شعیب رضا فاطمی
نئی دہلی،ایک طرف راہل گاندھی بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ نفرت کے بازار میں محبت کی دوکان کھول رہے ہیں،وہیں دوسری طرف دہلی کارپوریشن کے انتخاب میں کراری شکست کھانے کے بعد کانگریسی کارپوریٹر بی جے پی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اسے میئر کے انتخاب کی جنگ میں توانائی کی سپلائی کر رہے ہیں ۔
یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی نے کانگریس کو دہلی کے اقتدار سے اتنی دور پہنچا دیا کہ اسے ایک ایک ایم ایل اے کیلئے ترسا دیا ۔ یہ بھی سچ ہے کہ دہلی ہو یا پنجاب عاپ نے کانگریس کو کراری شکست دی ہے ،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بی جے پی نے اسے پورے ملک کی 31ریاستوں سے نکال کر صرف تین ریاستوں تک محدود کر دیا،اور اس کا سب سے بڑا ہدف کانگریس اور صرف کانگریس ہے،گاندھی اور جواہر لعل کا خاندان ہے ،ملک کا آئین ہے،گنگا جمنی تہذیب ہے ،مشترکہ ہندوستانی ثقافت ہے ،وہ تمام سرکاری اداروں کو بھگوا رنگ میں رنگ چکی ہے ،نفرت کابازار پورے ملک میں اسی نے بسایا ہے، اور وہ اس بازار کو مذہب کی بنیاد پر اتنا مستحکم کردینا چاہتی ہے کہ ملک کا ہر شہری زعفرانی رنگ میں رنگا نظر آئے۔
یقیناً راہل گاندھی ان تمام سازشوں کو پہچاننے کے بعد ہی کنیا کماری سے کاشمیر تک کی یاترا پر نکلے ہیں اور وہ ملک کے ماحول کو یکجہتی کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں اور اس کیلئے انہوں نے پارلیمنٹ کی جگہ ملک کی سڑکوں پر خاک چھاننا پسند کیا۔لیکن پھر دہلی میں ان کی سیاست کا رنگ زعفرانی رنگ کو گہرا کرنے اور اس سے ہم آہنگ ہونے کو کیوں بے تاب نظر آرہا ہے ۔آخر جمعہ کے روز جب دہلی کے سیوک سنٹر میں مئیر کے انتخاب کے دوران عاپ کارپوریٹرس پر بھگوا غنڈے حملہ آور تھے اسوقت 9کانگریسی کارپوریٹر کیا کر رہے تھے ۔کیا دہلی کے لوگوں نے عاپ اور بی جے پی کو ریجیکٹ کرکے کانگریس کو اسی لئے ووٹ دیا تھا کہ وہ ایسے کسی نازک مرحلے پر بی جے پی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں ۔
کانگریس کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا کہ اس کے اس اسٹینڈ سے ان سیکولر ووٹرس کے دل پر کیا گذری ہوگی جنہوں نے اس وقت کانگریس کے حق میں ووٹ کیا جب ان کے پاس بی جے پی کے مقابلے عاپ کا متبادل موجود تھا۔راہل گاندھی اور ان کے سپہ سالاروں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ صرف زبانی طور پر یہ کہہ دینے سے کہ عاپ بی جے پی کی بی ٹیم ہے بات بننے والی نہیں ۔سیکولر شہریوں کو یہ نظر بھی آنا چاہئے کہ کانگریس کا ایک ایک عہدے دار بی جے پی سے ہر میدان میں لڑ رہاہے ۔
دہلی کے میئر کا انتخاب ایک ایسا ہی میدان ہے جہاں بی جے پی انتخاب کے نتیجہ والے دن سے ہی کراری شکست کے باوجود یہ اعلان کر رہی ہے کہ چاہے کوئی ہارے یا جیتے مئیر تو بی جے پی کا ہی بنے گا ۔جمہوری ملک میں جہاں عوام کے اکثریتی ووٹ کی اہمیت کے پیش نظر ہی وزیر اعظم سے لے کر میئر تک بنائے جاتے ہیں وہاں کسی پارٹی کے لیڈر کا یہ بیان کہ ہماری پارٹی کامیاب ہو یا ناکام لیڈر تو ہمارا ہی بنیگا آئین ہند کی توہین کے سوا اور کچھ نہیں لیکن اس لیڈر کے خلاف نہ تو کوئی کارروائی ہوئی اور نہ ہی کسی بھی حزب اختلاف کے لیڈر نے اس بیان کی بنیاد پر عدالت کا دروزہ کھٹکھٹایا ۔اسے خوف کہیں یا کچھ اور لیکن اس محاذ پر کانگریس بھی ناکام ہی رہی ۔باوجود اس کے 6جنوری کو مئیر کے انتخاب کے دوران کانگریس کا ڈھلمل رویہ اور ہاوس سے باہر رہ کر بی جے پی کو قوت فراہم کرنے کی پالیسی نہایت شرمناک اور راہل گاندھی کے مشن کو فتیلہ لگانے کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔بی جے پی کی یہ پالیسی انگریزوں سے ادھار لی ہوئی ہے کہ بانٹو اور حکومت کرو ۔آج پورے ملک میں بی جےپی اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اقتدار تک پہنچتی ہے ۔اور وہ ہنوز اس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے تمام حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو آپسی جنگ میں الجھا کر اپنی راہ ہموار کر رہی ہے ۔لیکن کانگریس جیسی قدیم سیاسی پارٹی بھی اگر بی جے پی کے اس جھانسے میں آجائے تو حیرت سے زیادہ افسوس ہوتا ہے ۔












