تہران(ہ س)۔ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا بیان نشر کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ جمعہ کی صبح ایران کے مختلف علاقوں پر کی گئی وسیع فضائی بم باری پر اسرائیل کو ’سخت سزا‘ دی جائے گی۔ بم باری میں جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔خامنہ ای نے کہا "اسرائیل کو سخت سزا ملے گی”۔ انھوں نے تصدیق کی کہ اس اسرائیلی حملے میں متعدد ایرانی رہنما اور سائنس دان ہلاک ہوئے ہیں۔سپریم لیڈر نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر کیے گئے وسیع حملوں، جن میں جوہری مراکز اور دار الحکومت تہران بھی نشانہ بنے، ان کے سنگین نتائج ہوں گے۔ خامنہ ای نے بیان میں کہا ’اس جرم کے ذریعے صہیونی وجود نے اپنے لیے ایک تلخ اور دردناک انجام لکھ دیا ہے، اور وہ اسے ضرور بھگتے گا۔اسی دوران ایرانی مسلح افواج نے بھی اسرائیل کو ان حملوں پر’سخت رد عمل‘ کی دھمکی دی ہے۔مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے ترجمان ابو الفضل شکارچی نے کہا "ایرانی مسلح افواج اس صہیونی حملے کا ضرور جواب دیں گی۔” اْنھوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کو "بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی، اور اْسے ایرانی مسلح افواج کے شدید رد عمل کا انتظار کرنا چاہیے۔”ادھر اسرائیل نے جمعہ کی صبح اعلان کیا کہ اس نے ایران کی جوہری تنصیبات کو اس لیے نشانہ بنایا تاکہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔ ایرانی میڈیا اور عینی شاہدین نے کئی مقامات پر دھماکوں کی اطلاع دی، جن میں ملک کی مرکزی یورینیم افزودگی کی تنصیب بھی شامل ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس حملے کو "اسرائیل کی تاریخ کا فیصلہ کن لمحہ” قرار دیا۔ اْنھوں نے کہا کہ ان حملوں کا ہدف اْن ایرانی سائنس دانوں اور میزائل فیکٹریوں کو بھی نشانہ بنانا ہے جو جوہری بم کی تیاری میں مصروف ہیں، اور یہ کارروائی کئی دن جاری رہے گی۔اسرائیل نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے پیشِ نظر ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے، جس میں میزائل اور ڈرون حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔












