پروپیگنڈے کی سیاست کا بھیانک چہرہ اور عام انتخاب
2024 کا عام انتخاب ملک کی تاریخ کا نہایت اہم انتخاب ہے ۔ تین دہائیوں کی فرقہ وارانہ تحریکوں اور موجودہ حکومت کے ہاتھوں میں نو سال کی مطلق العنان اقتدار کے جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ کسی ٹریجڈی سے کم نہیں ہیں ۔
کمیونٹیز کے مابین بداعتمادی کی کھائی کو پروپیگنڈے کے ذریعہ مزید گہرا کیا جا رہا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر جمہوری اقدار کی رسوائی ہو رہی ہے اور خوف پھیل رہا ہے۔ پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں اور اداروں تک آزادیٔ اظہار اور آزادانہ سوچ پر پابندی ہے۔مخصوص فرقہ وارانہ نیٹ ورک سے باہر کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔(پروموشنز اور سلیکشن میں خاص طور سے)
مذہبی عبادت گاہیں اپنا روحانی کردار کھو چکی ہیں اور استحصال پر پردہ ڈالنے اور سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے مقصد سے نفرت اور برتری کے دعوے کے مراکز بن چکی ہیں۔ لنچنگ کی وجہ سے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے،(تشدد، حراست میں قتل اور بلڈوزر سے مسماری اس کی خاص وجوہات ہیں )
منتخب کارپوریٹس اور حکومت کے درمیان کھلا گٹھ جوڑ ہے۔جس کے تحت عدم مساوات اور اجارہ داری پر زور دیاجا رہا ہے۔ پی ایم او نے ایم پیز اور ایم ایل ایز کو غیر مؤثر کر دیا ہے۔ جموں و کشمیر اور دیگر جگہوں پر وفاقیت کو شدید دھچکا لگا ہے۔
مٹھی بھرلوگوںکو مفت راشن کی آڑ میں بے روزگاری نے سارے ریکارڈ توڑ دئے ہیں ۔ کسانوں اور مزدوروں کی مارکیٹ میں کوئی آواز نہیں ہے۔ادارے اپنی معروضیت اور آزادی کھو چکے ہیں۔
غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن نے محنت کش طبقے، چھوٹے کاروبار، کم ٹیوشن فیس نے اسکولوں کے وسیع طبقوں کو برباد کر دیا اور طلباء کے لیے سیکھنے کے دو سال ضائع ہو گئے لیکن حکومت کی طرف سے کوئی علاج فراہم نہیں کیا گیا۔
پولرائزیشن اور کارپوریٹ غلبہ کی سیاست نے مزید تباہی مچائی ہے ۔عوام کی آواز سننے والا کوئی نہیں ۔احتجاج کو کچلنے کے لئے سرکار کسی بھی حد تک جا سکتی ہے ۔انڈین ریسلر فیڈریشن کے چیئر مین پر خواتین ریسلرس کے ذریعہ لگائے گئے جسمانی استحصال کا معاملہ سب کے سامنے ہے جس میں پاکسو ایکٹ لگائے جانے کے باوجود برسر اقتدار جماعت کے ممبر پارلیمنٹ کی گرفتاری تو دور اسے پارٹی سے نکالنے کو بھی بی جے پی تیار نہیں۔ اور الٹے ایف آئی آر درج کرانے والی لڑکیوں پر تشدد کیاجا رہا ہے ،کیمرے کے سامنے گھسیٹا جا رہا ہے اور کچرے کی طرح جنتر منتر سے اٹھا کر پھینک دیا گیا ہے ،ان پر مختلف دفعات کے تحت مقدمے درج کئے گئے ہیں اور ان کی تذلیل کی ساری حدیں توڑ دی گئی ہیں ۔ جبکہ وہ کوئی معمولی ریسلرس نہیں ہیں ،انہوں نے ملکی اور غیر ملکی میڈلس جیت کر بھارت کی شان کو دوبالا کیا ہے ۔اور اب وہ بے بسی کی اس منزل پر پہنچ گئی ہیں کہ اپنے تمام میڈلس اور اعزازی دستاویزات کو گنگا میں غرق کرنے کو تیار ہیں ۔کیونکہ ان کے مطابق انہوں نے جو محنت و مشقت بھارت کی شان بڑھانے کے لئے کی اس کا کو ئی حاصل نہیں ہوا ۔اور وہ اپنی عصمت بچانے میں بھی ناکام رہیں ۔
یہ وہ حقائق ہیں جو عوام کے سامنے ہیں اور آنے والے عام انتخاب میں ان ایشوز پر ہی ووٹنگ ہونی چاہئے ۔اب دیکھنا ہے کہ ملک کی اپوزیشن پارٹیاں یا ان کا محاذ کس حد تک ان ایشوز کو عوام تک پہنچا پاتا ہے۔یا پھر بی جے پی کے پھیلائے ہوئے ہندو مسلم کے جال میں پھنس کر ناکام ہو جاتا ہے ۔خود کو سیکولر اور آئین پسند کہنے والی سیاسی جماعتوں کے پاس کام کرنے کے صرف بارہ ماہ ہیں اور داؤ پر لگی ہے پچھتر سالہ جمہوریت۔
(شعیب رضا فاطمی )












