اس سلسلے میں کچھ طلبا کو حراست میں بھی لیا ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ منی پور میں پیدا تشدد کا اثر دہلی میں نہ ہونے دیا جائے۔ حالانکہ اچھی خبر یہ ہے کہ منی پور میں حالات پہلے سے کافی بہتر ہوئے ہیں اور کچھ علاقوں میں معمولات زندگی بحال بھی ہوئی ہے۔












