• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, مارچ 3, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

افطار کا دسترخوان اور ہمارا ظرف

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 27, 2026
0 0
A A
افطار کا دسترخوان اور ہمارا ظرف
Share on FacebookShare on Twitter

رمضان تیزی سے گزر رہا ہے۔ اب عید کا انتظار شروع ہو چکا ہے، مگر دل کے اندر ایک اور انتظار باقی ہے۔ یہ انتظار اس جواب کا ہے جو ہم نے ابھی تک خود کو نہیں دیا۔ ہم نے روزے رکھے یا روزوں نے ہمیں رکھا؟ ہم نے بھوک کو برداشت کیا یا بھوک نے ہمیں بے نقاب کر دیا؟ ہم نے پیاس کو روکا یا پیاس نے ہمارے اندر کی بے چینی کو ظاہر کر دیا؟
رمضان صرف مہینہ نہیں، آئینہ ہے۔ اس میں چہرہ بھی نظر آتا ہے اور باطن بھی۔ اگر اس مہینے کے بعد بھی ہمارا مزاج وہی رہے، ہماری زبان وہی رہے، ہمارا غصہ وہی رہے، تو سوال اٹھتا ہے کہ بدلا کیا؟ اوقات بدلے یا اوصاف؟ چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرتی رہی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ منظر اترپردیش کے شہر میرٹھ کی ایک مسجد کا بتایا گیا۔ مسجد… یعنی سجدے کی جگہ، یعنی جھکنے کا مقام، یعنی انا کو توڑنے کا در۔ مگر اس منظر میں جھکاؤ کم اور ٹکراؤ زیادہ تھا۔ آوازیں بلند تھیں مگر ذکر کی نہیں، اختلاف کی۔ ہاتھ اٹھے ہوئے تھے مگر دعا کے لیے نہیں، ایک دوسرے کی طرف۔ کہا گیا کہ کسی پروگرام میں مٹھائی کم پڑ گئی۔ مٹھائی کم تھی یا مٹھاس؟ شکر کم تھی یا شکر گزاری؟ سوال دسترخوان کا تھا یا دل کا؟ کبھی کبھی ایک معمولی واقعہ پورے مزاج کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ ایک لفظ “کم” بہت کچھ کھول دیتا ہے۔ اگر مٹھائی کم پڑ گئی تو کیا صبر زیادہ تھا؟ اگر پلیٹیں کم ہو گئیں تو کیا برداشت زیادہ تھی؟ اگر حصہ کم ملا تو کیا ظرف بڑا تھا؟
رمضان ضبطِ نفس کا مدرسہ ہے۔ یہاں انسان اپنے جائز حق کو بھی مؤخر کر دیتا ہے۔ پانی سامنے ہو تو بھی نہیں پیتا، کھانا موجود ہو تو بھی ہاتھ نہیں بڑھاتا۔ مقصد یہ نہیں کہ جسم کو تکلیف دی جائے، مقصد یہ ہے کہ نفس کو قابو میں لایا جائے۔ مگر اگر افطار کے بعد نفس پھر آزاد ہو جائے، تو روزہ جسم نے رکھا، روح نے نہیں۔
مسجد وہ جگہ ہے جہاں سب برابر کھڑے ہوتے ہیں۔ امیر و غریب ایک صف میں، عالم و عامی ایک قطار میں۔ یہ صفیں صرف جسمانی ترتیب نہیں، روحانی پیغام ہیں۔ وہ اعلان کرتی ہیں کہ یہاں کوئی بڑا نہیں، کوئی چھوٹا نہیں۔ لیکن اگر اسی جگہ انا جاگ اٹھے، تو صفیں سیدھی رہ جاتی ہیں مگر دل ٹیڑھے ہو جاتے ہیں۔ یہ واقعہ کسی ایک مسجد کا نہیں، ایک ذہنیت کا ہے۔ ہم جلدی ناراض ہو جاتے ہیں۔ جلدی بدگمان ہو جاتے ہیں۔ جلدی فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ ہمیں کمی برداشت نہیں، تاخیر برداشت نہیں، اختلاف برداشت نہیں۔ ہم بھوک برداشت کر لیتے ہیں مگر بات برداشت نہیں کرتے۔ یہ کیسا روزہ ہے؟
افطار کے دسترخوان اصل میں ایثار کی علامت ہیں۔ وہاں جو پہلے پہنچے وہ پیچھے ہٹ جائے، جو زیادہ لے سکتا ہو وہ کم پر قناعت کر لے، جو بھرا ہوا ہو وہ خالی کو دیکھ لے۔ اگر دسترخوان میدان بن جائے تو سمجھ لیجیے کہ تربیت کہیں ادھوری رہ گئی ہے۔ آج کا زمانہ کیمرے کا زمانہ ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے، محفوظ ہو جاتا ہے۔ مسجد کی چار دیواری اب چار دیواری نہیں رہی۔ ایک لمحہ پوری دنیا کی اسکرین پر آ جاتا ہے۔ پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ ہماری تصویر کیوں مسخ کی جاتی ہے۔ تصویر اگر دھندلی ہے تو آئینہ توڑنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔
اصل مسئلہ مٹھائی نہیں، مزاج ہے۔ اصل بحران کمی نہیں، برداشت کی کمی ہے۔ ہم بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ اتحاد کی، وقار کی، امت کی عظمت کی۔ مگر عظمت بڑے نعروں سے نہیں، چھوٹے رویوں سے بنتی ہے۔ مسجد میں اگر ہم اپنے غصے کو قابو نہ کر سکیں تو میدانِ سیاست میں صبر کی بات کرنا محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انتظامی کوتاہی ہوئی ہو۔ وسائل کم پڑ گئے ہوں۔ ہجوم زیادہ ہو گیا ہو۔ مگر امتحان ہی تو کمی کے وقت ہوتا ہے۔ فراوانی میں سب مطمئن رہتے ہیں، تنگی میں ظرف پہچانا جاتا ہے۔ اگر مٹھائی کم پڑ جائے اور ہم مسکرا کر کہہ دیں کہ کوئی بات نہیں، تو یہی اصل کامیابی ہے۔
رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل جہاد نفس کے خلاف ہے۔ دوسروں کو زیر کرنا آسان ہے، اپنے غصے کو زیر کرنا مشکل۔ مسجد میں اگر ہم نے اپنے نفس کو شکست دے دی تو یہی سب سے بڑی فتح ہے۔ ورنہ مٹھائی جیت کر بھی ہم ہار جائیں گے۔ ہم اکثر بیرونی خطرات کا ذکر کرتے ہیں۔ سازشوں کا، تعصب کا، میڈیا کی ناانصافی کا۔ مگر اندرونی کمزوریوں پر کم بات کرتے ہیں۔ حالانکہ قومیں باہر سے کم، اندر سے زیادہ ٹوٹتی ہیں۔ مسجد اگر سکون کا مرکز نہ رہے تو گھر کیسے سکون پائیں گے؟ نوجوان اگر یہی منظر دیکھیں گے تو ان کے ذہن میں دین کی کون سی تصویر نقش ہوگی؟ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم اس ویڈیو پر صرف افسوس کریں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے اپنے باطن کا آئینہ بنا لیں۔ واقعات آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں، مگر کچھ مناظر وقت کے کینوس پر سوال بن کر ٹھہر جاتے ہیں۔ یہ بھی ایسا ہی سوال ہے۔ اگر مسجد میں شور اٹھے تو یہ صرف آواز نہیں ہوتی، یہ ہماری تربیت پر اٹھنے والا سوال ہوتا ہے۔ اگر افطار کے دسترخوان پر تنازع ہو جائے تو یہ صرف کمی کا مسئلہ نہیں رہتا، یہ ظرف کی پیمائش بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ مسئلہ مٹھائی کا نہیں تھا، مسئلہ ترجیح کا تھا۔ ہم نے کیا بچایا اور کیا کھو دیا؟ ایک لمحے کے اشتعال میں ہم نے اپنی وہ شناخت مجروح کر دی جو برسوں کی عبادت سے بنتی ہے۔ عبادت انسان کو نرم کرتی ہے، اگر وہ سخت کر دے تو سمجھ لینا چاہیے کہ کہیں کوئی دراڑ رہ گئی ہے۔ روزہ ہمیں روکنا سکھاتا ہے۔ اگر روکنا نہ سکھا سکے تو ہمیں خود کو دوبارہ دیکھنا ہوگا۔
رمضان ہمیں دو طرح کی بھوک دکھاتا ہے۔ ایک جسم کی بھوک، جو سورج ڈھلتے ہی ختم ہو جاتی ہے۔ دوسری نفس کی بھوک، جو سورج ڈھلنے کے بعد شروع ہو جاتی ہے۔ پہلی بھوک روٹی سے مٹتی ہے، دوسری صرف شعور سے۔ اگر ہم نے پہلی کو تو برداشت کیا مگر دوسری کو کھلا چھوڑ دیا تو تربیت ادھوری رہ گئی۔ افطار کا لمحہ دراصل شکر کا لمحہ ہوتا ہے، اگر وہ شکایت میں بدل جائے تو ہمیں اپنی نیت اور نرمی دونوں پر غور کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ مسجد ہمارے لیے کیا ہے؟ کیا وہ محض عبادت کی جگہ ہے یا اخلاق کی تربیت گاہ بھی؟ اگر مسجد میں ہم اپنے غصے کو قابو نہ کر سکیں تو پھر زندگی کے ہجوم میں کیا کریں گے؟ مسجد وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو کر اعتراف کرتا ہے کہ وہ محتاج ہے۔ محتاجی کا اعتراف عاجزی پیدا کرتا ہے۔ اگر عاجزی پیدا نہ ہو تو کھڑے ہونے کا انداز تو بدل جاتا ہے، کھڑے ہونے کا مقصد نہیں۔ یہ وقت الزام دینے کا نہیں، احتساب کرنے کا ہے۔ احتساب دوسروں کا نہیں، اپنا۔ ہم سب کو اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ کیا ہم نے عبادت کو عادت بنا لیا ہے؟ کیا ہم نے رسم ادا کی مگر روح کو نظرانداز کر دیا؟ کیا ہم نے قرآن کی تلاوت تو کی مگر اس کے صبر اور حلم کو اپنے مزاج میں جگہ نہ دی؟ یہ سوال تلخ ہیں، مگر یہی تلخی اصلاح کی ابتدا بنتی ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آج کا زمانہ گواہی کا زمانہ ہے۔ ہر منظر محفوظ ہو جاتا ہے۔ ہماری کمزوری بھی اور ہماری خوبی بھی۔ اگر ہم اپنے رویوں کو درست کر لیں تو یہی دنیا ہماری مثال بھی دے سکتی ہے۔ مگر اگر ہم اپنی ہی عبادت گاہ میں بے قابو ہو جائیں تو پھر شکایت کا دروازہ خود ہی بند ہو جاتا ہے۔ عزت کا راستہ نعروں سے نہیں، نظم سے نکلتا ہے۔ وقار کا راستہ جذبات سے نہیں، برداشت سے بنتا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم رمضان کو رخصت کرتے ہوئے اس کا سبق اپنے ساتھ لے جائیں۔ یہ مہینہ ہمیں بتا گیا کہ انسان اپنے آپ کو روک سکتا ہے۔ جب وہ پانی سے رک سکتا ہے تو غصے سے کیوں نہیں رک سکتا؟ جب وہ دن بھر بھوک سہہ سکتا ہے تو چند لمحوں کی کمی کیوں نہیں سہہ سکتا؟ اگر ہم نے اس مہینے میں اپنے نفس کو قابو کرنے کی مشق کی ہے تو اب اسے مستقل مزاج بنانا ہوگا۔ تربیت ایک مہینے کی نہیں، پوری زندگی کی ہوتی ہے۔
آئیے ہم یہ طے کریں کہ آئندہ کسی کمی کو تنازع نہیں بننے دیں گے۔ اگر دسترخوان پر حصہ کم ہو جائے تو دل کا حصہ بڑھا دیں گے۔ اگر اعلان میں نام نہ آئے تو نیت میں اخلاص بڑھا دیں گے۔ اگر کوئی آگے نکل جائے تو ہم پیچھے ہٹ کر بھی مطمئن رہیں گے۔ یہی وہ رویہ ہے جو عبادت کو کردار میں بدل دیتا ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو مسجد کو صرف عمارت نہیں رہنے دیتی بلکہ معاشرے کی اصلاح گاہ بنا دیتی ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کے لیے بھی مثال بننا ہوگا۔ وہ ہمیں دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر وہ برداشت دیکھیں گے تو برداشت سیکھیں گے۔ اگر وہ اشتعال دیکھیں گے تو اشتعال ان کے مزاج کا حصہ بن جائے گا۔ آنے والی نسل کو ہم کیا دے کر جا رہے ہیں؟ شور یا سکون؟ تکرار یا تہذیب؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
آخر میں ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سجدہ صرف پیشانی کا نام نہیں، مزاج کا بھی نام ہے۔ اگر پیشانی زمین پر ہو اور مزاج آسمان پر چڑھا ہو تو سجدہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ سجدہ تب مکمل ہوتا ہے جب انسان اپنے نفس کو بھی جھکا دے۔ رمضان ہمیں اسی مکمل سجدے کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہم نے یہ سیکھ لیا تو مٹھائی کم پڑنے سے کچھ کم نہیں ہوگا۔ اگر ہم نے یہ نہ سیکھا تو مٹھائی زیادہ ہو کر بھی مٹھاس نہیں دے گی۔ اللہ ہمیں وہ دل دے جو کمی میں بھی شکر ادا کرے، وہ زبان دے جو تلخی کے وقت بھی نرم رہے، اور وہ شعور دے جو ہر واقعے کو اصلاح کا موقع بنا لے۔ تاکہ ہماری مساجد سے صرف اذان کی آواز نہ آئے بلکہ کردار کی خوشبو بھی آئے۔ یہی نتیجہ ہے، یہی سبق ہے، اور یہی رمضان کی اصل امانت ہے۔

Ishaqgora@gmail.com

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    ایران کا جوابی وار: تل ابیب میں 40 عمارتیں تباہ، سینکڑوں اسرائیلی شہری بے گھر

    ایران کا جوابی وار: تل ابیب میں 40 عمارتیں تباہ، سینکڑوں اسرائیلی شہری بے گھر

    مارچ 2, 2026
    ایران میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان

    ایران میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان

    مارچ 2, 2026
    ایران پر حملہ اور خود مختار رہنما کا قتل ناقابلِ قبول قرار

    ایران پر حملہ اور خود مختار رہنما کا قتل ناقابلِ قبول قرار

    مارچ 2, 2026
    ایران پر حملے کے خلاف کراچی میں شدید احتجاج

    ایران پر حملے کے خلاف کراچی میں شدید احتجاج

    مارچ 2, 2026
    ایران کا جوابی وار: تل ابیب میں 40 عمارتیں تباہ، سینکڑوں اسرائیلی شہری بے گھر

    ایران کا جوابی وار: تل ابیب میں 40 عمارتیں تباہ، سینکڑوں اسرائیلی شہری بے گھر

    مارچ 2, 2026
    ایران میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان

    ایران میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان

    مارچ 2, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist