ریاض ِسعودی عرب میں دل کی پیوند کاری جیسے انتہائی پیچیدہ علاج کے کامیاب تجربات نے مملکت کے طب کی دنیا میں کارناموں کے چار دانگ عالم میں چرچے ہیں۔
سعودی عرب کے ایک ہسپتال نے اندرون اور بیرون ملک سے تین برین ڈیڈ افراد کے دل عطیہ کیے جانے کے بعد عارضہ قلب کا شکار تین مریضوں میں پیوند کاری کرکے انہیں نئی زندگی دی ہے۔
سعودی عرب کے کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹرنے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں عطیہ دہندگان سے زندہ دھڑکتے دل کو منتقل کرنے کا ایک نیا کامیاب آپریشن کیا ہے۔ یہ صحت مند دل ابو ظبی، جدہ اور ریاض سے کمزوری اور ناکامی کے شکار مختلف عمروں کے تین مریضوں (دو مرد اور ایک لڑکی) کو منتقل کیے گئے۔ ان صحت مند دلوں کو ٹرانسپلانٹ کے لیے شاہ فیصل ہسپتال کے ہیڈ کوارٹر منتقل کیا گیا۔
تینوں مریضوں کی امید کی واپسی کا سفر اسپیشلسٹ ہارٹ سینٹر سے ابوظبی اور جدہ جانے والی طبی ٹیموں کے ساتھ شروع ہوا، جس میں برین ڈیڈ عطیہ دہندگان سے دو دل لینے کے بعد انہیں نجی طیارے کے ذریعے سعودی دارالحکومت ریاض پہنچایا گیا۔ اس کے بعد شاہ عبدالعزیز میڈیکل سٹی برائے نیشنل گارڈ ہسپتال سے تیسرا دل ایک ماہر طبی ٹیم کے ذریعے ایمبولینس کی مدد سے کنگ فیصلہ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں چوبیس گھنٹوں کے اندر تینوں مریضوں کے دل تبدیل کردیے گئے۔
پہلی مریضہ ایک نو سالہ لڑکی تھی جو دل کے پٹھوں کی کمزوری میں مبتلا تھی۔ اس کی جان پچھلے مارچ میں ایک مصنوعی پمپ لگا کر بچائی گئی تھی کیونکہ وہ اس پمپ پر بھروسہ نہیں کر سکتی تھی۔ اسے عطیہ ملنے تک انتظار کرنا پڑا۔ سعودی سینٹر فار آرگن ٹرانسپلانٹیشن اور متحدہ عرب امارات میں انسانی اعضاء اور ٹشو ٹرانسپلانٹیشن ایسوسی ایشن (حیات) کے درمیان ہم آہنگی سے ایک مریض کے دل کا عطیہ حاصل کیا گیا۔
اس کے بعد دل کو بذریعہ ہوائی جہاز کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور پھر ایمبولینس کے ذریعے ریاض کے کنگ فیصل ہسپتال کے ہیڈ کوارٹر پہنچایا گیا جہاں کارڈیک سرجری کے سینیر کنسلٹنٹ ڈاکٹر زہیر الھلیس کی سربراہی میں ایک میڈیکل ٹیم نے بچی کے دل کی پیوند کاری کی۔ بچی تا حال زیر علاج ہے اور اس کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔
سی وقت ایک اور طبی ٹیم جدہ میں نیشنل گارڈ سے کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی پہنچی تاکہ ایک برین ڈیڈ ڈونر سے دل لیا جا سکے- اسے چالیس سال کی عمر کے مریض کو منتقل کیا گیا۔ کارڈیک سرجن کنسلٹنٹ اور "ماہر” ڈاکٹر فراس خلیل کی قیادت میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔
تیسرا مریض ایک 41 سالہ شخص ہے چوتھے درجے کے دل کی ناکامی کا شکار تھا۔ اس کی زندگی بچانے کے لیے ایک سال قبل ایک مصنوعی پمپ لگایا گیا تھا، جب کنگ عبدالعزیز کے پاس اس مریض سے مماثل ایک برین ڈیڈ ڈونر دستیاب ہوا تو اس کا دل عطیہ کیا گیا۔ یہ عطیہ لینے کے لیے ریاض میں نیشنل گارڈ کی میڈیکل ٹیم ڈونر سے دل لینے گئی تھی جسے ہسپتال کے ہیڈ کوارٹر منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹر فراس خلیل کی سربراہی میں میڈیکل ٹیم نے مریض کے دل کی پیوند کاری کی اور آپریشن کامیاب رہا۔












