• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعرات, مارچ 5, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

مسلم مجلس مشاورت کا مستقبل؟

عبدالعزیز،9831439068

Hamara Samaj by Hamara Samaj
دسمبر 11, 2022
0 0
A A
مسلم مجلس مشاورت کا مستقبل؟
Share on FacebookShare on Twitter

کل ہند مسلم مجلس مشاورت آزادی کے بعد پہلی وفاقی تنظیم 1964ءمیں بہت مشکلوں سے قائم ہوئی تھی جس میں مسلم جماعتوں کی نمائندگی زیادہ تھی۔ چند مسلم چنیدہ شخصیتیں بھی تھیں جن کو منصب اور عہدے سے مطلب نہیں تھا۔ ان کو ملت کی خیر خواہی عزیز تھی۔ سابق صدر مشاورت جناب سید شہاب الدین صاحب نے جماعتوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے قابل اعتماد اور ناقابل اعتماد اشخاص کو مشاورت میں لینا شروع کیا۔ طریقۂ انتخاب بھی ایسا دستور کا حصہ بنا دیا کہ ناقابل اعتماد اشخاص نے ان کی وفات سے پہلے ہی سیاسی جماعتوں کے طرز پر الیکشن لڑنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے مشاورت کی ہیئت بدل گئی۔اقبال نے کیا ہی سچ کہا تھا گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کار شو…. کہ از مغزد و صد خر فکر انسانی نمے آید (جمہوریت سے دور رہو اور کسی پختہ فکر انسان کو رہبر بنا لو کیونکہ دوسو گدھوں کی عقل مل کر بھی انسان کی عقل کا مقابلہ نہیں کر سکتی )۔
مشاورت جس میں اتفاق رائے سے صدر اتفاق رائے سے چن لیاجاتا تھا۔ زیادہ تر لوگ عہدہ لینے سے کتراتے تھے لیکن چند سالوں سے عہدے کے حصول کی دوڑ شروع ہو گئی ہے۔ مشاورت میں مشاورت کاعمل برائے نام رہ گیا ہے۔ ناقابل اعتماد افراد کی بن آئی ہے۔ وہ اسے سیاسی پارٹی جیسی ایک تنظیم بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اسلام جس نے اونچ نیچ کے تصور کو ختم کر دیا تھا، مشاورت میں پسماندہ اور غیر پسماندہ طبقہ کا تصور ہی نہیں پیدا نہیں کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ اسے دستور کا حصہ بنا دیا گیا
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گِر کر نہ ابھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے
مشاورت میں بحث ومباحثہ کا معیار پہلے سے ہی پست ہوتا گیا۔ ایک بار سابق وائس چانسلر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی جناب سید حامد صاحب نے دورانِ گفتگو فرمایا کہ”مشاورت میں بحث ومباحثے اس طرح ہوتے ہیں کہ طبیعت گھٹی ہوجاتی ہے، اس کی میٹنگوں میں جانے کا جی نہیں چاہتا“۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اہلوں میں نااہلوں کی انٹری ہوجاتی ہے تو نااہل اپنی فطرت اور نااہلیت کو چھپا نہیں پاتے۔ اس وقت مشاورت تنازعے سے دوچار ہے۔ الیکشن کا عمل شروع ہے۔ کچھ لوگ خوش ہیں، کچھ لوگ ناراض۔ الیکشن کے بعد انتشار بڑھ سکتا ہے یا مشاورت عدم مشاورت کے قریب مزید قدم بڑھا سکتی ہے۔ بہرحال آثار اچھے نہیں ہیں۔ علامہ اقبال نے کبھی لیگ آف نیشنز( انجمن اقوام)کے لیے کہا تھا
بے چاری کئی روز سے دم توڑ رہی ہے
ڈر ہے خبر بد نہ میرے منہ سے نہ نکل جائے
تقدیر تو مبرم نظر آتی ہے و لیکن
پیران کلیسا کی دعا یہ ہے کہ ٹل جائے
ممکن ہے کہ یہ داشتۂ پیرک افرنگ
ابلیس کے تعویذ سے کچھ روز سنبھل جائے!
اس وفاقی تنظیم کی اہمیت آج پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ (لیگ آف نیشنز یا انجمن اقوام کے بعد انجمن اقوام متحدہ کا وجود عمل میں آیا۔ اس کی ضرورت سے انکار نہیں مگر یہ بھی داشتہ افرنگ بن گئی۔ اور فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے۔
