ویانا،(ہ س)۔عالمی برادری کو چاہیے کہ غزہ میں انسانی مسائل کم کرنے کی کوششوں کو تیز کرے۔ یہ بات بین الاقوامی ریڈ کراس کے سربراہ نے جمعہ کے روز کہی ہے۔ وہ غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد تعمیر نو کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ بندی کا آغاز دس اکتوبر 2025 کو ہوا تھا۔ جبکہ اسرائیلی جنگ کا آغاز غزہ میں سات اکتوبر 2023 کو ہوا تھا۔ تاہم جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل کی طرف سے مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔امریکہ نے رواں ماہ کے دوران ہی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا اعلان کیا ہے اور صدر ٹرمپ کے زیر صدارت امن بورڈ قائم کیا ہے۔ریڈ کراس کے سربراہ مرجانا سپولجارک نے دنیا کی ریاستوں پر زور دیا کہ ریاستیں پہلے مرحلے کی رفتار کو بروئے کار لاتے ہوئے جنگ بندی معاہدے پر عمل کی رفتار کو تیز بنائیں تاکہ غزہ میں انسانی حالات بہتر ہو سکیں۔انہوں نے کہا پندرہ ہفتوں سے زائد کے دورانیے میں جنگ بندی معاہدے کے مطابق دونوں طرف کے قیدیوں کی رہائی ممکن بنائی گئی ہے۔ نیز ہلاک کردیے گئے قیدیوں کی لاشیں اور باقیات بھی واپس کرائی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں آخری اسرائیلی ہلاک شدہ قیدی کی باقیات اسی ہفتے کے شروع میں واپس اسرائیل بھیجی گئی ہیں۔سپولجارک نے کہا ریڈ کراس کی کوششوں کے نتیجے میں دونوں طرف کے خاندانوں کو اپنے بچھڑے ہوئے پیاروں سے ملاقات کا پھر سے موقع ملا۔ ان کا سوگ منانے کا بھی انہیں موقع مل گیا جو دنیا میں نہ رہے تھے۔ مگر اب بھی امن کی طرف سفر کا لمبا راستہ باقی ہے۔سپولجارک نے کہا بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ غزہ میں انسانی حالات بہتر کرنے کے لیے ہر کوشش کرے۔ اس موقع پر انہوں نے اسرائیل کی طرف سے رفح راہداری کھولنے پر آمادگی کا بھی ذکر کیا اور کہا اسرائیل پابندیوں اور رکاوٹوں کو کم کر رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں آلات ، پانی فراہمی کے لیے پائپ، جنریٹرز اور اس نوعیت کی بنیادی اشیائے ضروریہ کی غزہ میں منتقلی آسان ہو جائے گی۔ریڈ کراس سربراہ نے کہا کئی ماہ پہلے جنگ بندی کے بعد بھی بہت سے لوگ غزہ میں شدید سرما کے باوجود بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کے منتظر ہیں۔ ان اہل غزہ کو بنیادی اشیائے ضروریہ سمیت گھروں، ہسپتالوں اور سکولوں کی ضرورت ہے۔ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کی ضرورت ہے۔ انہیں خیموں اور کمبلوں کی ضرورت ہے۔












