تل ابیب :اسرائیلی آرمی ریڈیو نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے کہا ہے کہ وہ یروشلم کے پرانے شہر میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں ایک سیناگاگ تعمیر کریں گے۔
واضح رہے کہ یہودی مسجد اقصیٰ کے احاطے کو ’ٹیمپل ماؤنٹ‘ کہتے ہیں، اور کچھ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک وقت میں قدیم یہودی عبادت گاہیں قائم تھیں۔
اتمار بن گویر نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر کہا کہ جو بھی قانون یہودیوں کو یہاں آنے سے روکتا ہے وہ نسل پرستانہ ہے، اور میں جس حکومت کا رکن ہوں اس میں کوئی نسل پرستی اور امتیاز نہیں چلنے دوں گا، اور یہودی ٹیمپل ماؤنٹ جائیں گے۔
دریں اثنا، فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی آباد کاروں نے اسرائیلی پولیس اہلکاروں کی حفاظت میں اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام پر دھاوا بول دیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں یہودیوں کے گھس آنے کے واقعات اب باقاعدگی سے ہونے لگے ہیں، حالاں کہ یہودی قانون کے مطابق اس جگہ کی مقدس نوعیت کی وجہ سے اس کے کسی بھی حصے میں داخل ہونا یہودیوں کے لیے ممنوع ہے۔
دریں اثنافلسطینی وزارت خارجہ اور اسرائیلی اپوزیشن کی جانب سے مسجد اقصیٰ سے متعلق انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے شدت پسند وزیر اتمار بن گویر کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر بن گویر کو مسجد اقصیٰ کے بارے میں ان کے حالیہ شرپسندانہ بیان پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان کو حکومت میں رکھنے پر وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی مذمت کی۔یائر لاپڈ نے X پر اپنی پوسٹ میں کہا ’’پورا خطہ بن گویر کے خلاف نیتن یاہو کی کمزوری کو دیکھ رہا ہے، ہماری قومی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کی واضح کوشش ہو رہی ہے اور وہ حکومت کو کنٹرول نہیں کر سکتے، کوئی پالیسی، کوئی حکمت عملی، کوئی حکومت نہیں ہے۔‘‘