جنگ اور اور تنازعے کے خاتمے کے لئے بنی تھی مگر تنازعے اور جنگ میں کمی نہیں ہوئی کئی ممالک کو اس کا سہارا لیکر تباہ و بر باد کیا گیا۔ اس کا مقصد بھی فوت ہو تا جارہا ہے)….اگر اصلاح مشاورت غیر معمولی کوشش کے باوجود مشاورت پہلے جیسی نہ ہو سکے تو پہلے جیسی مشاورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اللہ کرے ہمارے اندر ڈاکٹر سید محمود،مولانا ابولحسن ندوی، مولانا ابواللیث ندوی ، مفتی عتیق الرحمن، ڈاکٹر جلیل فریدی ، مولانا محمد مسلم ، ملاجان محمد ، ڈاکٹر مقبول احمد صاحبان جیسے لوگوں کی سوچ اور دور اندیشی کچھ لوگوں میں پیدا ہو جائے جو ان لوگوں کی طرح ہی عہدے اور منصب سے دور بھاگتے ہوں۔ڈاکٹر سید محمود کل ہند مسلم مجلس مشاورت کے بانی صدر تھے۔ ڈاکٹر صاحب پنڈت جواہر لعل نہرو کی کابینہ میں وزیر خارجہ رہ چکے تھے۔ مسلمانوں کی حالت دیکھ کر بیحد پریشان تھے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں مسلمانوں کے بارے میں کہا کہ ان کو دوسرے نمبر کا شہری بنا دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نہرو ان کے اس بیان پر بیحد خفا تھے مگر ڈاکٹر صاحب نے کوئی پرواہ نہیں کی۔ وہ مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد و منظم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ وقتی طور پر وہ اس کوشش میں کامیاب رہے۔ ان کی اور دیگر عمائدین ملت کی کوششوں سے کل ہند مسلم مجلس مشاورت کا وجود 1964ءمیں آیا۔ مشاورت پر مولانا علی میاں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ ان کی تحریروں سے اور ہمارے تبصروں سے بہت کچھ مشاورت کی تاریخ کے بارے میں معلوم کیا جاسکتا ہے(اس موضوع پر دو مضامین اشاعت کے لئے بھیجے جارہے ہیں)۔ مولانا علی میاں بانیِ صدر مشاورت کے بارے میں رقم طراز ہیں: ”ڈاکٹر صاحب کو اپنے مسلسل دوروں اور تجربوں کی بنیاد پر مسلمانوں کی کمزوریوں کا پورا اندازہ تھا۔ وہ تحریکِ خلافت سے لے کر مسلم کنونشن دہلی تک برابر کام کرتے رہے تھے۔ اس بنا پر مسلمانوں کے بارے میں کچھ زیادہ رجائی (Optimist) نہیں واقع ہوئے تھے، وہ 20 اپریل 62ءکے اپنے ایک خط میں اس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ہماری قوم تخریبی کاموں کو بہت پسند کرتی ہے، تعمیری کاموں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں، اگر کسی کی مخالفت کرنی ہے تو یہ سب سے آگے ہیں، اگر کسی کی موافقت کرنی ہے تو سب سے پیچھے، ہندوستان میں ہم کو اقدامی قدم بڑھانا ہوگا نہ کہ وفاق قرآن کے اندر رہ کر جس قدر بھی قدم اٹھا سکتے ہیں، وہ اٹھانا ہے“۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی گولڈن جبلی کے موقع پر ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی صاحب مرحوم نے جو معاشیات کے ماہر تھے، فیصل ایوارڈ یافتہ تھے اور کئی شہرۂ آفاق کتابوں کے مصنف تھے ان کی ایک مختصر تحریر ”مشاورت کی گولڈ جبلی کانفرنس کے سونیئر“ میں شائع ہوئی تھی جو قابل مطالعہ ہے۔ ”اگست1964 بڑ ے ڈراؤنے دن تھے۔ جگہ جگہ بڑے بڑے منظم حملوں نے مسلمانوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ قریب تھا کہ لوگ وطن چھوڑنے کی کوششیں کرنے لگیں اگرچہ جانے کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔ اسے میں ڈاکٹر سید محمود کی قیادت میں مولانا علی میاں کے ندوہ میں ڈیڑھ سو مسلم زعماءکا جمع ہوجانا بڑے بکھیڑوں کے بعد ممکن ہوا۔ جمع ہونا ایک طرف، ہر مسلک، ہر خیال کے لوگوں کا ایک پلیٹ فارم پر آجانا دوسری طرف۔ روزو لوشن پاس ہوئے، وفد بنے، دورے کئے گئے، ایک بگڑتی صورت حال کو سنبھال لیا گیا۔
آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو 58 سال سے سنبھالنے ہی کا عمل جاری ہے۔ سنبھالا لینے کے بعد ٹھہراؤ اور جم کر خود اعتمادی کے ساتھ حالات سے نبٹنے کی کیفیت مفقود ہے۔ اٹھاون بر سوں میں ترقی بھی ہوئی جس کا فیض مسلمانوں کو بھی پہنچا۔ خواندگی بڑھی، صحتیں بہتر ہوئیں، عمریں لمبی ہوئی، لوگ بڑی تعداد میں دیہاتوں سے اٹھ کر شہر میں آبسے۔ سیاسی حالات بھی بدل گئے۔ جمہوریت نے جڑیں مضبوط کیں یہ بھی ممکن ہوا کہ کل کے بلوائی آج کے حکمراں بنیں!آج ہندو مسلمان سبھی زیادہ سے زیادہ نفع چاہنے والی سرمایہ کاری کے لئے لقمہ تر بنے ہوئے ہیں۔ بیرونی سرمائے کی طلب، ملکی انسانی مصالح پر غالب آچکی۔ انسانی تعلقات ، خاندانی رشتے، پاس پڑوس کا لحاظ، یہ سب روایتیں پسِ پشت گئیں۔ملک کی موہومہ طاقت پر کسان کی معیشت اور مز دور کا روزگار سب قربان ہوا، ملک بڑا اور طاقت ور شما ہو چاہے اہل ملک کی بھاری اکثریت کا حال ابتر ہو رہا ہو۔ بدلتی تکنالوجی نئے چیلنج سامنے لا رہی ہے۔ سماج میں ضعیف و معذور افراد کا بڑھنا تناسب، ذہنی امراض میں اضافہ، ٹوٹتے خاندان، شہری گھروں کی تنگ دامانی، ہوا ایسی کہ سانس لینا دشوار ، پانی ایسا جو پینے نہ بنے…. انسانیت کے ان نئے دشمنوں کے مقابلے کی کسے فکر ہے؟
انسانیت اور نفع خور سرمایہ داریت کی اس کشمکش کے سامنے گزرے کل کی مصیبتیں ہلکی معلوم ہوتی ہیں۔ مندر …. مسجد کے تنازعے حل بھی ہو جائیں تو غربت اور دولت و آمدنی کی تقسیم میں بڑھتی نا ہمواری جو ستم ڈھا رہی ہے اس سے کیسے نبٹا جائے؟ضرورت اس کی ہے کہ اسلام نے محبت اور مہربانی کا جو سبق سکھایا ہے، انسانی رشتوں کو جو اہمیت سی ہے، خاندان اور پڑوس کی جو قدر بنائی ہے ، ایک خدا کے بندے ہونے کے ناتے بھائی چارے کا جو سبق سکھایا ہے اور مجموعی طور پر روحانی، نفسیاتی زندگی کو مادی زندگی سے بالارکھا ہے اس کا علَم بلند کیا جائے۔ اس کام میں ہندو ، سکھ ، عیسائی، بدھ مت کے ماننے والے اور وہ بھی جو کسی مذہب کو نہ مانتے ہوں، سبھی ساتھ آسکتے ہیں۔ ضرورت حکمت اور طاقت کی ہے۔
طاقت سے میری مراد تشدد سے نہیں، جس کی اس کام میں نہ کوئی ضرورت ہے نہ جواز، میری مراد معاشی خود کفالتی اور اقتصادی قوت ہے، اس کے بغیر بات نہیں بنتی، بھلا لاچار گداگری کی کون سنتا ہے؟
ہمارے نبی آخر الزماں تاجر تھے، ایک تاجر خاتون سے شادی کی تھی جس نے اپنا ساراسرمایہ ان کے مشن پر نچھاور کردیا۔ وطنِ عزیز ہندوستان میں اسلام تاجروں کے ساتھ آیا، جو خدمت مسلمان تاجروں کے ذریعہ انجام پائی اسی کا نتیجہ ہے کہ کیرالا میںاسلام کی اس سے زیادہ پذیرائی ہوئی جتنی شمالی ہند میں جو جغرافیائی اسباب کی بناءپر ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کا تختۂ مشق بنا رہا جن میں کچھ حملہ آور مسلمان بھی تھے، ان حملہ آوروں سے زیادہ اثر تو وہ صوفیا کرام چھوڑ گئے جن کے مقبروں سے شمالی ہند معمور ہے اور جن کی بے لوث خدمات ہمارے عوامی گانوں میں شامل ہو چکی ہےں۔ اسلامی دعوت خدمت اور تجارت نے پھیلائی اور آج بھی، جب دعوت دینا فیشن کے خلاف سمجھا جانے لگا ہے۔ تجارت اور خدمت ہی کا راستہ سب کے مفاد میں ہے۔ماضی کی دفاعی تدابیر اپنا کام کر گئیں، اب جن چھپے حملوں سے نبٹنا ہے وہ زیادہ تر ایسے ہیں جن کا ہدف سارے عوام ہیں، خاص کر غریب اور کمزور، مستقبل کی مشاورت کو ماضی سے مختلف ہونا ہوگا۔ دعا ہے کہ اگلی جبلی میں کہاجا سکے کہ نئے ہندوستان کو مادّیت زدہ سرمایہ داری کے چنگلوں سے آزاد کر کے مشرق کی روایتی روحانی، اخلاقی اور انسانی قدروں کے راستے پر ڈالنے میں مسلم مجلس مشاورت کا بھی ایک رول تھا۔“سابق صدر کل ہند مسلم مجلس مشاورت مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانی صاحب اکثر و بیشتر کہا کرتے تھے کہ ”مسلمانوں کا ایک جگہ مشاورت کے لئے بیٹھنا بھی ایک کام ہے۔ اس سے عوام اور خواص پر اچھا اثر پڑتا ہے اور مسلمانوں میں اعتماد اور حوصلہ بڑھتا ہے“۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    سعودی ولی عہد کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کا جھوٹا پروپیگنڈہ : ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی

