ابھی ہم لوگ ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کا سوگ منا ہی رہے تھے کہ عامر سلیم بھی داغ مفارقت دے گئے۔ ایک ہفتے کے اندر یہ دوہرا غم ہے۔ برقی اعظمی کا انتقال حرکت قلب بند ہو جانے سے پانچ دسمبر کو جونپور میں ہوا جہاں وہ ایک پروگرام میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ ان کا وطن اعظم گڑھ تھا لہٰذا ان کی تدفین ان کے آبائی وطن میں ہوئی۔ انھوں نے جے این یو سے فارسی میں پی ایچ ڈی کی تھی۔وہ آل انڈیا ریڈیو کے شعبۂ فارسی کے انچارج، مترجم اور اناؤنسر تھے۔ 2015ءمیں وہاں سے سبکدوش ہوئے تھے۔ وہ اردو اور فارسی پر مہارت رکھتے تھے اور انگریزی بھی اچھی جانتے تھے۔ وہ بہت اچھے شاعر تھے۔ شاعری میں زود گوئی ایک عیب ہے لیکن انھوں نے اس عیب کو خوبی میں بدل دیا تھا۔ وہ تقریباً روزانہ یاد رفتگاں کے عنوان سے کسی نہ کسی شخصیت پر نظم کہتے اور فیس بک پر پوسٹ کر دیتے۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد ان کی شعر گوئی میں برق رفتاری آگئی تھی۔ کسی پروگرام میں شریک ہوتے تو پروگرام کے خاتمے سے قبل ہی موبائل پر پوری رپورٹ تیار کرکے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیتے۔ ان کے کئی شعری مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ وہ دہلی میں رہائش پذیر تھے۔ میں نے بیس پچیس سال کے تعلق کے عرصے میں ان کو ہمیشہ یکساں پایا۔ وہی شرافت و شائستگی، وہی خندہ پیشانی و خوش اخلاقی، وہی انکساری و حسن سلوک،وہی محبت اور وہی دوستانہ انداز۔ ان تمام اوصاف میں بیشی تو پائی لیکن کبھی کمی نہیں پائی۔ ہمیشہ تپاک سے ملنا اور کھل کر گفتگو کرنا ان کی طبیعت کا خاصہ تھا۔ وہ جس قدر قابل اور با صلاحیت تھے اسی قدر منکسر المزاج بھی تھے۔ وہ جیسے باہر تھے ویسے ہی اندر بھی تھے۔ نہ کوئی چھل نہ کپٹ، نہ تعصب نہ تنگ نظری، نہ معاندانہ جذبات نہ احساس برتری۔ وہ کسی بھی بات کا برا نہیں مانتے تھے۔ جب ان کے انتقال کی خبر آئی تو میں نے ان پر ایک مضمون انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دیا۔ اس کو دیکھنے کے بعد عامر سلیم کا فون آیا۔ پوچھنے لگے کہ کیا میں اس مضمون کو روزنامہ ہمارا سماج میں شائع کر دوں۔ میں نے کہا کہ اس میں پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں بالکل شائع کر دیجیے۔ اگلے روز انھوں نے اس کا اِی تراشا میرے واٹس ایپ پر بھیجا۔ دونوں نے اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔ لیکن جس طرح دوسروں کی خبریں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے میں مہارت رکھنے والے برقی اعظمی کی خبر دوسروں نے پوسٹ کی اسی طرح عامر سلیم کی خبر بھی دوسروں ہی کے ذریعے پوسٹ کی گئی۔
