اسرائیل فلسطین تنازعہ اور چین
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازع نے پوری دنیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس میں اس کو کون سی پوزیشن لینی ہے ۔ابھی تک کے حالات کا جائزہ لیں تو امریکہ اور چین ہی وہ دو ممالک ہیں جنہوں نے اپنے پرانے موقف پر قائم ہیں ۔امریکہ نے بلا توقف اسرائیل کی حمایت کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ اپنے اسلحوں سے بھرے جہاز کو فلسطین کے پانی میں تعینات کر دیا اور چین نے بھی جو ماؤتسے تنگ کے دور سے ہی فلسطین کا حمایتی رہا ہے وہ بھی اس پانی میں آموجود ہوا ۔اس صورت حال میں چین کا اسٹینڈ بھی صاف ہے کہ وہ یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ امریکہ کی براہ راست دخل اندازی پر خاموش نہیں رہیگا ۔ساتھ ہی چین نے واضح لفظوں میں یہ بھی کہدیا کہ وہ اس جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا چاہتا ہے ۔اس کا موقف فلسطین کے حق میں ہے اور وہ اسرائیل کو اپنے حدود کے اندر ہی رکھنے کا قائل ہے۔چین کا یہ ماننا ہے کہ اسرائیل پر حماس کا یہ تازہ حملہ اس طویل اسرائیلی دراندازی کی توسیع کے جواب میں حماس کی جدوجہد کا حصہ ہے اس لئے اسے دہشتگردانہ حملہ نہیں کہا جا سکتا ۔اور اسی لئے چین نے یو این او سلامتی کونسل میں بھی حماس کے حق میں اپنے ویٹو کا استعمال کیا جس سے لاکھ کوشش کے بعد امریکہ یو این او میں حماس کو دہشت گرد تنظیم ثابت کرنے میں نا کام رہا ۔اور اب چین امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ثالث کا کردار بھی ادا کرنا چاہتا ہے۔اور اس کشیدگی میں اضافے کے خطرے کے درمیان چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے بات چیت بھی کی ہے ۔خبر یہ بھی ہے کہ امریکہ نے چین کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کر نے کی حامی بھری ہے۔اس سلسلے میں پہلے مشرق وسطیٰ کے لیے چین کے خصوصی سفیر زائی جون عرب رہنماؤں سے ملنے گئے اور پھر وانگ یی نے اپنے اسرائیلی اور فلسطینی ہم منصبوں سے بات کی۔
اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں بھی چین جنگ بندی کی پرزور وکالت کر رہا ہے۔توقع ہے کہ ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے چین کشیدگی کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ عراق میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کو ایران سے ہی مدد ملتی ہے۔چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اسرائیل اور حماس کے تنازع پر بات کرنے کے لیے امریکہ جا رہے ہیں۔فنانشل ٹائمز کی خبر کے مطابق امریکی حکام نے وانگ پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ایرانیوں سے نرم رویہ اپنانے کو کہیں۔ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس سال چین نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ غزہ میں پیدا ہونے والی صورتحال کے حل کے لیے چین کے ساتھ بات چیت بڑھانے کے لیے تیار ہے۔امریکی محکمہ دفاع کے تحت نیشنل وار کالج کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈان مرفی چین کی خارجہ پالیسی کے ماہر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کے تمام فریقوں کے ساتھ چین کے تعلقات نسبتاً متوازن رہے ہیں۔یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر حماس اسرائیل تنازعہ بڑھتا ہے تو پورے مشرق وسطیٰ کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔پروفیسر ڈان مرفی کہتے ہیں، "چین کے خاص طور پر فلسطینیوں کے ساتھ مثبت تعلقات رہے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ایسی صورت حال میں وہ دونوں تمام فریقوں کو بات چیت کے لیے اکٹھا کر سکتے ہیں۔حالانکہ اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر چین کے پہلے ردعمل سے اسرائیل برہم ہے ۔اسرائیل نے ‘گہری مایوسی کا بھی اظہار کیا تھا کہ ‘چین نے حماس پر تنقید نہیں کی اور ‘نہ ہی اس نے اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کا ذکر کیا۔ بلکہ چین مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ ‘اسرائیل اب جو کچھ بھی کر رہا ہے وہ اپنے دفاع کے دائرہ کار سے باہر ہے۔چین ایک عرصے سے فلسطینیوں کے حق میں کھل کر بول رہا ہے۔چینی کمیونسٹ پارٹی کا اپنے بانی ماؤ کے زمانے سے یہی رویہ رہا ہے۔جب دنیا بھر میں ‘قومی آزادی کی تحریک چل رہی تھی، ماؤ نے فلسطینیوں کی مدد کے لیے ہتھیار بھی بھیجے تھے۔ماؤ نے اسرائیل کا موازنہ تائیوان سے بھی کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ یہ دونوں مغربی استعمار کی مثالیں ہیں کیونکہ ان دونوں کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔اس کے بعد کی دہائیوں میں چین اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لے ضرور آیا اور اقتصادی دروازے بھی کھولے۔ آج دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کی تجارت ہے۔
لیکن چین نے واضح کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ چینی حکام اور یہاں تک کہ صدر شی جن پنگ نے اس تازہ تنازعے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست بنانے کی ضرورت کے قائل ہیں چینی سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے اسرائیل کا موازنہ نازی ازم سے کیا ہے اور ان پر فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام لگایا ہے۔بیجنگ میں اسرائیلی سفارتخانے کے ملازم کے اہل خانہ پر چاقو سے حملے کی وجہ سے بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔یہ تمام چیزیں چین کے حق میں نہیں ہیں جو اسرائیلی حکومت کے ساتھ بات چیت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔اور اسی وجہ سے چین امریکہ کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہتا ہے ۔چین یہ سب صرف فلسطین کی حمایت میں نہیں کر رہا ہے اس کے معاشی مفادات مشرق وسطیٰ سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنگ کا دائرہ بڑھے گا تو اس کے مفادات بھی متاثر ہوں گے۔چین اب بیرون ملک سے تیل کی درآمد پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ چین کو درکار تیل کا نصف خلیج سے آتا ہے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) میں شامل ہیں، جو چین کی خارجہ اور اقتصادی پالیسی کے لیے بے حد اہم ہے۔ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اس تنازعے نے چین کے لیے اپنی شبیہ چمکانے کا ایک موقع پیش بھی پیش کیا ہے۔ چین محسوس کرتا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہونے سے عرب ممالک، مسلم اکثریتی ممالک اور مجموعی طور پر گلوبل ساؤتھ کے ایک بڑے حصے کے قریب آنے میں مدد ملے گی۔یہ باتبکسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ چین خود کو امریکہ سے بہتر لیڈر ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس سال کے آغاز سے اس نے ایک ایسی دنیا کے بارے میں بات کرنا شروع کر دی ہے جو اس کی قیادت میں چلے گی۔اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکہ کی ‘غالب قیادت کی خامیوں کو بھی اجاگر کر رہا ہے ۔چین کے وزیر خارجہ وانگ کا کہنا ہے کہ ‘چین صرف مشرق وسطیٰ میں امن چاہتا ہے اور اس کے کوئی ذاتی مفادات نہیں ہیں۔لیکن سب سے بڑا چیلنج دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ چین سچ کہہ رہا ہے اور اگر اس نے یہ کر دیا تو نہ صرف مشرق وسطی پر اس کی پکڑ مضبوط ہوگی بلکہ عرب ممالک پر اس کی پکڑ مزید مظبوط ہوگی۔
(شعیب رضا فاطمی)