    سعودی ولی عہد کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کا جھوٹا پروپیگنڈہ : ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی

    مارچ 5, 2026
    انقلابِ ایران سے آج تک: قیادت، کشمکش اور مسلم دنیا کی بقا کی حکمت عملی

    انقلابِ ایران سے آج تک: قیادت، کشمکش اور مسلم دنیا کی بقا کی حکمت عملی

    مارچ 5, 2026
    فٹ بال ایشیا کپ 2027: سعودی عرب میں میزبانی کے مقامات کا اعلان

    فٹ بال ایشیا کپ 2027: سعودی عرب میں میزبانی کے مقامات کا اعلان

    مارچ 5, 2026
    آئی سی سی رینکنگ: اسمرتی مندھانا اور الانا کنگ دنیا کی نمبر ون کھلاڑی بن گئیں

    آئی سی سی رینکنگ: اسمرتی مندھانا اور الانا کنگ دنیا کی نمبر ون کھلاڑی بن گئیں

    مارچ 5, 2026
    سعودی ولی عہد کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کا جھوٹا پروپیگنڈہ : ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی

    سعودی ولی عہد کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کا جھوٹا پروپیگنڈہ : ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی

    مارچ 5, 2026
    انقلابِ ایران سے آج تک: قیادت، کشمکش اور مسلم دنیا کی بقا کی حکمت عملی

    انقلابِ ایران سے آج تک: قیادت، کشمکش اور مسلم دنیا کی بقا کی حکمت عملی

    مارچ 5, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist