نئی دہلی، برطانوی نشریات کارپوریشن (بی بی سی ) کے دہلی دفتر کی محکمہ انکم ٹیکس نے آج تلاشی لی۔ محکمہ انکم ٹیکس کی یہ کارروائی وزیر اعظم نریندر مودی پر بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم کو لے کر بڑے تنازع کے درمیان سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کے ممبئی دفتر پر بھی بیک وقت چھاپہ مارا گیا۔ تفتیش کے دوران آئی ٹی ٹیم نے بی بی سی کے دفتر میں موجود تمام ملازمین کے موبائل فون اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ اکاؤنٹس آفس میں رکھے کمپیوٹر کا ڈیٹا بھی اسکین کیا گیا۔ اور کسی اہلکار کو باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ چھاپے سے چند گھنٹے قبل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے 2002 کے گجرات فسادات پر بی بی سی کی دستاویزی فلم پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ سچائی اس کے ارد گرد ہزار سازشوں کے باوجود سامنے آتی ہے۔ وہ 2002 سے پی ایم مودی کے ساتھ ہیں۔ لیکن ہر بار مودی جی مضبوط اور زیادہ مقبول ہوتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ انکم ٹیکس ٹیم چند دستاویزات کی تصدیق کے لیے پہنچ گئی ہے۔ سا سے قبل 21 جنوری کو حکومت نے 2002 کے گجرات فسادات پر متنازعہ دستاویزی فلم کے لنکس شیئر کرنے والی متعدد یوٹیوب ویڈیوز اور ٹویٹر پوسٹس کو بلاک کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ سپریم کورٹ نے 3 فروری کو مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ بی بی سی کی دستاویزی فلم کو بلاک کرنے کے اپنے فیصلے سے متعلق اصل ریکارڈ پیش کرے۔جنوری میں دہلی یونیورسٹی، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، جامعہ ملیہ اسلامیہ، امبیڈکر یونیورسٹی میں بھی دستاویزی فلم کی اسکریننگ پر طلبہ کے گروپ کے درمیان ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔خیال رہے کہ حال ہی میں بی بی سی نے وزیر اعظم مودی اور گجرات فسادات پر مبنی ایک دستاویزی فلم نشر کی تھی، جس پر کافی تنازعہ ہوا تھا اور حکومت نے اس پر پابندی بھی عائد کر دی۔ مرکزی حکومت نے اس دستاویزی فلم کو پروپیگنڈہ قرار دیا تھا۔ مرکزی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ دستاویزی فلم یک طرفہ نقطہ نظر کو ظاہر کرتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ تاہم حکومت کی پابندی کے باوجود کئی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اس کی نمائش کی گئی۔ اس کو لے کر دہلی کے جے این یو میں کافی ہنگامہ ہوا تھا۔وہیں، ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنت مہوا موئترا نے ٹوئٹ کر کے کہا ”بی بی سی کے دہلی دفتر میں انکم ٹیکس کے چھاپے کی خبر ہے۔