عامر سلیم کو تقریباً دو ڈھائی سال قبل دل کا دورہ پڑا تھا۔ وہ دواؤں پر چل رہے تھے۔ دس دسمبر کو ان کو پھر دل کا دورہ پڑا۔ انھیں جی بی پنت اسپتال نئی دہلی میں داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے انھیں وینٹی لیٹر پر ڈال دیا۔ بارہ دسمبر کو دن میں تقریباً ایک بجے ان کا انتقال ہو گیا۔ عامر سلیم میرے ہم وطن تھے۔ ہم دونوں کی پیدائش بستی ضلع میں ہوئی۔ بعد میں سیاست دانوں نے بستی کو تین اضلاع میں تقسیم کر دیا۔ ان کا گاؤں ’کوہڑا‘ سدھارتھ نگر ضلع میں پڑا اور میرا ’کرنجوت (لوہرسن بازار)‘ سنت کبیر نگر ضلع میں۔ لیکن یہ ضلعی تقسیم ہم لوگوں کے رشتے کو تقسیم نہیں کر پائی۔ یہ تو یاد نہیں کہ ان سے پہلی ملاقات کب ہوئی تھی لیکن اس ملاقات یا تعلق کے آئینے میں کبھی کوئی بال نہیں آیا۔ دونوں ایک دوسرے کی عزت کرتے۔ بلکہ وہ اپنی انکساری کی وجہ سے میری کہیں زیادہ عزت کرتے۔ ان کے گاؤں کے مولانا ابوالوفا نے، جو کہ اب آگرہ میں مستقل قیام پذیر ہیں، بتایا کہ وہی عامر سلیم کو دہلی لائے تھے۔ مولانا ابو الوفا نے ہمارے گاؤں میں مدرسی کے دوران مجھے شیخ سعدی کی شہرہ آفاق کتابیں گلستاں اور بوستاں کے کچھ حصے پڑھائے تھے۔ مولانا ابوالوفا عامر سلیم سے بہت پہلے دل کے مریض ہو گئے۔ بلکہ ایک بار جی بی پنت میں ان کا علاج چل رہا تھا۔ وہ اسپتال کے قریب واقع جامعہ رحیمیہ مہدیان کے احاطے میں واقع عامر سلیم کے گھر ہی پر اتنے دن مقیم رہے۔ اس موقع پر انھوں نے مولانا کی بے انتہا خدمت کی۔ عامر سلیم سے میری آخری ملاقات بھی اسی دن ہوئی جس دن برقی اعظمی سے آخری ملاقات ہوئی تھی۔ یعنی آٹھ اکتوبر کو غالب اکیڈمی میں محققِ صحافت جی ڈی چندن صدی تقریب کے موقع پر۔ وہ اپنے والد محمد سلیم صاحب کو بھی لے کر ایوان غالب آئے تھے۔ انھوں نے ان سے مجھے ملوایا اور انھیں بتایا کہ یہ انجم صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ انھوں نے اپنی علاقائی زبان میں پوچھا کہ ’ارے کونے انجم صاحِب کے بِٹوا ہیں‘۔ انھوں نے اسی زبان میں کہا کہ ’ارے ہمرے اِہر کے مولانا انجم صاحب‘۔ انھوں نے پوچھا کہ ’چراغِ حرم والے انجم صاحب‘۔ انھوں نے کہا کہ ہاں وہی۔ وہ بہت خوش ہوئے اور دیر تک محبت آمیز گفتگو کرتے رہے۔ (چراغ حرم ہمارے والد مولانا ڈاکٹر حامد الانصاری انجم کا اولین نعتیہ مجموعہ ہے جو بے حد مقبول ہوا تھا)۔ لیکن اس کے بعد اچانک یہیں دہلی ہی میں ان کے والد کو برین ہیمریج ہوا اور اسی اسپتال میں دو نومبر کو ان کا انتقال ہو گیا۔ میں ان کی ہائش گاہ تو نہیں جا سکا البتہ میں نے بذریعۂ فون تعزیت کی تھی۔ ان کے والد کی تدفین مہدیان قبرستان میں ہوئی اور اتفاق دیکھیے کہ ان کی قبر کے پاس ہی عامر سلیم کو بھی آخری آرام گاہ مل گئی۔ مولانا ابوالوفا جب ان کو دہلی لے کر آئے تو انھوں نے مدرسہ ریاض العلوم میں داخلہ لیا۔ انھوں نے ابو الفضل انکلیو میں واقع موجودہ اہلحدیث کمپلکس کی جگہ پر واقع مدرسہ رحمانیہ میں بھی کچھ دنوں تک تعلیم پائی تھی۔ پھر وہ جامعہ رحیمیہ میں داخل ہو گئے۔ اتفاق سے وہیں ان کے کئی ہم علاقہ دوست مقیم ہیں جن میں محمد مظہر اور محمد مستقیم اور قابل ذکر ہیں۔ لہٰذا وہ بھی وہیں رہنے لگے۔ پھر وہ اپنی فیملی بھی وہیں لے آئے۔ لیکن اس سے قبل ان کو کافی جدوجہد کرنا پڑی۔ کچھ دنوں تک وہ ممبئی بھی رہے۔ لیکن بہرحال دہلی آکر انھوں نے روزنامہ راشٹریہ سہارا جوائن کر لیا۔ اس دوران انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے عربی میں ڈپلومہ اور مولانا آزاد اردو یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ وہ پہلے راشٹریہ سہارا میں رپورٹر رہے۔ بعد میں اس کے مدیر عزیز برنی نے ان کی ملازمت کو مستقل کر دیا اور انھیں ممبئی ایڈیشن کا انچارج بنا دیا۔ اسی دوران سہارا میں کچھ معاملات ہوئے اور اخبار کے ایک رپورٹر خالد انور نے سہارا چھوڑ دیا۔ عامر سلیم نے بھی ان کے ساتھ سہارا چھوڑ دیا۔ خالد انور نے اپنا اخبار شروع کیا تو انھیں رپورٹر رکھا۔ بعد میں انھوں نے روزنامہ ہمارا سماج نکالا تو اس میں بھی وہ رہے اور جب وہ بہار قانون ساز کونسل کے رکن یعنی ایم ایل سی ہو گئے تو عامر سلیم کو اخبار کا ایڈیٹر مقرر کر دیا گیا۔ وہ اس اخبار سے تادم آخر وابستہ رہے۔ عامر سلیم فیلڈ کے صحافی تھے۔ رپورٹنگ ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ اخبار کی طرف سے بیشتر پریس کانفرنسیں وہی کور کرتے۔ ان کی رپورٹنگ میں ایماانداری کی جھلک تھی۔ وہ تھے بھی ایک سچے اور ایماندار صحافی۔ عام طور پر اس پیشے میں بہت سے لوگ بہک جاتے ہیں اور پیشے سے بے وفائی کرکے کہیں سے کہیں پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن عامر سلیم نے شارٹ کٹ سے حاصل ہونے والے عیش و عشرت کی طرف کبھی بھی نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص تحفہ تحائف دینے کی کوشش کرتا جیسا کہ عام طور پر صحافیوں کو لوگ دیتے ہیں، تو وہ لینے سے انکار کر دیتے۔ انھوں نے عسرت و تنگ دستی میں اپنی زندگی گزاری لیکن حلال کمائی کا دامن نہیں چھوڑا۔ تنگ دستی کے باوجود ان کی خوش اخلاقی متاثر نہیں ہوئی۔ اردو کے حقیقی صحافیوں کا جو مقدر ہوتا ہے وہی وہ بھی لکھوا کر لائے تھے۔ انھوں نے کچھ دنوں قبل اپنا یوٹیوب چینل بھی شروع کر دیا تھا۔ لیکن بہرحال انھوں نے ایمانداری کی قیمت پر ملنے والی خوشحالی کو گلے نہیں لگایا۔ کوئلے کی کان میں رہے لیکن دامن کو داغدار نہیں ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کے لیے کچھ نہیں کر پائے۔ تین بیٹوں میں سب سے بڑا بیٹا نویں جماعت میں ہے تو سب سے چھوٹا پہلی جماعت میں۔ اللہ تعالیٰ عامر سلیم کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل بخشے اور ان کی مشکلات آسان کرے۔ آمین۔












