اس میں دو رائے نہیں کہ کانگریس لیڈرراہل گاندھی کی’’ بھارت جوڑو‘‘ یاترا بے حد جوش وخروش کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے جو کہ اب تک 2800کلومیڑکا سفر طے کرچکی ہے ۔دہلی میں اپنے پڑائو کے بعد وہ آگے کا سفر 3جنوری کو شروع کرے گی ۔دو دن قبل راہل گاندھی نے دہلی کے لال قلعہ کے پس منظر سے جو کچھ کہا وہ بظاہر حقیقت پر مبنی ہے ۔دیکھنا ہے کہ شدت پسند جماعتیں اور فرقہ پرست ٹولے اس کو کتنا تسلیم کریں اور کتنا مسترد کرتے ہیں ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ راہل گاندھی کو ایسا کیوں کہنا پڑ رہا ہے اوران کے جواب میں مخالف گروپ کے پاس کہنے کے لئے کیا کچھ ہے ۔اگر راہل کا کہنا غلط ہے تو اس کے جواب میں کوئی مستند اور معقول بات سامنے ضرور آنا چاہئے تھی ۔لیکن اس کی کاٹ شروع ہو گئی ہے ۔دیکھا یہ گیا کہ جب راہل اپنی اسپیچ لال قلعہ سے دیکر فارغ ہوئے تو بی جے پی کے لیڈر روی شنکر پرساد نے مورچہ سنبھالا اور انہوںنے کانگریس پر اپنا غصہ اتار لیا ۔اپنے رد عمل میں انہوںنے یاترا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یاترا میں بھارت کو توڑنے والے کیوں شامل تھے اور کیسے شامل ہوئے؟۔یعنی ان کے اعتراض کا مطلب یہی تھا کہ بی جے پی کو راہل گاندھی کی یاترا میں بھارت کو توڑنے والے نظر آئے!۔یہ بات بڑی حیران کن ہے کہ راہل گاندھی جو چیخ چیخ کر دو ماہ کے سفر میں یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کا مقصد ملک میں بھائی چارہ اور اتحاد قائم کرنا ہے ،مخالفین اس کو بھارت توڑنے والا بتا کر رہے ہیں؟۔اس لئے اس کا امکان کم ہی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس کے ملک کو جوڑنے والے پیغام کو آسانی سے قبول کرے اور وہ اس کو ہضم ہوجائے۔بلکہ اب تو یہ اندازہ ہونے لگا ہے کہ حکمراں جماعت بی جے پی کانگریس کی ریلی کی کامیابی سے بے حد خائف ہے کہ اس کے لیڈر ایک بار پھر اپنے زعفرانی چولے میں سرگرم ہوگئے ہیں۔ اور اشتعال انگیز بیانات دے کر ریلی کے مقاصد کو آلودہ کرنے میں لگ گئے ہیں!۔ بھوپال سے ممبر پارلیمنٹ پرگیہ ٹھاکر کے متنازع بیانات سامنے آئے ہیں جو کافی چونکانے والے ہیں۔ایک جلسہ میں پرگیہ کھلے عام کہہ رہی ہیں کہ لوگ گھروں میں ہتھیار رکھیں ۔سیاسی مبصرین پرگیہ کے بیان کو راہل کے خطاب سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ان کا الزام ہے کہ یہ بیان کانگریس کے حوصلوں کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے دیا گیا ہے کیونکہ کانگریس کی ریلی کی کامیاب ہورہی ہے۔بہر کیف،راہل کی ریلی سے لوگ کیا ترغیب لینگے اور اس کو کس نگاہ سے دیکھیں گے ،باہمی بھائی چارہ کومضبوط کرنے میں وہ کیا رول ادا کریں گے ،اس سے قطع نظر اتنا ضرور لگتاہے کہ بی جے پی اور اس کی حامی تنظیمیں اوراس ذہن کے لوگوں کو شاید یہ ہضم نہیں ہو رہا ہے اور وہ اس کی کاٹ کرنے میں دن ورات مصروف عمل ہیں!۔امکان کم ہی لگتا ہے کہ شدت پسند جماعتیں راہل گاندھی کے اتحاد والے مشن کو کامیاب ہونے دیں یا اس کی تعریف میں کوئی لفظ سننے تیار ہو سکیں!۔اس لئے سوال یہ اٹھتا ہے کہ بھارت جوڑو یاترا کانگریس کو اپنے مقصد میں کتنی کامیابی دلا پائے گی ،اگر ایسا ہے تو یہ بے حد افسوسناک ہے۔یہ فیصلہ ملک کے عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کس کا ساتھ دینگے ،نفرت پھیلانے والوں کا یا پھر محبت سے جوڑنے والوں کا؟۔
راہل گاندھی کا کہناہے انہیں تین ہزار کلومیٹر کے سفر میں کوئی بھی آپس میں لڑتا یا نفرت کرتانظر نہیں آیا۔پورے بھارت میں کہیں بھی لوگوں میں نااتفاقی ، فساد و تشدد یا مارپیٹ جیسی کوئی چیز نہیں ملی،لیکن ٹی وی چینلوں پرصرف ہندو مسلم ہی ملے گا۔جو ملک میں نفرت کی بڑی وجہ ہے ۔یہ لوگوں کے دھیان کو بھٹکانے کا بڑا ہتھیار ہے ۔بلا شبہ راہل نے جو کچھ کہا وہ آنکھیں کھولنے والا ہے۔لیکن اس سے بی جے پی کے پیٹ میں درد ہونے لگا ہے ، اور وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہی ! عوام کو اس چال سے چوکنا رہنا ہوگا کہ وہ توڑنے کے بجائے لوگوں کو جوڑے رکھنے کی بات کریں ،اتحاد کی قندیلیں جلائیں اور کسی کی باتوں میں نہ آئیں۔کیونکہ ملک کو بڑی محنت سے آزادی ملی ہے ،یہ آزادی کہیں اور نہیں ،کہ کثیر مذہب کے لوگ محبت کے ساتھ ملک میں رہ رہے ہیں اور ہزاروںسال سے یہ محبت قائم ہے۔ راہل اگر جوڑنے کی بات کررہے ہیں تو بی جے پی اس کو ملیا میٹ کرنے میں لگی ہے ؟ایسا لگتا ہے کہ دو گروپ اپنے اپنے مشن میں لگے ہیں ،ایک محبت کا چراغ جلانا چاہتا ہے تو دوسرا نفرت کے خار بچھانے پر بضد ہے !۔
ضروری ہے کہ وزیر اعظم مودی سماج کو توڑنے کی کوشش کے الزام میں ایم پی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے خلاف سخت ایکشن لیں اور ان کے خلاف ماحول بگاڑنے اور نفرت پھیلانے والی دفعات لگا کر مقدمہ درج کراکر گرفتاری کرائیں۔












