جمہوریت کے نام پر مذاق جاری ہے
یہ ایک عجیب دور ہے جس سے ہم گذر رہے ہیں لیکن اس سے بھی عجیب یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر کو یہ پتہ ہیں نہیں ہے ہمارے اور پورے ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ٹھیک اسی طرح جیسے ہمارے جسم کا بیشتر حصہ سن ہو گیا ہو ،اور ہم یہ سمجھ بھی نہیں پا رہے ہوں کہ جسم کے کس حصہ میں پھوڑا ہے اور کس حصے کی سڑاندھ سے پورا گھر بدبو سے بھر چکا ہے اور گھر والوں کا سانس لینا محال ہو رہا ہے ۔اس بات کی فکر سب کو ہے کہ ماحولیاتی کثافت نے سانس لینا مشکل کر دیا ہے ۔ہم ہر روز سانس لینے کے دوران کتنا کاربن اپنے پھیپھڑوں تک پہنچاتے ہیں ۔لیکن ہمیں اس کا علم نہیں ہے کہ ہمارے آس پاس کے ماحول میں مذہبی منافرت اور علاقائی عصبیت کا زہر کس قدر تیزی سے پھیل رہا ہے جس نے پورے ملک بطور خاص ہندی پٹی کو پوری طرح متعفن کر دیا ہے ۔
اس اکیسویں صدی کا کمال یہ ہے کہ پورا معاشرہ سیاست کے پنجے میں جکڑا جا چکا ہے ،اب نہ تو سماجیات کا اپنا کوئی وجود ہے اور نہ مذہب کا ،حد تو یہ ہے کہ سائنس و ٹکنا لوجی کو بھی سیاست اپنے مفاد کے لئے استعمال کر رہی ہے ۔بازار اور بازار کے تاجر بھی سیاست کے اشارے پر ناچنے کے عادی ہو چکے ہیں ۔اسکول کالج یونیورسٹیاں جہاں کبھی علوم تقسیم کئے جاتے تھے اب مخصوص نظریات کے ڈسٹری بیوشن سنٹر بن چکے ہیں ۔پوری دنیا میں یہ شور ہے کہ یہ دور اطلاعات و ٹکنا لوجی کا دور ہے ۔لیکن اس خبر کے ساتھ یہ خبر دینے والا کوئی نہیں کہ جدید اطلاعاتی ٹکنا لوجی جن سائنسدانوں کی ایجاد ہے ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اس ٹکنالوجی کے ذریعہ پوری دنیا پر حکومت کرنا چاہتے ہیں ۔اگر سچ پوچھیں تو 21ویں صدی میں پوری دنیا کو چند سرمایہ دار ممالک کا غلام بنانے کا مہلک ترین ہتھیار ہے وہ جدید اطلاعاتی تکنیک ہے ۔اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان بیس تیس برسوں میں ساری دنیا کو پروپیگنڈہ کے ذریعہ اپنا غلام بنا لیا ہے ۔ ہمارے ملک میں اقتدار میں بیٹھے سیاسی بازیگر بھی ان سرمایہ دار ممالک کے مہرے ہیں اور وہ خود مختار نہیں بلکہ غلام ہیں ۔اب ان کے اشارے پر خبریں چلائی جاتی ہیں اور خبریں چھپائی جاتی ہیں ۔گذشتہ دس برسوں میں ملک میں برپا ہونے والے بڑے واقعات کا آغاز انا ہزارے کی تحریک سے ہوتی ہے ،ہم نے دیکھا کہ اس تحریک کی سب سے بڑی قوت پروپیگنڈہ تھی ۔اور اس کی سب سے بڑی حصولیابی کانگریس کو اقتدار سے دور کرنا تھا اور اس مقصد میں وہ تحریک کامیاب ہوئی ۔لیکن اس کے بعد اس پروپیگنڈے کا رخ جواہر لعل نہرو کے خانوادے اور مسلمانوں کے خلاف موڑ دیا گیا ۔یہ پروپیگنڈہ اس لئے بھی کامیاب ہوا کہ تقریبا تمام میڈیا ہاؤس کو کارپوریٹ سیکٹر نے 2014کے پہلے ایک پلان کے ساتھ خرید لیا تھا اور وہ سب نئی سرکار کے دست و بازو بن گئے ۔خود کو جمہوریت کا چوتھا ستون جب خود اپنی قیمت وصول کرنے پر آمادہ ہو جائے تو پھر اس جمہوریت کا وہی انجام ہوگا جو آج نظر آ رہا ہے ۔یہ کتنی عجیب بات ہے کہ برسر اقتدار جماعت کے ایک سابق گورنر نے 2019میں جب وہ کشمیر کا گورنر تھا ،یہ انکشاف کیا کہ پلوامہ بم دھماکہ سرکار کی نا اہلی سے وقوع پذیر ہوا ۔لیکن نیشنل میڈیا نے اس خبر پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ ملک میں پہلی بار خواتین نے شہریت کے قانون کے خلاف اتنی بڑی تحریک کھڑی کی لیکن میڈیا پورے زور و شور سے اسے ناکام کرنے کی کوشش کی ۔ملک کے کسانوں نے ایک طویل دھرنہ فیا جس میں کم و بیش ساڑھے سات سو کسان مر گئے لیکن بھارت کی میڈیا نے ان کسانوں کو غدار کہا اور ان پر علیحدگی پسند ہونے کا الزام عائد کیا ۔حد تو اس وقت ہو گئی جب ان کسانوں کی ایک بھیڑ کو ڈپٹی ہوم منسٹر کے بیٹے نے روند ڈالا جس میں متعدد کسان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن سرکار سمیت میڈیا نے اس منسٹر سے کوئی سوال نہیں پوچھا۔ دہلی میں جنتر منتر پر ملک کی نامور خواتین پہلوانوں کا ایک جتھا دھرنے پر بیٹھا ،جس کی شکایت تھی کہ کشتی سنگھ کا صدر جو بی جے پی کا ممبر آف پارلیامنٹ ہے اس نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے گذشتہ برسوں میں سیکڑوں پہلوان لڑکیوں کی عصمت دری کی ہے ،اور ان میں سے سات لڑکیاں جن میں ایک نابالغ لڑکی بھی ہے کی شکایت درج کرنے کے لئے پولیس راضی نہیں ہے کیونکہ وہ ایم پی وزیر اعظم کا منظور نظر ہے ۔لیکن ملک کی میڈیا کے سامنے یہ خبر ایسی نہیں تھی جس کو چلایا جائے اور سرکار سے پوچھا جائے کہ ایسا بدکار ایم پی اپنے عہدے پر کیوں ہے اور اس کا استعفی لے کر اس کو سلاخوں کے پیچھے کیوں نہیں ڈالا جا رہا ہے ۔ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ایک ایسا خودسر وزیر اعلی ہے جو کھلے عام قانون کو ہاتھ میں لے کر ایک خاص مذہب کے لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر چلا رہا ہے ۔قیدیوں کو پولیس کی نگرانی میں گولی ماری جارہی ہے ۔لیکن میڈیا میں اس پر کوئی خبر نہیں ہے کہ آیا اتر پردیش میں قانون کا راج ہے یا اس بھگوادھاری وزیر اعلی کا جس پر وزیر اعلی بننے سے پہلے سو سے زیادہ سنگین جرائم کے کیس درج تھے اور وزیر اعلی بنتے ہی اس نے خود ہی اپنے سارے کیس ختم کروا دئے ۔کمال تو یہ ہے کہ ملک کے وہ تمام ادارے اور ایجنسیاں جو مفاد عامہ کے لئے وقف تھیں اور آئینی طور پر آزاد و خود مختار تھیں اب مرکزی سرکار کے سیاسی ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہیں لیکن کہیں سے کوئی آواز بلند نہیں ہو رہی ہے ۔ملک کی تمام حزب اختلاف کی جماعت کو ملک دشمن قرار دے کر ایوان سے باہر کیا جارہا ہے ۔ اور ان کی جانب سے پوچھے جانے والے ہر سوال کو ملک دشمنی پر مبنی سوال قرار دیا جا رہا ہے لیکن بے حس معاشرے پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے ۔اور عام تاثر یہ ہے کہ سب کچھ ایسے ہی چلیگا کوئی کچھ کر بھی کیا سکتا ہے ۔منہگائی اور بیروزگاری کی مار سے ادھ مرا ہو چکا معاشرہ اب پوری طرح ٹوٹ چکا ہے لیکن اسے مذہب کا افیون کھلا کھلا کر دکھایا جا رہا ہے کہ یہ زندہ لوگوں کا معاشرہ ہے ۔جبکہ سچ یہ ہے کہ پورا معاشرہ بے حس ہو چکا ہے ۔عوام کو خود اپنے مفاد کا بھی علم نہیں تو وہ بھلا ملک اور قوم کی فکر کیا کرے ۔قوموں پر ایسے برے دن آتے رہے ہیں ،لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ان ادوار میں مٹھی بھر لوگ ہی سہی سر سے کفن باندھ کر کھڑے بھی ہوتے رہے ہیں ۔لیکن آج جو صورت حال ہے اس میں سوائے سیاسی چپقلش کے اور کسی سرگرمی کی کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ہے ۔ایک خاص قسم کے عفریت نے ہمارے ملک میں اپنا قد حاصل کر لیا ہے اور وہ ہے مسلم دشمن عفریت ۔جو پورے ملک میں اینڈتا پھر رہا ہے ۔وہ اپنے جلسے منعقد کر رہا ہے ۔اور ان جلسوں میں مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کا حلف اٹھایا جا رہا ہے ۔مسلم لڑکیوں کو دھوکہ دے کر ان کی زندگی تباہ کرنے کے طریقہ بتائے جا رہے ہیں ۔اور یہ اتنے موثر طریقے ہیں کہ اس سے مسلم لڑکیاں بہت تیزی کے ساتھ برباد ہو رہی ہیں لیکن نہ تو قانون کو اس کی خبر ہے اور نہ ہی خود ملی اداروں کو کی طرف سے کسی پیش قدمی کی خبر ہے ۔یعنی بے حسی نے ہر چہار طرف سے پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور ملک کے عام لوگ ایک کے بعد ایک انتخاب میں ووٹ دئے جا رہے ہیں ۔ان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ ان کے ذریعہ دئے جانے والے ووٹ سے کامیاب ہونے والے امیدوار اپنی توانائی کہاں خرچ کر رہے ہیں ۔اور جن سے وہ ووٹ لے رہے ہیں ان کی زندگی پر اس کا کوئی خاطر خواہ اثر کیوں نہیں پڑ رہا ہے ۔
(شعیب رضا فاطمی )












